مالی سال 2014-15 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری 42.3 فیصد کم رہی

مالی سال 2014-15 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری 42.3 فیصد کم رہی

  

 کراچی(اکنامک رپورٹر) حکومت کی جانب سے ملک میں سازگار ماحول اور معاون پالیسیوں کے ذریعے غیرملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے تمام دعوے دھرے رہ گئے ہیں مالی سال 2014-15کے دوران غیرملکی سرمایہ کاری مالی سال 2013-14کے مقابلے میں 42.3فیصد تک کم رہی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 58.2فیصد کمی واقع ہوئی ہے غیرملکی سرمایہ کاروں نے سیمنٹ، فارما سیوٹیکل، میٹل پروڈکٹس، انفارمیشن ٹیکنالوجی سے سرمایہ کاری نکال لی جبکہ تیل و گیس کی تلاش، کمیونی کیشن اور فنانشل سیکٹر جیسے اہم شعبوں میں بھی غیرملکی سرمایہ کاری میں غیرمعمولی کمی واقع ہوئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق جاری کردہ اعدادوشمار حکومت کی جانب سے غیرملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے تمام دعوؤں کی نفی کررہے ہیں۔ چین کی جانب سے پاکستان میں کی جانے والی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی اب تک سرکاری ریکارڈ پر نہ آسکی ملک میں بجلی کے بحران اور امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے سے اجتناب کررہے ہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2014۔15کے دوران پاکستان میں مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری 42.3فیصد کمی سے 2.561ارب ڈالر رہی گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری کی مالیت 4.436ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔ گزشتہ مالی سال کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 58.2فیصد کمی سے 70کروڑ 93لاکھ ڈالر تک محدود رہی جبکہ مالی سال 2013۔14کے دوران 1.698ارب ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ گزشتہ مالی سال کے دوران پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں 48.5فیصد اضافہ سے 92کروڑ 46لاکھ ڈالر رہی فارن پبلک انویسٹمنٹ 56.2 فیصد کمی سے 92کروڑ 71لاکھ ڈالر رہی۔ فارن پرائیوٹ سرمایہ کاری 29.6فیصد کمی سے 1.633ارب ڈالر رہی جو مالی سال 2013۔14کے دوران 2.321ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔

مالی سال 2014۔15کے دوران غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش تیل و گیس کی تلاش، کمیونی کیشن اور فنانشل بزنس جیسے شعبوں میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 2013۔14کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی تیل و گیس کی تلاش کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری 50کروڑ 20لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 24کروڑ 81لاکھ ڈالر رہی۔

، ٹیلی کام اور آئی ٹی کے شعبوں میں مجموعی سرمایہ کاری 43کروڑ 42 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 10کروڑ ڈالر تک محدود رہی، فنانشل سیکٹر میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 19کروڑ 28 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 11کروڑ 24لاکھ ڈالر رہی۔ سیمنٹ سیکٹر میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 3کروڑ 66لاکھ ڈالر کے مقابلے میں منفی 21کروڑ 95لاکھ ڈالر رہی، فارما سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاری ایک کروڑ 57لاکھ ڈالر کے مقابلے میں منفی 4کروڑ 72لاکھ ڈالر رہی، میٹل پراڈکٹس میں سرمایہ کاری 86 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں منفی 5کروڑ 52لاکھ ڈالر رہی پاور سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاری 7کروڑ 14لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 12کروڑ 70لاکھ ڈالر رہی جس میں سے 2کروڑ 27لاکھ ڈالر تھرمل، 9کروڑ 63لاکھ ڈالر ہائیڈل جبکہ 81لاکھ ڈالر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں انویسٹ کیے گئے۔ ٹرانسپورٹ اورآٹو سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاری 5کروڑ 31لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 5کروڑ 61لاکھ ڈالر رہی۔

مزید :

کامرس -