اخوان المسلمون کے 198کارکنوں کے مقدمات فوجی عدالتوں کے سپرد

اخوان المسلمون کے 198کارکنوں کے مقدمات فوجی عدالتوں کے سپرد

  

قاہرہ (کے پی آئی)مصر کے پبلک پراسیکیوٹر نے کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون سے تعلق کے الزام میں گرفتار 198 کارکنوں کے مقدمات فوجی عدالتوں کے سپرد کردیے ہیں۔ مذکورہ دو سو اخوانیوں پر الجیزہ اور الغربیہ گورنریوں میں دہشت گردی اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ مصر کے صدر فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے ایک سال قبل عدالتی نظام سے متعلق قوانین میں ترامیم کرتے ہوئے سرکاری تنصیبات پر حملوں اور کار سرکار میں مداخلت کے مرتکب افراد کے مقدمات بھی سول کے بجائے فوجی عدالتوں میں نمٹانے کی منظوری دی تھی۔یہ قانون 2013 میں مصر میں اخوان المسلمون کے ایک سال دور حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں پھوٹنے والے ہنگاموں پر قابو میں لانے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔ جولائی 2013 میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد اخوان اوران کے حامیوں نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع کردیے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران توڑپھوڑ کے واقعات بھی رونما ہوتے رہے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق مصر کے قائم مقام پبلک پراسیکیوٹر علی عمران کا کہنا ہے کہ ملک میں احتجاجی مظاہروں کے دوران مختلف کارروائیوں میں ملوث اخوان کے 198کارکنوں کے مقدمات فوجی عدالتوں کو بھجوا دیے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ان 198 میں سے 90 ملزمان کو حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ باقی مفرور ہیں۔ حراست میں لیے گئے اخوانیوں کے قبضے سے آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی ضبط کیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد نے 64 مختلف جرائم کا اعتراف کیا ہے۔

جن میں ریلوے لائنوں پر بارودی سرنگوں کی تنصیب، بجلی کی لائنوں کوتباہ کرنے اور موبائل فون ٹاورز کو دھماکوں سے اڑانے جیسی کارروائیاں شامل ہیں۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں میں مصرمیں جاری ٹرائل کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مقدمات نمٹانے اور سزائیں دینے کے پس پردہ سیاسی محرکات پر سخت تنبیہ کی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کی معمولی نوعیت کے الزامات کے تحت قائم کیے گئے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں لے جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

مزید :

عالمی منظر -