بیرون ملک مقیم پاکستانی مثبت رویوں سے وطن عزیز کی عزت میں اضافہ کرتے ہیں

بیرون ملک مقیم پاکستانی مثبت رویوں سے وطن عزیز کی عزت میں اضافہ کرتے ہیں

  

طارق شیخ جنوبی افریقہ میں کافی عرصہ پہلے روز گار کے لئے آیا بہت سارے دوسرے پاکستانیوں کی طرح اس کی آنکھوں میں بھی مستقبل کے سنہرے خواب تھے دن رات کی محنت اور لگن۔اورآج شیخ طارق کاجنوبی افریقہ کے نمایاں کاروباری لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔بیرون ملک جہاں پاکستانی قیمتی زرمبادلہ اپنے وطن بھیجتے ہیں وہاں وہ اپنے مثبت رویوں سے اپنے وطن کی عزت و ناموس میں اضافہ بھی کرتے ہیں ایسے پاکستانی محب وطن ہیں جن پہ ہم سب کو فخر ہو سکتا ہے۔خوش قسمتی سے جنوبی افریقہ میں ایسے محب وطن سیدھے راستے پر چلنے والے پاکستانیوں کی کمی نہیں ہے۔سارے کے سارے خواب پورے ہوئے کہ نہیں اس سے قطع نظر یہ امر واضح ہے۔ کہ ہم سب بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کے خواب اللہ تعالیٰ نے اپنی جناب سے پورے کر دئے ہیں،جنوبی افریقہ کی طلسماتی دنیا میں یہاں کے رہنے والے پاکستانیوں کا ایک دیرینہ خواب پورا ہو گیاطارق شیخ نے آج پاکستان ہائی کمیشن پریٹوریا میں سفیر پاکستان نجم الثاقب کے دست مبارک سے پہلا مشین ریڈایبل پاسپورٹ جاری کیا۔ہم سب جانتے ہیں کہ نومبر2015 کے بعد مینوئل پاسپورٹ اپنا استعمال اور حیثیت چھوڑ دیں گے،لہذٰا ہر پاکستانی کو مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ بنوانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے،طارق شیخ کیساتھ چار خوش قسمت پاکستانی اور بھی تھے۔ریڈ ایبل پاسپورٹ بنوانے کیلئے 13 گھنٹے کا ہوائی جہاز کا سفر کر کے پاکستان نہ جانا پڑااور آج ان کو یہ بھی سہولت میسر آ گئی،روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے سفیر پاکستان نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کو بنیاد بنا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کمیشن کیلئے اس سہولت کا اجرا جنوبی افریقہ سے ہونا باعث مسرت ہے،انہوں نے کہا کہ یہ کثیر پاکستانی کمیونٹی کے اس دیرینہ مسئلے کا حل اپنے سامنے دیکھتے ہوئے ان کو جو خوشی ہو رہی ہے وہ بیان سے باہر ہے،انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ اس سہولت کے میسر آنے میں کسی قسم کاکریڈٹ ان کو نہیں چاہئیے،اس مشکل شے کو سہل کرنے میں ہر ایک متعلقہ شخص نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے اور ویسے بھی نیکی اور بھلائی کے کاموں میں یہ بات اہم نہیں ہوتی۔گفتگو کے دوران سفیرپاکستان نے جنوبی افریقہ میں رہنے والے ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں بیرون ملک بسنے والے پاکستانی ہیں۔ان کے جائز مسائل حل کرنا ہمار ا فرض ہے،پوچھنے پر رہنمائی کرنا ہمارا فرض ہے،دکھ اور تکلیف میں احساس کرنا ہمارا فرض ہے،سفارت خانے کے دروازے عید،شب برات،اتوار ہر وقت کھلے رہتے ہیں اگر کسی پاکستانی بھائی کو کوئی بھی ایمرجنسی پیش ہو ۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے دو طرفہ سفارتی ،سیاسی،عسکری،تجارتی اور سماجی تعلقات میں بڑھاوے کے ساتھ ساتھ یہاں پر بسنے والے پاکستانی بھاؤں کے جائز مسائل حل کرنے میں کوشاں رہتا ہے۔محنت رنگ لاتی ہے،دیانت داری سے کی ہوئی محنت قوس قزاح کو جنم دیتی ہے،۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان سفارتی تعلقات 1994ء میں استعوار ہوئے لگ بھگ 21 برسوں میں ہم نے وہ اچھے کام یا تعلقات میں بڑھاوا نہ دیکھا جو ان دنوں ہم دیکھ رہے ہیں اور اپنے ملک پر ناز کرتے ہیں،پچھلے 21 برسوں میں پہلی دفعہ ہوا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف یہاں سرکاری دورے پر آئے اور یہاں کی عسکری قایدت سے دو طرفہ دفاعی امور پر ملاقاتیں کیں اور تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔اس طرح تاریخ میں پہلی مرتبہ اریل 2015 میں وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر بھی سرکاری دورے پر جنوبی افریقہ آئے۔یہ سفیر پاکستان ہی تھے جنہوں نے وفاقی وزیر کے دورے کے موقع پر درخواست کی تھی کہ جنوبی افریقہ میں ریڈ ایبل پاسپورٹ کا قیام ضروری ہو گیا ہے۔وفاقی وزیر نے اجتماع میں سب کے سامنے یہ وعدہ کیا تھا کہ اسلام آباد پہنچتے ہی اس سلسلے میں ساری رکاوٹیں دور کریں گے،روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے راشد بشیر سیالنے ان تمام ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو کسی بھی حکومت کے منفی پہلوؤں پر ہی نظر رکھتے ہیں کہ ان جگہوں ،ان علاقوں ،ان لوگوں، ان وزیروں، ان سرکاری افسروں اور ان محب وطن پاکستانیوں کو ھی دیکھیے جو کریڈٹ کی پرواہ کیے بغیر اپنے ملک اور اس کے باسیوں کی فلاح بہبود میں دن رات کام کر رہے ہیں۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں ہم منفی کاموں رد کرنے میں پہل کرتے ہیں وہاں مثبت کاموں پر بھی دل کھول کر تعریف کرنا تو بنتا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -