گزشتہ مالی سال کے دوران ملک معیشت کا انحصار غیر ملکی قرضوں پر رہا ،برآمدات میں کمی ہوئی ،سٹیٹ بینک

گزشتہ مالی سال کے دوران ملک معیشت کا انحصار غیر ملکی قرضوں پر رہا ،برآمدات ...

  

 اسلام آباد ( آئی این پی )ا سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ملکی معیشت کا انحصار غیر ملکی قرضوں پر رہا ، برآمدات میں کمی ہوئی ، شرح نمو 5.1 فیصد کے مقابلے میں 4.24 فیصد رہی جبکہ زراعت اور صنعت کے شعبوں کی شرح نمو میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی آئی ، جولائی 2014ء تا مارچ 2015ء کے دوران ایف آر ٹیکس وصولیوں میں اضافہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.2 فیصد کم رہا ، مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 3.8 فیصد رہا جبکہ حکومتی اخراجات میں 8.3 فیصد اضافہ ، رپورٹ میں معیشت کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔ جمعرات کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پارلیمنٹ کیلئے مالی سال 2014-15 کی تیسری سہ ماہی کے دوران معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری کردی جس میں کہا گیا کہ جنوری تا مارچ کے دوران ملکی معیشت میں واضح بہتری نظر آئی ، بیرونی ذرائع سے ملنے والی رقوم سے جاری حسابات کے خسارے کو حد اعتدال میں رکھنے کیلئے حکومت کو کافی مدد ملی ، بالخصوص سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات میں مسلسل اضافے نے ملکی معیشت کو کافی سہارا دیا ۔ امریکہ سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی مدد میں اتحادی سپورٹ فنڈ کی اچھی وصولیاں ہوئیں جبکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہونیوالی کمی نے معیشت کو کافی فائدہ دیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر دو گنا سے بھی زائد بڑھ گئے جو تین ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہیں ۔ اس کے نتیجے مین روپے کی قدر بھی کافی مستحکم رہی ۔ سٹیٹ بینک نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے سے مہنگائی کے صارفی اعشاریے میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ۔ جولائی 2014ء تا مارچ 2015ء کے دوران مذکورہ بالا خارجی و داخلی عوامل کے نتیجے میں مالیاتی خسارہ گزشتہ سال کے 3.9 فیصد کے مقابلے میں 3.8 فیصد رہا ، ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولیوں کی مد میں 12.7 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا تاہم یہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ٹیکس وصولیوں میں 17.9 فیصد اضافے کے مقابلے میں 5.2 فیصد کم تھا ۔ گزشتہ مالی سال کے 9 ماہ میں حکومت کے مجموعی اخراجات میں 8.3 فیصد ہوا تھا جولائی 2014ء تا مارچ 2015 کے دوران حکومت نے سٹیٹ بینک سے 674.4 ارب روپے کا قرضہ واپس کیا جبکہ اس دوران بینکوں کی جانب سے نجی شعبے کو قرضوں کا اجراء 5.5 فیصد بڑھا ، سٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 2014-15ء کے ودران جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 4.24 فیصد رہی جو 2008ء کے بعد سے زیادہ ہے تاہم حکومت نے گزشتہ مالی سال کے لئے 5.1 فیصد کا ہدف ہوگا مقرر کیا تھا ۔ زرعی شعبے مالی سال کیلئے 5.1 فیصد کا ہدف مقرر کیا تھا ۔ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد ، صنعتی شعبے ( لارج سکیل مینوفیکچرنگ ) کی شرح نمو 2.5 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 5 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 5 فیصد رہی جو مالی سال 2013-14ء کے دوران بالترتیب 2.7 فیصد 4.6 فیصد اور 4.4 فیصد رہی تھی ۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ملکی معیشت کا زیادہ تر انحصار غیر ملکی قرضوں پررہا جو کہ اچھی علامت نہیں جبکہ برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -