نیب کی بدعنوانی ختم کرنے کی کوششیں قابل قدر ہیں ،اس کے ساتھ ہیں ،سپریم کورٹ

نیب کی بدعنوانی ختم کرنے کی کوششیں قابل قدر ہیں ،اس کے ساتھ ہیں ،سپریم کورٹ

  

 اسلام آباد(آن لائن )سپریم کور ٹ نے ایک سو پچاس میگا کرپشن کیس میں جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ چیئرمین نیب کی جانب سے بدعنوانی کوختم کرنے کی کوششوں کی قدرکرتے ہیں بدعنوانی کے خلاف کوششوں میں عدالت بھی ان کے ساتھ ہے کیونکہ بد عنوانی کا خاتمہ صرف نیب کا نہیں بلکہ سارے ملک اور اداروں کا مشترکہ ہدف ہے۔بد عنوانی کو ختم کرنا ہی ہو گا اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں،ہم ایک طرف کشکول اٹھائے پھرتے ہیں اور دوسری طرف رو ز کرپشن کا نیا کیس سامنے آ جاتا ہے۔ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے غلام بن چکے ہیں۔وہ لوگ تو اسلام آباد نہیں آتے لیکن ہم بلانے پر فورا دبئی چلے جاتے ہیں۔ہمارے سامنے گرے ٹریفیکنگ کے 70 ارب،ریلوے اراضی 160کروڑور اوگرا کی83 ارب کی بدعنوانی سامنے آ چکی ہے یہ معاملے تو عدالت میں ہیں باہر اور بھی کچھ ہو رہا ہے انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روزدیے ہیں جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے دوشہ ڈیم اور ڈی ایچ اے کی تعمیر ایک ہی اراضی پر ہونے پر وفاق اور پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا سماعت شروع ہوئی تو265 ارب روپے کی وصولیوں سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کر دی اس موقع پر عدالت کا کہنا تھا کہ وہ اس رپورٹ کا جائزہ لے گی اور آئندہ سماعت پر اس رپورٹ کے بارے میں بات کی جائے گی۔جسٹس جواد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بد عنوانی کا خاتمہ صرف نیب کا نہیں بلکہ سارے ملک اور اداروں کا مشترکہ ہدف ہے،،بد عنوانی کو ختم کرنا ہی ہو گا اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں اگر وہ کوششیں کر رہے ہیں تو اس کی قدر کرتے ہیں مگر کوشش نظر بھی آنی چاہیے،،ہم ایک طرف کشکول اٹھائے پھرتے ہیں اور دوسری طرف رو ز کرپشن کا نیا کیس سامنے آ جاتا ہے،ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے غلام بن چکے ہیں،وہ لوگ تو اسلام آباد نہیں آتے لیکن ہم بلانے پر فورا دبئی چلے جاتے ہیں، جسٹس جواد نے استفسار کیا کہ نیب بتائے کہ ان منصوبوں کے کے مکمل نہ ہونے پر کہا ں تک کاروائی کی گئی ہے ڈپٹی پراسیکوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ اسی سال میں اس کیس کی انکوائی مکمل ہو جائے گی بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 23جولائی تک کے لیے ملتوی کردی

مزید :

صفحہ اول -