کیا ایران ڈیل کے بعد امریکہ کے مشرق وسطٰی تعلقات میں تبدیلی آئے گی ؟

کیا ایران ڈیل کے بعد امریکہ کے مشرق وسطٰی تعلقات میں تبدیلی آئے گی ؟

  

 واشنگٹن(اظہرزمان،خصوصی رپورٹ)14جولائی کو وی آنامیں چھ عالمی طاقتوں امریکہ،برطانیہ،روس،فرانس،چین اورجرمنی اورایک عالمی ادارے یورپین یونین کے ساتھ ایران کا اپنے ایٹمی پروگرام پر جو جامع معاہدہ ہوا ہے اس کے اثرات پوری عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے لیکن سب سے زیادہ مشرق وسطیٰ کا خطہ ہوگا۔ ڈیل کے بعد ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی آئے گی؟اس سوال کا جواب یقیناًہاں میں ہے۔ جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے تو یہ تبدیلی اس وقت ہی شروع ہو چکی تھی جب ایران ڈیل ہونے کے آثارپیدا ہو رہے تھے۔ تاہم تبدیلی کی ان لہروں میں ایک خاص قسم کی پیچیدگی نظرآتی ہے جب خاص طورپر امریکہ کے ایران، اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیں۔ ایران ڈیل پر سب سے زیادہ پریشانی اسرائیل کو ہو ئی ہے جس نے ڈیل ہونے کے آثار نظرآنے پر امریکہ اور ایران کے خلاف جومنفی پراپیگنڈہ شروع کیا تھا وہ ڈیل ہونے کے بعد اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ صدر اوبامہ کی پالیسیوں سے اسرائیل کی موجودہ حکومت اورخصوصاً وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو جو شدید اختلافات ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں جس کا مرکزی نکتہ ایران ہی ہے۔ امریکی کانگریس اوبامہ مخالف ری پبلکن ارکان کو وائٹ ہاؤس کے خلاف ابھارنے کا کام اسرائیلی وزیراعظم نے حکومت کی مرضی کے برعکس کیپٹل ہل میں پہنچ کرکیااورواپس جا کر بھی آج کے دن تک ان کے لفظی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سچ ہے کہ صدر اوبامہ نے چھ سالہ دوراقتدارمیں اسرائیل کی فلسطین اور ایران کے بارے میں پالیسیوں کو خریدنے سے صاف انکار کئے رکھا ہے۔ تاہم امریکہ کا جمہوری نظام ایسا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو امریکی عوام اور کانگریس کو اپنی پالیسیوں کا جو از فراہم کرنا ہوتاہے۔حکومت اسرائیل کے بارے میں جو رویہ اپناتی ہے تو اسے اسرائیل کی حامی لابی کو بھی مطمئن کرنا ہوتاہے جس کی اچھی خاصی تعداد امریکہ میں موجود ہے۔اسی لئے ڈپلومیسی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل مخالف راہ پر چلتے ہوئے بھی اسرائیل کو کبھی چھوڑا نہیں ہے۔اسرائیل اور سعودی عرب کے زخموں کو مندمل کرنے کے لئے صدراوبامہ اپنے وزیردفاع ایش کارٹر کو خصوصی مشن پر اگلے ہفتے ان ممالک کے دورے پر بھیج رہے ہیں۔امریکہ کے اندر اورمشرق وسطیٰ میں خصوصاً یہ تاثرپایاجاتاہے کہ صدربارک اوبامہ (جن کے نام کا پہلا حصہ مسلمانوں والا ہے) مسلمان ہیں یا پھر مسلمانوں کے ساتھ اپنے دل میں گہری ہمدردی رکھتے ہیں۔اس کا ایک ثبوت یہ دیاجاتاہے کہ کوئی امریکی صدر آج تک فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں اتنا آگے نہیں گیا کہ اسرائیل کو ناراض کرلے۔یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن اسرائیل کو ساتھ رکھنا بھی امریکی مفادات کے تحت بہت ضروری ہے۔ تازہ اطلاعات یہ بھی ملی ہیں کہ ایران ڈیل کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو فوجی امدادمیں بھی اضافے کی پیشکش کی ہے جس کی تفصیل امریکی وزیر دفاع اسرائیل پہنچ کر بیان کریں گے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مفاہمت کی دستاویز کے مطابق امریکہ2018ء تک ہر سال اسرائیل کو تین ارب ڈالرکی امدا د فراہم کر رہا ہے اوراسرائیل اس کا زیادہ حصہ فوجی ساز و سامان کی خریدپرصرف کرتاہے۔اسرائیل اب مطالبہ کر رہا ہے کہ آئندہ دس برس تک اس کی سالانہ امداد ساڑھے چارارب ڈالر تک بڑھادے ۔امریکی وزیر دفاع شاید اتنی امداد بڑھانے کا وعدہ نہ کریں لیکن وہ اسرائیل کو رام کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ اضافہ ضرور کریں گے۔امریکہ کے ایران کے ساتھ تعلقات کا معاملہ زیادہ دلچسپ ہے۔ جس وقت وی آنامیں ڈیل پر تازہ مذاکرات جاری تھے اس وقت تک ایران کے مذہبی اور سیاسی رہنما اپنے عوام کے سامنے بدستور امریکہ کو ’’عظیم شیطان‘‘ بنا کرپیش کر رہے تھے لیکن جونہی ڈیل کا اعلان ہو ا تو ایسا نظرآیا جیسے ایران نے امریکہ کو اپنے ساتھ کھڑا کرکے تو پوں کا رخ اسرائیل کے خلاف کر دیا۔ ایرانی عوام خوشی سے جو سڑکوں پر نکل آئے تو وہ اسے اسرائیل کے خلاف اپنی کامیابی قراردے رہے تھے۔پورے ایران میں کہیں نہ کہیں امریکہ کے لئے نرم گوشہ ضرور محسوس ہونا شروع ہو گیا۔امریکہ کی طرف سے وائٹ ہاؤس میں صدر اوبامہ نے سب سے پہلے اپنی تقریرمیں معاہدہ ہونے کا اعلان کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کے تمام ٹی وی چینلز نے اس تقریر کو براہ راست لائیو دکھایاجس کا ساتھ ساتھ فارسی ترجمہ بھی پیش کیا جا رہا تھا۔مزید یہ کہ ایرانی صدرحسن روحانی نے اپنی قوم سے خطاب کرنے کے لئے صدراوبامہ کی تقریر کا انتظارکیا اور اس تقریر کے تھوڑی دیر بعد اپنی تقریرکی۔ صدراوبامہ نے جہاں اس معاہدے کو اپنی کامیابی قرار دیا وہاں انہوں نے ایران کے بارے میں جو کچھ کہا اس کا اندازمصالحانہ تھا۔ معاہدہ کرنے کی ایک دلیل دیتے ہوئے صدر اوبامہ نے تھوڑی سخت بات کی کہ چونکہ ایران ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے اس لئے اس معاہدے کے باعث اس کے اس کردارمیں کمی آئے گی۔یہ عجیب بات ہے کہ ایرانی قیادت اورمیڈیا نے صدراوبامہ کی تقریر کے اس حصے کو ’’ڈاؤن پلے‘‘کیا۔یقیناًصدراوبامہ نے اسرائیلی لابی کو مطمئن کرنے کے لئے یہ اضافہ کیا جن کا موقف یہ ہے کہ معاہدے کی وجہ سے ایران کو اقتصادی پابندیوں کے اٹھنے سے جو سرمایہ ملے گا وہ شام کے صدر،یمن کے حوثی قبائل اور حزب اللہ سمیت امریکہ مخالف عناصر کی مدد کے لئے کام آئے گا۔صدراوبامہ نے اس تقریر میں ایران پر یہ الزام لگایا کہ شام اوریمن میں خصوصاً وہ جس انداز سے مداخلت کر رہا ہے وہ ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ کے زمرے میں آتی ہے اور یقین ظاہر کیا کہ اقتصادی پابندیاں اٹھنے کے بعد ایران اس طرف جانے کی بجائے مثبت کردار ادا کرے گا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ایرانی قیادت اور عوام نے صدر اوبامہ کا یہ الزام اپنے ٹی وی چینلوں پر فارسی زبان میں ترجمے کے ساتھ سنا۔لیکن ان کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی۔ مطلب یہ کہ خلاف معمول ایرانی مطاہروں میں امریکہ مردہ باد کی بجائے اسرائیل مردہ باد کے نعرے ہی لگے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سعودی عرب کے خدشات بھی ہیں اور یمن میں دونوں ممالک کی پراکسی وار جاری ہے تاہم اس نے سرکاری طورپرمعاہدے کا خیرمقدم ہی کیا ہے۔ اس کے یقیناًتحفظات ہیں لیکن وہ امریکہ سے تعلقات کو بھی قائم دائم رکھتا ہے۔امریکی وزیر دفاع سعودی عرب جا رہے ہیں جہاں وہ یہی بتائیں گے کہ ڈیل کے بعد مشرق وسطیٰ میں امن کی صورتحال بہتر ہوگی اور ایران سعودی عرب کے لئے خطرے کا باعث نہیں بنے گا۔

مزید :

صفحہ اول -