پنجاب بارکونسل کا اجلاس مری میں طلب کرنے پرتنازع

پنجاب بارکونسل کا اجلاس مری میں طلب کرنے پرتنازع

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پنجاب بارکونسل کا اجلاس عام لاہور کی بجائے مری میں طلب کرنے پرتنازع پیدا ہو گیاہے، پنجاب بار کونسل میں حزب اختلاف کے 28ممبروں نے مری میں اجلاس عام کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیاجبکہ وائس چیئرپرسن فرح اعجاز نے اپوزیشن ممبروں کی تنقیدغیرضروری قرار دیدی۔پنجاب بار کونسل کی طرف سے جنرل ہاؤس 25جولائی کو لاہور کی بجائے مری میں طلب کیا گیا ہے،پنجاب بار کی اپوزیشن کے ممبروں کاموقف ہے کہ نوجوان وکلاء کی فیسوں کے پیسوں پر کسی کو بھی عیاشی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ممبر پنجاب بار کونسل حافظ انصار الحق نے کہا ہے کہ وائس چیئرپرسن فرح اعجاز بیگ نے بار کونسل کا جنرل ہاؤس مری میں بلانے کا مقصدصرف ممبروں کو ٹی اے ڈی کی مد میں پیسوں سے نوازنا اورسیر سپاٹاہے، فرح اعجاز بیگ پہلے دن سے ہی پنجاب بار کونسل کو صحیح طریقے سے نہیں چلا رہی ہیں، نوجوان وکلاء کی فیسوں سے اکٹھے ہونے والے پیسے پر عیاشی کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہیں، اپوزیشن ممبروں کی تنقید کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے وائس چیئرپرسن فرح اعجاز بیگ نے کہا ہے کہ اپوزیشن ممبروں کو سیاست کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی ایشو چاہیے ہوتا ہے، مری میں جنرل ہاؤس بلانے پر تنقید بلاجواز ہے، ان لوگوں نے پہلے بھی سانحہ ڈسکہ پر منہ کی کھائی اور اب بھی منہ کی ہی کھائیں گے، انہوں نے کہا کہ مری میں جنرل ہاؤس پر بار کے فنڈ سے کوئی خرچ نہیں آئے گا، مری اور راولپنڈی کے ممبرز بارکونسل مری میں اجلاس کے میزبان ہیں اور زیادہ تر رقم وہی خرچ کر رہے ہیں اس لئے مری میں جنر ل ہاؤس پر تنقید بلاجواز ہے ۔

مری اجلاس

مزید :

صفحہ آخر -