اب ریحام خان کی ڈگری

اب ریحام خان کی ڈگری
 اب ریحام خان کی ڈگری

  

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی خبر کے مطابق ریحام خان کا تعلیمی ریکارڈ بوگس ہے۔ اس خبر پر یقینی طور پر عمران خان نے چونک کر ریحام خان کی طرف دیکھا ہوگا اور بے اختیار ان کے منہ سے نکلا ہوگا کہYou too Reham?

جواب میں یقینی طور پر ریحام خان نے اسے "سیاسی بات"قرار دے کر ٹال دیا ہوگا اور عمران خان اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ہوں گے!

سچی بات یہ ہے کہ ہم نے پہلی مرتبہ پی ٹی آئی کے حامیوں میں مایوسی دیکھی ہے وگرنہ اس سے قبل تو پی ٹی آئی کے خلاف ہر الزام پر ایک عجب طرح کا ہیجان برپا ہوجاتا تھا اور تبدیلی کی داعی اس جماعت کے حامی سوشل میڈیا پر وہ غل غپاڑہ مچاتے تھے کہ بڑے بڑے جملے باز بھی کانوں کو ہاتھ لگاتے نظر آتے تھے!

ریحام خان کے تعلیمی ریکارڈ کے بوگس ہونے کی خبر پر بہترین تبصرہ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کیا ہے کہ ریحام بھابھی سپن ماسٹر ہیں اور گگلی کے علاوہ "دوسرا"کرنے میں بھی ماہر ہیں۔واسع جلیل ایک قدم آگے بڑھے اور ٹویٹ کیا کہ جس کی بیوی جھوٹی اس کا بھی بڑا نام ہے ، جبکہ سوشل میڈیا پر ایک اور خوبصورت جملہ گردش کر رہا ہے کہ بھابھی بھابی ہوتی ہے ، سچی ہو یا جھوٹی!

ایک دن پہلے ہم نے ایک ایم پی اے صاحب سے پوچھا کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں وہ نون لیگ اور پی ٹی آئی کی پوزیشن کیسی دیکھتے ہیں تو بولے کہ عام تاثر یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کی جیت کا تناسب ستر اور تیس فیصد ہوگا، میرے خیال میں یہ تناست اسی اور بیس فیصد ہونا چاہئے اور اگر ریحام خان ان کے ساتھ رہی تو یہ تناست نوے اور دس فیصد بھی ہو سکتا ہے!

اگر عمران خان نے ریحام خان کی ڈگری کو میڈیا پر پیش نہ کیا تو پی ٹی آئی کے لئے آنے والے دنوں میں مزید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی نہیں یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ رشتہ ہونے کے موقع پر لڑکے والے لڑکی کی ڈگری کی تصدیق شدہ کاپی کا مطالبہ بھی کیا کریں گے تاکہ شادی کے بعد ایسی سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑے جس کا آج کل عمران خان کو ہے۔

دیکھا جائے تو ریحام خان شعیب شیخ سے دو ہاتھ آگے ثابت ہوئی ہیں کیونکہ شعیب شیخ بھی جعلی اداروں کا جھانسہ دے کر ڈگریاں دیتے تھے جبکہ ریحام خان نے اصلی یونیورسٹی سے ایک ایسے شعبے میں ڈگری لی ہے جس کا متعلقہ یونیورسٹی میں سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ شاید انہوں نے ایسا اس لئے کیا ہے کہ آج کل پاکستان سے باہر کی ڈگریاں دکھانے کا فیشن عام ہے ، اسے بھی تیزی سے ترقی کرنے کا ایک کارگر طریقہ سمجھا جاتا ہے!

یقین جانئے اب تو جی چاہتا ہے کہ آکسفورڈ والوں سے عمران خان کی ڈگری کی تصدیق بھی کروائی جائے، یہی نہیں بلکہ جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی اور اعظم سواتی کی ڈگریوں کی تصدیق کا مطالبہ کرنے کو دل کر رہا ہے۔ عمران خان ایک بودی سی دلیل لے کر آئے ہیں کہ ریحام خان کی ڈگری جعلی ہوتی تو بی بی سی والے اسے نوکری نہ دیتے ۔ سوال یہ ہے کہ بی بی سی والوں نے کون سا ریحام خان کو چیف ایگزیکٹو بھرتی کرنا تھا، آجا کر تو وہاں بس موسم کا حال ہی بتاتی تھیں جس کی ڈگری بھی ان کے پاس نہ تھی!ویسے بھی اس کام کے لئے ڈگری کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔

عمران خان کو سمجھنا چاہئے کہ ان کے مداحین کی بڑی تعداد پاکستان سے باہر مقیم ہے ، ان کے لئے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ثابت کرنا مشکل نہیں ہے ، اس لئے اس معاملے پر مٹی نہیں ڈالی جا سکتی ، ہم پاکستان کی باگ ڈور ایک ایسے جوڑے کے ہاتھ میں نہیں تھماسکتے جن کی ڈگریاں بوگس اور باتیں سیاسی ہوں، لیکن اگر اس کے باوجود ریحام خان پاکستان کی فرسٹ لیڈی بننا چاہتی ہیں تو جھوٹ پکڑنے والی مشین کے سامنے بیٹھ کر اپنے ماضی کی روداد سنائیں وگرنہ ان کا جھوٹ پکڑا گیا ہے جو ایک بدنما داغ کی صورت میں ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔

مزید :

کالم -