اس قبیلے کی تمام خواتین کی ناک اس طرح عجیب و غریب کیوں ہیں؟ حقیقت جان کر آپ کانپ جائیں گے

اس قبیلے کی تمام خواتین کی ناک اس طرح عجیب و غریب کیوں ہیں؟ حقیقت جان کر آپ ...
اس قبیلے کی تمام خواتین کی ناک اس طرح عجیب و غریب کیوں ہیں؟ حقیقت جان کر آپ کانپ جائیں گے

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) ہر خطے کی خواتین اپنے حسن و جمال کو دوبالا کرنے کیلئے زیورات استعمال کرتی ہیں لیکن بھارت میں ایک ایسا قبیلہ بھی پایا جاتا ہے کہ جس کی خواتین کے حسن کو چھپانے کیلئے ان کی ناک میں ایک بدنما زیور پیوست کردیا جاتا تھا۔یہ خواتین ریاست اروناچل پردیش کے دور دراز علاقے زائرویلی کے اپاتانی قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں، جنہیں تانی بھی کہا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:وہ انوکھا قبیلہ جہاں شوہر کی موت پر بیگم کے اعضاء کاٹ دیے جاتے ہیں

اس قبیلے پر ماضی میں اردگرد کے قبائل کثرت سے حملے کرتے تھے اور ان حملوں کے دوران قبیلے کی خوبصورت عورتوں کو اغواء کرلیا جاتا تھا۔ قبیلے کے سردار نے اس مسئلے کا یہ حل نکالا کہ سب خوبصورت خواتین کا حلیہ بدصورت بنادیا جائے تاکہ حملہ آور انہیں اغواء کرکے نہ لے جائیں۔ اس فیصلے کے بعد قبیلے میں روایت شروع ہوگئی کہ جیسے ہی کسی خوبصورت لڑکی کی بلوغت کا آغاز ہوتا اس کے ناک کی دونوں اطراف چھید کر اس میں بڑے بڑے سیاہ کوکے ڈال دئیے جاتے ہیں۔ ان بھدے کوکوں کی وجہ سے خواتین کی شکل بھیانک لگنے لگتی تھی، اور اس پر مزید اہتمام یہ کیا جاتا تھا کہ ماتھے سے ٹھوڑی تک لمبی کالی لکیر بھی کھینچ دی جاتی تھی۔ قبیلے کی خوبرو خواتین کو اپنی اچھی صورت کا یہ نتیجہ دیکھنا پڑتا تھا اور یہ رواج 1970ء تک جاری رہا۔

قبیلے کی جدید نسل اس رسم سے نجات پاچکی ہے اور اب صرف بڑی بوڑھیاں کالے کوکے پہنے نظر آتی ہیں۔ یہ قبیلہ چاول کی کاشت کرتا ہے اور انہیں کھیتوں میں کھڑے پانی میں مچھلیاں بھی پالتا ہے۔ ان کا مذہب سورج اور چاند کی پرستش ہے، جسے دونی پولو (دونی یعنی سورج، اور پولو یعنی چاند) کہا جاتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -