وہ پودا جسے’’ساس جیسا پودا‘‘ کہا جاتا ہے؟ کس خصوصیت کی وجہ سے یہ نام دیا گیا؟ جان کر آپ تمام شوہر خوشی سے جھوم اٹھیں گے

وہ پودا جسے’’ساس جیسا پودا‘‘ کہا جاتا ہے؟ کس خصوصیت کی وجہ سے یہ نام دیا ...
وہ پودا جسے’’ساس جیسا پودا‘‘ کہا جاتا ہے؟ کس خصوصیت کی وجہ سے یہ نام دیا گیا؟ جان کر آپ تمام شوہر خوشی سے جھوم اٹھیں گے

  

لاہور (نیوز ڈیسک) دنیا میں رنگ رنگ کے پودے پائے جاتے ہیں اور ان کے طرح طرح کے نام ہیں لیکن ایک پودا ایسابھی ہے جس کانام ’’ساس جیسا پودا‘‘ (mother-in-law plant) ہے۔ اب بھلا کسی پودے کو ساس جیسا کیوں قرار دے دیا گیا؟ اور یہ کون سا پودا ہے اور کہاں پایا جاتا ہے؟

مزید پڑھیں:صرف نو دن تک مسلسل ناریل پینے سے آپ کے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے ؟جان کر آپ آزمائے بغیر نہ رہ سکیں گے

یہ منفرد پودا ڈیفن بیکیا (Dieffenbachia) ہے جس کا اصل وطن میکسیکو، ویسٹ انڈیز اور ارجنٹینا جیسے ممالک ہیں۔ اس کے ابتدائی نام کی بجائے اب یہ ہر جگہ ’’ساس جیسے پودے‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس دلچسپ نام کی وجہ اس میں پائے جانے والے raphides ہیں۔ یہ کیلشیئم آگزالیٹ یا کیلشیم کاربونیٹ کے سوئیوں جیسے کرسٹل ہوتے ہیں جو جسم میں چبھ جائیں تو عارضی طور پر بولنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ جو بھی اس کے عتاب کا شکار ہوتا ہے وہ زبان بند رکھنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور چاہنے کے باوجود کچھ نہیں بول پاتا۔

آسٹریا کے سائنسدان ہنرک ولہلم نے اس کی خصوصی خوبیاں دریافت کیں جس کے بعد اس کا دلچسپ نام پڑگیا اور اب ہر جگہ اسے ’’ساس جیسا پودا‘‘ کہا جاتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -