قندیل نے سکیورٹی مانگی تھی،حکومت نے انکار کردیا تھا

قندیل نے سکیورٹی مانگی تھی،حکومت نے انکار کردیا تھا
قندیل نے سکیورٹی مانگی تھی،حکومت نے انکار کردیا تھا

  

ملتان (مانیٹرنگ ڈیسک)سوشل میڈیاسے شہرت پانے والی ماڈل قندیل بلوچ بارہا قتل کئے جانے کی دھمکیوںکا ذکرکرچکی تھیں ۔انہوں نے وفاقی وزارت داخلہ سے بھی تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی تاہم حکومت کی جانب سے ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

29جون کو میں قندیل بلوچ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاتھا کہ ”میں جو کرتی ہیں سب کے سامنے کرتی ہوں کسی سے کچھ چھپاتی نہیں پھر بھی مجھ پر تنقید کی جارہی ہے“۔انہوں نے کہا تھا کہ” مجھے بار بار قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں وزارت داخلہ مجھے سکیورٹی فراہم کرے“۔جس پر وزارت داخلہ نے ان کو سکیورٹی فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔اس سے پہلے قندیل نے سکیورٹی کیلئے باقاعدہ درخواست بھی بھجوائی تھی۔جس میں قندیل بلوچ نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی شناختی دستاویزات سوشل میڈیا کے ذریعے عام کرنے والوں کیخلاف بھی کارروائی کی جائے۔ قندیل کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔ انھیں دھمکی آمیز فون کالز آ رہی ہیں۔

قندیل کی درخواست پر وزارت داخلہ کا کہنا تھا قندیل بلوچ نے جن وجوہات پر سکیورٹی مانگی وہ زیادہ اہم نہیں ۔ قندیل بلوچ اپنی سکیورٹی کے لیے متعلقہ تھانے سے رجوع کریں۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر تنازعات کا شکار رہنے والی قندیل بلوچ کو  ان کے بھائی نے غیرت کے نام پر گلا دباکر قتل کردیا ہے۔

مزید :

لاہور -