ہم تشدد اور نفرت کے خلاف متحد ہیں ٗیورپی یونین

ہم تشدد اور نفرت کے خلاف متحد ہیں ٗیورپی یونین

  

برسلز /نیویارک /لندن (این این آئی)دنیا بھر کے رہنماؤں نے فرانس کے قومی دن کی تقریبات پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل کی گھڑی میں فرانسیسی حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں جبکہ امریکہ نے فرانس کو حملے میں تعاون کی پیشکش کر دی ۔ غیر ملکی میڈیاکے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے نیس حملے میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دیا اور فرانس کو حملے میں تعاون کی پیش کش کر دی۔ امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا کہ اس موقع پر وہ امریکہ کے دیرینہ ساتھی فرانس کے ساتھ ہیں۔برطانیہ کی نو منتخب وزیراعظم تھریسامے نے ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ٗ کینیڈین وزیراعظم نے حملے پر فرانسیسی حکومت اور عوام سے اظہار یکجہتی کی امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فرانس میں ایک اور دردناک حملہ ہو گیا ہم کب سیکھیں گے؟یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ یہ بہت تلخ حقیقت ہے کہ لوگ آزادی، برابری اور بھائی چارے کا جشن منا رہے تھے کہ اْن پر حملہ کیا گیا۔انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ یورپ اور ایشیا کے رہنما نیس کے متاثرین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

ہم تشدد اور نفرت کے خلاف متحد ہیں۔چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے کہا کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور ہمیں متاثرین سے ہمدردی ہے۔ ہم ہر طرح کی دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے۔جاپان نے نیس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔ وزیراعظم شینزو آبے نے کہا کہ ایسے حملے برداشت نہیں کیے جا سکتے اور یہ بہت ظالمانہ ہیں ٗانھوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں جاپان فرانس کے ساتھ ہے۔روس کے وزیراعظم نے فرانس سے اس خطرناک حملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ روس کے وزیراعظم دمیتری میدوی دیو نے حملے کی زد میں آنے والے افراد سے گہرے رنج کا اظہار کیا۔ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں روسی وزیراعظم نے کہا کہ میں فرانس سے اور اْن تمام افراد سے جو اس حملے میں زخمی ہوئے اور ہلاک ہونے والے خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔حملے کے بعد ہی فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ایک نیوز کانفرنس کی جس میں انھوں نے اس حملے کو دہشت گرد حملہ قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ فرانس اس وقت آبدیدہ اور غم زدہ ہے، لیکن وہ مضبوط ہے اور فرانس ان افراد کے مقابلے میں ہمیشہ مضبوط رہے گا جو آج حملہ کرنا چاہتے تھیبرطانیہ کے نئے وزیر خارجہ بورس جانسن نے بھی نیس پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ نیس میں ہونے والے انتہائی خراب واقعے اور خوفناک طریقے سے زندگیوں کے ضیاع پر انھیں صدمہ اور افسوس ہے۔بلجیم کے نائب وزیر اعظم ڈیڈیئر رینڈرز نے کہا کہ ’میں اپنے ملک کی طرف سے اپنے فرانسیسی ساتھیوں سے اظہارِ افسوس اور اظہارِ ہمدردی کرتا ہوں۔جرمنی کی چانسلر انجیلاا میرکل اور فرانس کے وزیر خارجہ ڑاں مارک منگولیا میں ہونے والی ایشیا یورپ میٹنگ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کرنے گئے ہیں جہاں ان رہنماؤں نے نیس کے متاثرین کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ تشدد کے واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے ہلاک شدگان کے لواحقین سے بھی ہمدردی ظاہر کی ہے۔امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلٹن نے بھی اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ہولناک قرار دیا اور کہا کہ اس سے ان کا دل بیٹھ گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ بہت واضح انداز سے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے رہنا ہے ٗانھیں تنہا نہیں چھوڑنا ہے اور نیٹو سمیت ہمیں اپنے اتحادیوں کو اور مضبوطی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

عالمی منظر -