کالاباغ ڈیم ،مخالفین کو آئینہ

کالاباغ ڈیم ،مخالفین کو آئینہ
 کالاباغ ڈیم ،مخالفین کو آئینہ

  

چےئر مین واپڈا نے کالا باغ ڈیم پر حقیقت، افسانہ کی تشریح کر کے اس ڈیم کے مخالفین کو جب سے آئینہ دکھایا ہے تب سے ڈیم مخالفین اضطراب میں آگئے ہیں دلیل کے بات کرنے کی بجائے یہ فرمان جاری کر رہے ہیں کہ چےئرمین واپڈا سرکاری ملازم ہیں ان کا کام اخبارات میں کالا باغ ڈیم پر کالم لکھنے کا نہیں پیپلز پارٹی نے تو باقاعدہ قومی اسمبلی میں چےئرمین واپڈا کے خلاف تحریک التوا بھی جمع کروا دی ہے۔ایک طرف ملک کے آبی ماہرین انجینئر کالا باغ ڈیم کو مفید قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب اس کے مخالفین بغیر کسی عجلت کے یہ کہہ رہے ہیں کہ کالا باغ ڈیم بنا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔لکھ دی لعنت ان کی سوچ فکر اور اظہار پر، ہم تو اس پر یہی کہیں گے کہ ’’بندر کیا جانے ادرک کا سواد‘‘

اب آتے ہیں اس بحث کی جانب جس کے مطابق چےئرمین واپڈا ظفر محمود نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم پر حقائق سے ہٹ کر پراپیگنڈا کیا گیا ہے اور اس منصوبے کو سیاسی بنا کر متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ،بھاشا ڈیم اور تربیلا ڈیم پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے تو کالا باغ ڈیم پر کیوں نہیں ہو سکتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان انجینئرنگ کونسل میں کالا باغ ڈیم کے متعلق اخبارات میں لکھے گئے کالموں کی مرتب شدہ کتاب کی رونمائی پر کیا۔چےئرمین واپڈا نے کہا کہ میں نے کالا باغ ڈیم سے متعلق جو کالم لکھے اس کے بارے میں لوگوں کے خدشات حقائق پر مبنی نہیں۔دنیا بھر میں آبی منصوبے تنازعات کا شکار ہوتے ہیں ،پاکستان میں بھی آبی منصوبے تنازعات کا شکار ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تنازعات کو دور کرنے کے لئے مشترکہ مفادات کی کونسل کے آئینی فورم میں اتفاق رائے سے اس کا حل تلاش کیا جائے۔ان کے دلائل میں وزن ہے لہذا مخالفین دلیل کا جواب دلیل سے دیں آئیں بھائیں شائیں نہ کریں۔

اس میں شک نہیں کہ کالا باغ ڈیم کو سیاسی طور پر متنازعہ بنایا گیا اور بھارت کالا باغ ڈیم کی مخالفت کے لئے باقاعدہ سرمایہ کاری کرتا ہے کالا باغ ڈیم کی مخالفت بھارت کی سرمایہ کاری کی وجہ سے زیادہ ہوتی ہے اور اس کی مخالفت سنجیدہ حلقے حقائق سے لا علم ہونے کی بنا پر بھی کرتے ہیں۔بھاشا ڈیم بھی اسی دریا پر بن رہا ہے۔وہ فالٹ لائن پر بھی ہے کالا باغ ڈیم میں طغیانی آئے تو اس ڈیم کے مخالفین کے بقول نوشہرہ ڈوب سکتاہے ،جبکہ یہی صورت حال بھاشا ڈیم کی ہو تو آدھا خیبر پی کے ڈوب جائے گا مگر بھاشا ڈیم کی حمایت اور کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی جاتی ہے۔وجہ صرف بھارت کی لابنگ اور نادان پاکستانیوں کی گمراہی ہے۔کالا باغ ڈیم پنجاب میں ضرور بن رہا ہے مگر یہ پاکستان کا ڈیم ہو گا۔مخالفت کرنے والے ہوش کے ناخن لیں۔اس کی حمایت سابق واپڈا چےئرمین شمس الملک نے کی ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی صوبے سے تھا۔اس سے زیادہ کسی ماہرانہ رائے کی کیا ضرورت ہے کالا باغ ڈیم کو مزید لٹکانے کے بجائے اس کے مخالفین حقائق جاننے کی کوشش کریں۔

اسی طرح لاہور چیمبر آف کامرس ایبڈ انڈسٹری نے کالا باغ ڈیم کے متعلق چےئرمن واپڈا ظفر محمود کے نقطہ نظر کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بھوک،قحط تباہی پھیلانے والے سیلابوں سے بچنے اور سستی بجلی پیدا کرنے کے لئے کالا باغ ڈیم ضروری ہے۔چیمبر کے رہنماؤں نے کہا کالا باغ ڈیم قلیل مدت میں آسانی سے آپریشنل ہو سکتا ہے اور یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ کالا باغ ڈیم سے صرف ایک صوبے کو فائدہ ہو گا۔کالا باغ ڈیم ایک قومی منصوبہ اور صوبوں کے لئے یکساں فائدہ مند ہے۔دوسری جانب حکومت کی ناقص زرعی پالیسیوں کی بدولت۔ پاکستان کو گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی کپاس کی پیداوار میں خاصی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا مجموعی پیداوار میں 40 فی صد کمی کا خدشہ ہے جو گزشتہ 10 برس میں ملکی معیشت کو پہنچے والا بڑا نقصان شمار ہو گا۔تفصیلات کے مطابق اگر 23 من فی ایکڑ کے حساب سے پیداوار ہوئی تو مجموعی طور پر اس سال کپاس کی 60 لاکھ گانٹھیں پیدا ہونگیں گزشتہ برس کپاس پر کیڑوں کے حملوں اور موسم و قدرتی آفات کے باعث 40 ملین گانٹھوں کی پیداواری کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

مزید :

کالم -