فراس ٗایک قتل عام تھا ٗ ہر طرف زخمی اور لاشیں تھیں‘ عینی شاہدین

فراس ٗایک قتل عام تھا ٗ ہر طرف زخمی اور لاشیں تھیں‘ عینی شاہدین

  

نیس (این این آئی)فرانس کے جنوبی شہر نیس میں جشن آزادی کی تقریبات کے دوران تیز رفتار ٹرک نے درجنوں افراد کو کچل دیاجس کے نتیجے میں84 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے نیس میں آزادی کے جشن کے موقع آتش بازی کا مظاہرے دیکھنے والوں پر ٹرک حملے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ آتش بازی سے محظوظ ہو رہے تھے کہ اچانک افراتفری مچ گئی۔ساحل پر موجود ایک شخص نے بتایا کہ ہر کوئی شور مچا رہا تھا کہ بھاگو بھاگو۔ ہم نے فائرنگ کی آوازیں بھی سنیں ٗ پہلے تو لگا کہ یہ آتش بازی ہے کیونکہ 14 جولائی کا دن تھا ٗ بہت خوف تھا ہم بھی بھاگ رہے تھے۔

کیونکہ ہم وہاں رکنا نہیں چاہتے تھے ٗہم اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے لیے ہوٹل میں داخل ہوئے۔ایک اور عینی شاید رائے کیلے نے جس وقت یہ حادثہ پیش آیا تو وہاں ہزاروں افراد جمع تھے۔نیس میں موجود آئر لینڈ کے سیاح گیرے او ٹولی حملے کے وقت ایک ریسیورنٹ میں کھانا کھا رہے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ہر کوئی باہر دروازے کی جانب بھاگ رہا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ہم واپس مڑے اور اپنی میز کے نیچے چھپ گئے۔ ہم ساحل سے محض ایک منٹ کی مسافت پر تھے۔ مکمل افراتفری تھی ٗمجھے لگا کہ کچھ برا ہوا ہے۔ فوجی دوسری جانب بھاگ رہے تھے۔ تقریباً 15 سے 30 منٹ تک ہر کوئی بھاگتا رہا۔

مزید :

عالمی منظر -