مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندگی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندگی
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندگی

  

 1931ء میں جموں میں نماز عید کے لئے جمع مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روک دیا گیا کشمیری مسلمانوں نے اپنی مذہبی آزادی پر اس سنگین حملے کے خلاف مظاہرے شروع کر دئیے۔ عبدالقدیر نامی ایک نوجوان نے ڈوگرہ راج کے خلاف تقریر کی تو بغاوت کا مقدمہ بنا کر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ 13 جولائی 1931 ء کو عبدالقدیر کے مقدمے کی کارروائی سری نگر کی مرکزی جیل میں جاری تھی۔ لاکھوں مسلمان کارروائی دیکھنے کے لئے جیل کے باہر جمع تھے۔ جب نماز ظہر کا وقت ہوا تو ایک شخص نے اذان ظہر کے لئے ابھی اللہ اکبر کی صدا بلندہی کی تھی کہ گولی چل گئی دوسرا موذن آگیا پھر تیسرا لیکن گولی نہ رکی۔ اس بے مثال تاریخی اذان کو مکمل کرتے کرتے 22 کشمیری مسلمان شہید ہوئے۔

ظلم کا یہ سلسلہ چلتا ہی رہا اور بڑھتا ہی گیا۔ افضل گورو ایسے کئی بے گناہوں کو پھانسیوں کے پھندوں پر لٹکایا گیا۔ آج ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم و جارحیت جاری ہے۔ آٹھ لاکھ بھارتی فوج نہتے کشمیری مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ تحریک آزادی کشمیر کے متوالوں پہ گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ عید کے ایام میں مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند کمانڈر برہان مظفر وانی کو شہید کر دیا گیا۔ کئی سال گزر جانے کے باوجود آج بھی کشمیری مسلمان اپنے حق خود ارادیت کے لئے جانیں قربان کر رہے ہیں۔ شہید برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد احتجاجی مظاہروں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ شاید آزادی کے حصول تک جاری رہے گا۔ غلام محمد قاصر کے الفاظ میں:۔

برہان مظفر وانی کی شہادت سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔مظاہرین پر بھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے 37 افراد شہید اور 1500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اندھا دھند فائرنگ سے 71 نوجوان بینائی سے محروم ہو گئے ہیں۔ جگہ ہی نہیں رہی ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ ایک ایک بیڈ پر دو دو زخمی پڑے ہیں۔ یاسین ملک سمیت سینئر حریت رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروقؓ کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب انھوں نے سرینگر میں یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر کرفیو توڑتے ہوئے گھر سے نکل کر نقشبند صاحب کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔ بے گناہ کشمیر ی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں یہ سلسلہ آخر کب تک چلے گا؟ جارحیت جاری ہے کوئی روکنے والا نہیں۔ وحشت‘ سفاکیت اورفسطائیت آج مقبوضہ وادی میں ننگی ناچ رہی ہے۔ پاکستانی پرچم اُٹھائے ’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے لگاتے مظاہرین اور کشمیری مسلمان کہتے ہیں کہ کوئی بھی ہمارے ساتھ نہیں ہے سوائے پاکستان کے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دنیا مسئلہ کشمیر حل کرائے اور خطے میں امن لانے کے لئے کشمیریوں کی جد وجہدِ آزادی اور ان کی امنگوں کا احترام کرے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ بھارتی حکومت گولیوں سے کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کبھی کچل نہیں سکتی۔ بھارتی فوج کے مظالم نے آزادی کی تڑپ کو مزید جلا بخشی ہے۔ عالمی برادری کو بھارت پر کشمیر میں آگ اور خون کا یہ کھیل بند کرنے کے لئے دباؤ ڈالنا چاہیے۔ سیکرٹری جنرل ورلڈ مسلم کانگرس و چےئرمین ن لیگ سینیٹر راجہ ظفر الحق (قائد ایوان سینٹ ) فرماتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کسی قراداد کو سابق سویت یونین نے ویٹو کیا تھا۔ اقوام متحدہ میں کل 23 قراردادیں پیش کی گئی ہیں اور تمام کی تمام اتفاق رائے سے منظور بھی ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ بھارت نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی۔ محترم راجہ ظفر الحق کی یہ بات صد فیصد درست ہے لیکن سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ بھارت گزشتہ 65 سال سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے بھاگ رہا ہے اور نہ ہی کبھی اقوام متحدہ کو ہی یہ توفیق ہوئی کہ وہ اپنی پاس کردہ قراردادوں پر عمل کروائے اور انصاف امن کی بات منوا کر دکھائے۔

آج ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں ’’سیکولر‘‘ بھارت کا مکروہ اور بے نقاب چہرہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔ بھارتی افواج کا جبرو وحشت انتہاؤں پہ ہے۔ وہ معصوم جو آزادی مانگتے ہیں ان پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ و دیگر عالمی امن کے ٹھیکیدار کہاں ہیں؟۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟۔ یہ بھارت کی خام خیالی ہے کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ حق کی صدائیں دبانے سے کبھی دبی ہیں نہ دبیں گی۔ نوائے حق دبانے سے تو مزید اُبھرتی ہے اور اس میں جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے صحیح ثالث کا بھارت پہ دباؤ ڈالے۔ دو ایٹمی ممالک میں تنازع کشمیر پر اگر جنگ چھڑتی ہے تو یہ کسی کے لئے بھی اچھا نہیں ہوگا۔ امن کا محض راگ الاپنے والوں کو اس بات پہ خصوصی توجہ اور دھیان دینا ہوگا۔

مزید :

کالم -