ترکی میں فوجیوں کے گروپ کی ناکام بغاوت

ترکی میں فوجیوں کے گروپ کی ناکام بغاوت

  

ترکی میں فوجیوں کے ایک گروپ کی جانب سے بغاوت،صدر طیب اردوان کی حکومت نے عوام کے عملی تعاون سے ناکام بنا دی ہے، جو اُن کی اپیل پر ان اطلاعات کے بعد سڑکوں پر نکل آئے تھے کہ فوجیوں کے ایک گروپ نے سرکاری ٹی وی کی عمارت پر قبضہ کر کے یہ اعلان کر دیا ہے کہ اس نے ترکی میں اقتدار سنبھال لیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے بعد جلد ہی یہ واضح ہونا شروع ہو گیا تھا کہ اس بغاوت میں پوری فوج ملوث نہیں ہے۔ صدر کے وفادار ائر فورس کے افسروں نے ایف16طیاروں کے ذریعے پارلیمینٹ ہاؤس سے باہر باغی فوجیوں کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا، اس سے پہلے باغیوں نے بھی ایوانِ صدر، پارلیمینٹ ہاؤس، پولیس ہیڈ کوارٹر پر بمباری کی تھی، باغیوں کی مکمل پسپائی کے بعد صدر کو جلا وطن کرنے کی کوششیں بھی ناکام ہو گئیں، باغیوں کا عارضی قبضہ ختم کرانے کے بعد صدر طیب اردوان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام سے بڑی کوئی طاقت نہیں اور انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں آمریت پسند نہیں، پولیس، جمہوریت پسند فوج اور عوام نے ذرائع ابلاغ، ائر پورٹس اور بعض سرکاری عمارتوں کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔ صدر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں کو نہ جائیں۔ جنرل امیت اندار کو قائم مقام آرمی چیف مقرر کر دیا گیا ہے اور فوج کے سربراہ کو جنہیں باغیوں نے یرغمال بنا رکھا تھا، رہا کرا لیا گیا ہے۔تاریخ میں ترکی ایسا مُلک رہا ہے، جہاں فوج حکومتوں کا تختہ الٹنے میں کامیابی حاصل کرتی رہی ہے اور چند برس اقتدار میں رہنے کے بعد واپس چلی جاتی رہی ہے اس کی وجہ یہ رہی ہے کہ فوج کو مخصوص حالات میں سیاسی امور میں مداخلت کا آئینی حق حاصل رہا ہے،لیکن موجودہ ناکام بغاوت اِس لحاظ سے ماضی کی کامیاب فوجی بغاوتوں سے مختلف تھی کہ یہ فوج کی بطور ادارہ کارروائی نہیں تھی، فوج کے ایک مخصوص ٹولے کی کارروائی تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فتح اللہ گولن کی تحریک سے متاثر دکھائی دیتا ہے، فتح اللہ گولن خود تو امریکہ میں مقیم ہیں، لیکن ترکی میں اُن کے حامی سماجی بہبود کے پردے میں سیاست کرتے رہتے ہیں اور چند برس قبل صدر طیب اردوان کے خلاف جو اس وقت وزیراعظم تھے پُرتشدد مظاہرے کئے گئے، جنہیں حکومت نے ناکام بنا دیا۔ گولن کے اِن حامیوں کو شکایت رہی ہے کہ اردوان حکومت کی پولیس انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے اُنہیں تشدد کا نشانہ بناتی رہی ہے۔ اُن کے حامی اخبارات کو بند کیا جا رہا ہے اور اُن کی آواز کو تشدد کے ذریعے دبایا جا رہا ہے۔

گولن تحریک کے حامی سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کرتے اور تشدد کی کارروائیوں کی مذمت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک زمانے میں جب اِن کے پُرتشدد مظاہرے ترکی کے وسیع علاقے میں پھیل گئے تھے تو اُنہیں امید ہو چلی تھی کہ وہ اردوان کو اقتدار سے محروم کر دیں گے، لیکن اردوان نے جو جوابی حکمتِ عملی اختیار کی اس میں تدبر کے ساتھ ساتھ سخت گیر اقدامات بھی کئے گئے اور جہاں ضرورت تھی وہاں سختی بھی کی گئی، اگر محض تبلیغ و اصلاح کا سہارا لیا جاتا تو عین ممکن تھا اردوان ناکام ہو جاتے، لیکن وہ اس تحریک میں کامیاب رہے اور وقتی طور پر گولن کے حامیوں کو پسپا ہونا پڑا تاہم وہ حکومت مخالف پروپیگنڈے کے محاذ پر سرگرم رہے۔فوج کے اندرگولن تحریک کے اثرات موجود رہے ہیں، لیکن ایک منظم ادارے کے چند سو افسروں اور جوانوں کا اپنے طور پر یا چند سینئر افسروں کو ساتھ ملا کر کوئی اقدام کرنا کامیابی کی ضمانت نہیں ہو سکتا تھا، چنانچہ فوج کے اِن باغیوں کو فوج کے اندر ہی سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ ہوئی کہ بہادر طیب اردوان ایوانِ صدر میں دبک کر بیٹھ نہیں رہے انہوں نے جرأتِ رندانہ کا مظاہرہ کیا اور اپنے عوام کے درمیان عزم و حوصلے کی علامت بن کر کھڑے ہو گئے، عوام نے بھی جب اپنے قائد کو اپنے درمیان دیکھا تو ان کے حوصلے دو چند ہو گئے،چنانچہ تدبر، حوصلے اور جرأت کے مقابلے میں باغی اور اُن کے ٹینک پسپا ہو گئے اور اِس وقت تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حالات اردوان حکومت کے پوری طرح قابو میں ہیں۔

طیب اردوان استنبول کے میئر تھے اور بطور میئر انہوں نے جو کارنامے دکھائے عوام نے اُن سے متاثر ہو کر ان کی پارٹی کو پارلیمانی انتخابات میں کامیابی دلائی اور وہ2003ء میں پہلی مرتبہ وزیراعظم بن گئے، ترکی کے آئین کی بعض سخت گیر پابندیوں کے باوجود اردوان نے حکمت و تدبر سے کام لے کر اپنی سیاست کو آگے بڑھایا، انہوں نے فوج کے مضبوط ادارے کو ناراض نہیں کیا اور اُس کے آئینی اختیارات کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی۔ ترکی میں جو نظریات ایک عرصے سے جڑ پکڑ چکے تھے اردوان نے ان کو بھی نہیں چھیڑا، نہ کسی گروہ کی دِل آزاری کا باعث بنے، شروع شروع میں تو گولن تحریک بھی اُن کے خلاف نہیں تھی، بلکہ اُن کی مونس و مدد گار تھی،چنانچہ اُن کی جماعت دوسری اور پھر تیسری مرتبہ پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوئی اور وہ تین بار وزیراعظم بن گئے،انہوں نے آئین میں بعض ایسی ترامیم کے لئے جو جمہوریت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھیں ریفرنڈم بھی کرایا، اور جب انہوں نے محسوس کیا کہ وہ بطور صدر زیادہ بہتر خدمات انجام دے سکتے ہیں تو وہ وزیراعظم کا عہدہ چھوڑ کر صدر بن گئے اور اپنی پارٹی کے چیئرمین اوغلو کو وزیراعظم بنا دیا، جو ابھی حال ہی میں مستعفی ہوئے ہیں تو بن علی یلدرم نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا ہے۔

طیب اردوان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ آمرانہ رجحان رکھتے ہیں اور اِسی رجحان سے مغلوب ہو کر وہ وزیراعظم کا عہدہ چھوڑ کر صدر بنے ہیں اُن پر مخالفین کرپشن کے الزام بھی لگاتے رہے ہیں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے جو صدارتی محل بنایا وہ فضول خرچی ہے، ایک ہزار کمروں کے محل کی صدر کو ضرورت نہیں ہے، لیکن مخالفین کے الزامات کے علی الرغم طیب اردوان نے اپنے دور میں ترکی کو مضبوط مُلک بنایا ہے اور عالمی امور میں اس کی آواز کو زیادہ موثر انداز میں محسوس کرایا ہے۔ معیشت کو ترقی دی ہے، عوام کا معیارِ زندگی بلند کیا ہے، مخالفین تو ہر ایک کے ہوتے ہیں لیکن بغاوت کے ماحول میں عوام نے اُن کی حمایت میں جوق در جوق باہر نکل کر ثابت کیا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد نہ صرف اُن کی حامی ہے، بلکہ اُن کے لئے اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈالنے کے لئے تیار ہے۔ اگر طیب اردوان کی جانب سے اس طرح کی جرأت رندانہ کا مظاہرہ نہ ہوتا تو عوام بھی شش و پنج میں پڑے رہتے، مسلح بغاوت کو ناکام بنانے کے بعد طیب اردوان کا قد بطور لیڈر بہت بُلند ہو گیا ہے اور طویل عرصے تک برسر اقتدار رہنے کی وجہ سے کچھ لوگ اگر اُن کے چہرے سے اُکتا گئے تھے تو امید ہے اب اِس اکتاہٹ میں بھی کمی ہو گی اور مخالفین کے حوصلے بھی پست ہوں گے۔ترکی میں جو لوگ طیب اردوان اور اُن کی پالیسیوں کے مخالف ہیں اُنہیں اپنا پیغام صبرو استقامت کے ساتھ عوام تک پہنچانا چاہئے اور اپنا نقطہ نظر صراحت سے پیش کرنا چاہئے۔ عوام اگر محسوس کریں گے تو اگلے انتخابات میں طیب اردوان اور اُن کی پالیسیوں کو مسترد کر دیں گے، لیکن جن لوگوں نے بے صبری کا مظاہرہ کر کے فوجی ٹولے کے ذریعے طیب اردوان کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی انہوں نے اچھی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ نہیں کیا، اب ناکام بغاوت کے بعد اُن کی کامیابی کے امکانات اگر معدوم نہیں تو محدود ضرور ہو گئے ہیں، ترکی کی ناکام بغاوت کا سبق یہ ہے کہ عوام کو اپنے نظریات سے متاثر کرنے کی کوشش کی جائے اور انہی کی مدد سے اقتدار حاصل کیا جائے، بے صبری کا مظاہرہ کر کے اگر فوج کو مداخلت کی دعوت دی جائے گی تو منزل قریب آنے کی بجائے دور بھی جا سکتی ہے۔

مزید :

اداریہ -