جعلی، غیر معیاری ادویات

جعلی، غیر معیاری ادویات

  

حکومت پنجاب نے ادویات کے سپلائی آرڈر، خریداری، ہسپتالوں کو فراہمی، سٹاک اور مریضوں میں تقسیم کے سارے مراحل کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ہیلتھ کیئر سیکٹر کو بہتر بنانے کے اقدامات پر غور اور متعدد فیصلے کئے گئے، انہی میں ادویات کی آمد اور تقسیم کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ اس موقعہ پر وزیراعلیٰ نے بجا کہا کہ جعلی اور غیر معیاری ادویات تیار اور فروخت کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں اور ان کو معاف نہیں کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے جو بھی اقدامات کئے اور جن کے بارے میں حکم دیا وہ اپنی جگہ درست ہیں۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ ادویات جعلی اور غیر معیاری تیار ہوتی اور بکتی ہیں اس سے انسانوں کے صحت یاب ہونے کی بجائے مزید امراض میں مبتلا ہونے اور اموات کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔ یوں یہ انسانیت ہی سے دشمنی ہے،لیکن سوال تو یہ ہے کہ ان برائیوں کی روک تھام کے لئے جو شعبے اور محکمے بنائے گئے اور جو کام کر رہے ہیں ان کی کارکردگی کیا ہے اور یہ انسانیت کے دشمن ان کے ہوتے ہوئے کس طرح ایسی ادویات بنا کر فروخت کر لیتے ہیں؟ شکایات عام ہیں کہ جو ادویات قیمتی یا پھر مشہور ہوتی ہیں وہ جعلی تیار کر کے فروخت کی جاتی ہیں، اِسی طرح غیر معیاری ادویات تیار ہوتی ہیں، جعلی ادویات تو مافیا تیار کرتا اور فروخت کرتا ہے، جبکہ غیر معیاری ادویات تو فیکٹریوں میں تیار ہوتی ہیں، محکمہ صحت کے پاس ڈرگ ٹیسٹ لیبارٹری ہے اس کے باوجود یہ کاروبار جاری ہے تو عملے کی ملی بھگت شامل ہو گی اس کا سدِ باب بھی ضروری ہے۔اب اگر وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا اور یہ سارا نظام تقسیم و خرید کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ مفید ہے کہ اس سے نقص ملنے پر فوراً پتہ چل جائے گا کہ دوا کہاں سے آئی اور تقسیم ہوئی یوں کارروائی آسان ہو گی، لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ اصل کام تو جعل سازوں کو پکڑنا اور غیر معیاری ادویات کی تیاری کو روکنا ہے۔ توقع ہے کہ وزیراعلیٰ کی دلچسپی سے متعلقہ حکام خبردار ہوں گے اور اب بہتر نگرانی اور پڑتال سے جعلی اور غیر معیاری ادویات تیار کرنے والے قابو کر لئے جائیں گے۔

مزید :

اداریہ -