ترکی میں ناکام بغاوت: اسباب وسوالات

ترکی میں ناکام بغاوت: اسباب وسوالات
ترکی میں ناکام بغاوت: اسباب وسوالات

  

ترکی میں ایک محدود فوجی گروپ کی طرف سے بغاوت ناکام بنادی گئی۔ ہمارے بعض اخبارات نے کاپی پریس میں جانے کے باعث ابتدائی خبر کو بنیاد بنا کر بغاوت کی کامیابی بھی ظاہر کردی اور سیاسی قیادت کی گرفتاری کا اعلان بھی جاری کردیا۔ بعد میں یہ عقدہ کھل گیا کہ فوج نے بطور ادارہ طیب اردوان کی جمہوری حکومت کے خلاف بغاوت نہیں کی، بلکہ ایک محدود تعداد کے باغی فوجیوں نے حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش تیار کی تھی، جسے عوام کی طاقت سے ناکام بنا دیا گیا۔ابھی تک تو یہ بات سامنے نہیں آسکی کہ باغی گروپ نے تختہ اُلٹنے کی کوشش کیوں کی، تاہم یہ افوا ہیں گردش کرتی رہیں کہ باغی گروپ کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ یہ حمایت کس ذریعے اور کس حوالے سے اس گروپ کو حاصل ہوئی، اس بارے میں خاموشی ہے۔خود ترک صدر طیب اردوان نے اعلان کیا کہ بغاوت کو حکومت، عوام اور جمہوریت پسند فوج نے ناکام بنادیا ہے۔ ترکی میں ہونے والی اس بغاوت نے پوری دنیا کو حیران کر دیا، کیونکہ اس وقت ترکی بڑی طاقتوں کو للکار رہا ہے اور ہر جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، ایسے میں یہ ممکن نہیں کہ ترک آرمی حکومت کی پشت پر کھڑی نہ ہو۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ طیب اردوان جیسا مردِآہن،جسے عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہے، فوج پر اپنی گرفت کے حوالے سے غافل یا کمزور ہو۔

اہم بات یہ نہیں کہ بغاوت ناکام ہو گئی،اہم ترین بات یہ ہے کہ بغاوت ہوئی کیوں؟ آخر کوئی تو ایسا ایشو ہونا چاہیے، جس کی وجہ سے کہا جائے کہ فوج میں طیب اردوان کے خلاف رد عمل نے جنم لیا۔ اسلامی ممالک میں ایسی بغاوتیں عموماً اسلام پسندوں کی طرف سے ہوتی ہیں، لیکن طیب اردوان تو خود اسلام کی برتری کے سب سے بڑے علمبردار ہیں اور انہوں نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دنیا بھر کی بڑی طاقتوں کو ہمیشہ تنبیہ کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک سے باز رہیں۔ وہ پہلے سربراہ مملکت ہیں، جنہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پانچ ممالک کو ساڑھے پانچ ارب انسانوں کی تقدیر کے فیصلے کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے خلاف ترک فوج بغاوت کیوں کرے گی؟ اس سوال کا جواب نہیں مل رہا۔ یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ترک فوج جیسے منظم ادارے میں ایک باغی گروپ کیسے پروان چڑھا اور ترک انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اس کی خبر کیوں نہ ہو سکی؟ یہ بغاوت معمولی نوعیت کی نہیں تھی، اس میں ٹینک بھی استعمال ہوئے، گن شپ اسلحہ اور ایف 16طیارے بھی گویا اسے چند نچلے درجے کے افسروں کی کارروائی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ راز تو اب آہستہ آہستہ ہی کھلے گا کہ اس بغاوت کے پیچھے اصل مقاصد ،اصل کہانی اور اصل لوگ کون تھے؟ لیکن یہ حقیقت پوری دنیا دیکھ چکی ہے کہ طیب اردوان ترک عوام کے محبوب ترین لیڈر ہیں،وہ ان پر جان چھڑکتے ہیں، اردوان ترکی میں جمہوریت کی علامت ہیں، انہوں نے عوام کی طاقت کو بیدار کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ فوجی بغاوت کے ذریعے جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو ترک عوام سڑکوں پر نکل آئے، ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے اور فوجی باغیوں کو مار مار کر ادھ موا کرتے رہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ طیب اردوان اپنی جرأت مندی، اسلام دوستی اور مسلم دنیا کی بھرپور تر جمانی کے باعث امریکہ کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔ اس بغاوت کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ امریکہ نے اس بغاوت کے فوری بعد جورد عمل ظاہر کیا، اس میں فوجی بغاوت کی مذمت نہیں کی، بلکہ یہ امید ظاہر کی کہ ترکی میں امن قائم رہے گا۔ گویا امریکہ نے جمہوریت پر امن کو ترجیح دی، حالانکہ اس کا عمومی معیار اس سے مختلف ہے اور وہ دنیا بھر میں جمہوریت کا محافظ بنتا ہے۔۔۔ اگر تو یہ واقعی طیب اردوان کی منتخب جمہوری حکومت کو ختم کرنے کی سازش تھی تو ترکی کے عوام نے اپنا رد عمل ظاہر کر کے سب کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ ترکی کو دوسرا مصر نہیں بننے دیں گے۔ خود فوجی قیادت نے بھی اس مرحلے میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہوکر اس ابہام کو ختم کردیا ہے کہ ترکی میں فوج پھر کسی پرانی تاریخ کو دہرائے گی یا نہیں۔ اسی بغاوت کے بعد صدر طیب اردوان، جو پہلے ہی ایک عالمی رہنما کا مرتبہ حاصل کر چکے ہیں، مردِ بحران بن کر اُبھرے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ان کی شخصیت ایک طاقت ور مسلم رہنما کے طور پر سامنے آئی ہے۔

ایک تاثر یہ بھی ہے کہ ترکی کے لبرل کمیونسٹ اور سوشلسٹ حلقے طیب اردوان کی اسلام پسند پالیسیوں کے خلاف ہیں اور یہ بغاوت فوج میں موجود اسی طبقے نے کی ہے، لیکن اس حوالے سے کوئی مضبوط شواہدسامنے نہیں آئے۔ طیب اردوان نے اسلام پسندی کے باوجود ترک معاشرے کو روائتی مذہبی معاشرے میں تبدیل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ ترکی کی معاشرت آج بھی لبرل ہے اور ایسا کوئی حربہ اختیار نہیں کیا گیا جو طیب اردوان یاکمال اتاترک کے نظریات کو مد مقابل لاسکے۔ کچھ لوگوں کی رائے یہ بھی ہے کہ طیب اردوان نے اسلامی عسکریت پسندوں کے ساتھ ہمدردی اور دہشت گردی کے خلاف جو موقف اپنا رکھا ہے، اس کے تضاد کی وجہ سے ترکی میں بے چینی پائی جاتی ہے۔حالیہ دنوں میں ترکی کے اندر دہشت گردی کے جو واقعات ہوئے ہیں، ان کی وجہ سے بھی طیب اردوان پر تنقید ہوئی ہے۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ترک عوام اب جمہوریت کے سوا کچھ اور نہیں چاہتے اور انہیں طیب اردوان کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس بغاوت کے بعد لاکھوں ترک عوام استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے جمہوریت کو بچالیا۔

اب آتے ہیں تصور کے اس دوسرے رخ کی طرف جو سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے،جس میں اس رائے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ بغاوت کا یہ ڈرامہ طے شدہ منصوبے کے تحت سٹیج کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد دنیا کو یہ باور کرانا تھا کہ ترکی میں اب کسی غیر آئینی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ عوام اب ایسی کسی تبدیلی کو برداشت نہیں کریں گے۔ ترک عوام کو معلوم نہیں تھا کہ یہ ایک سکرپٹ ڈرامہ ہے، البتہ ان باغی فوجیوں کو ضرور علم تھا کہ اس کا مقصد کیا ہے اور انہیں کس طرح اپنا کردار ادا کرنا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اس بغاوت میں صرف فوجی عوام کے ہاتھوں زخمی ہوئے، عوام کی جانیں نہیں گئیں۔ فوجی جن ٹینکوں پر بیٹھ کر اقتدار پر قبضے کے لئے آئے، جب عوام ان کے آگے لیٹے تو وہ انہیں چھوڑ کر بھاگ گئے، حالانکہ مصر کی بغاوت میں فوج نے جو کچھ کیا تھا، وہ سب نے دیکھا۔۔۔ اتنی بڑی خونریزی حالیہ تاریخ میں کہیں نہیں ہوئی تھی۔ پھر یہ بات بھی بعیداز قیاس نظر آتی ہیں کہ فوج کے سپہ سالار اور جرنیل ایک طرف ہوں اور جونیئر رینک کے افسران یونٹوں سے ٹینک بھی نکال لائیں اور ہوائی اڈوں سے ایف۔16 بھی اُڑالیں، پھر یہ کام اتنے منظم انداز سے کریں کہ فوجی قیادت اور حکومت کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ یہ تو فلمی انداز کی الف لیلوی داستان نظر آتی ہے، جسے انقرہ اور استنبول کی سڑکوں پر سٹیج کیا گیا ہو۔طیب اردوان لاکھوں کے مجمع سے بھی خطاب کرتے تو انہیں ایسی طاقت میسر نہ آتی جو اس ناکام بغاوت کے بعد ملی ہے۔ ترک عوام کا جمہوریت اور طیب اردوان کے لئے سر پر کفن باندھ کر سامنے آنا صرف اسی صورت میں ممکن تھا کہ فوج اپنے ٹینکوں سمیت سامنے آ جاتی۔ سویہ واقعہ ہوا اور اس نے بڑی کامیابی سے کئی گھنٹے تک دنیا کو اپنی گرفت میں لئے رکھا۔ معاملہ چاہے کچھ بھی ہو، دنیا کو یہ پیغام مل گیا ہے کہ طیب اردوان کی پالیسیوں کو ترک عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے، اس لئے کسی طالع آزما کو مہم جوئی کی جرأت نہیں کرنی چاہیے۔

مزید :

کالم -