گوروں کے دیس میں شاہینوں کی اونچی اڑران،قومی کھلاڑیوں نے آغاز میں ہی عمدہ پرفارمنس سے دل جیت لئے

گوروں کے دیس میں شاہینوں کی اونچی اڑران،قومی کھلاڑیوں نے آغاز میں ہی عمدہ ...

  

پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لئے عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کررہی ہے اور ایک طویل عرصہ کے بعد جس طرح سے پاکستان کی ٹیم نے عمدہ کھیل پیش کیا اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے خاص طو پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے اپنی برتری ثابت کی اور ایک طویل عرصہ کے بعد لارڈز کی کرکٹ گراؤنڈ میں سنچری سکور کرکے جو کارنامہ سر انجام دیا اس کو مدتوں یاد رکھا جائے گا کپتان مصباح الحق نے اب تک اپنے کھیل سے ہمیشہ کی شائقین کو محظوظ کیا ہے لیکن گوروں کی سر زمین پر انہوں نے جس طرح سے اعتماد اور بہادری کے ساتھ بیٹنگ کی اور انگلش باؤلرز کا جم کر مقابلہ کیا اس طرح انہوں نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی کھلاڑی کسی بھی سر زمین پر عمدہ کھیل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے جس طرح عمدہ پرفارمن س دی اور ریکارڈ قائم کیا اسی طرح باؤلنگ کے شعبہ میں سپنر یاسر شاہ نے بھی اپنی برتری کو ثابت کیا اور جس طرح سے انہوں پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا انہوں نے یہ کارنامہ بیس سا ل کے بعد لارڈز کی تاریخی گراؤنڈپر سر انجام دیا اس سے قبل پاکستانی سپنر مشتاق احمد نے یہ کارنامہ سر انجام دیا تھا جب انہوں نے اسی گراؤنڈ پر پانچ وکٹیں اپنے نام کیں تھیں اور جس طرح سے پاکستان کی ٹیم نے آغاز میں ہی عمدہ پرفارمنس دی اور جس طرح سے حریف ٹیم کو دباؤ میں رکھا ہے وہ قابل تعریف ہے اور اس تسلسل کو اسی طرح سے اب جاری رکھنے کی ضرورت ہے دوسری طرف انگلش ٹیم نے عمدہ پرفارمنس دی ہے لیکن اس نے جس طرح پاکستان کی ٹیم نے ان کا مقابلہ کیا ہے اور فاسٹ باؤلر محمد عامر نے بغیر دباؤ کے بہترین باؤلنگ کی یہ ایک اچھا شگون ہے اور دوسری طرف انگلش شائقین نے بھی ان کے کھیل کی خوب تعریف کی اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی ٹیم اسی تسلسل سے کھیل پیش کرے او ر غیر ملکی سر زمین پر کامیابی حاصل کرے اور پاکستان کی اس کامیابی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا پاکستان ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں نے بھی عمدہ پرفارمنس دی ہے اور تمام کھلاڑیوں کو اسی طرح کھیل پیش کرنے کی ضرورت ہے انگلش ٹیم کی کوشش ہوگی کہ وہ اس سیریز میں کامیابی حاصل کر یں اورپاکستان کی ٹیم کو شکست سے دینے کی بھرپور کوشش کریں گے انگلش ٹیم اب اگلے میچوں میں کس طرح سے پاکستانی کھلاڑیوں کو قابو کرنے کی کوشش کرتی ہے اس حوالے سے اگلے میچوں میں شائقین کی دلچسپی اس لحاظ سے بڑھ گی ء ہے اور پاکستانی شائقین کی خواہش ہے کہ قومی ٹیم انگلینڈ کی ٹیم کو اس کی سر زمین پر شکست دینے میں کامیاب ہو تاکہ پاکستان ٹیم کی اس کامیابی کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جا ئے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی ٹیم نے ماضی میں عمدہ پرفارمنس دی ہے اور اب تک پاکستان نے 1952ء سے لے کر اب تک دنیا کی مختلف ٹیموں کے خلاف 395 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جن میں سے 126 جیتے،111 ہارے اور 158 میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ہی ختم ہوگئے جبکہ انگلینڈ کی ٹیم کے خلاف قومی ٹیم نے دنیا کی مختلف گراؤنڈز پر77 میچز کھیلے 18جیتے 22 ہارے اور 37 میچز ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ہی ختم ہوگئے۔ انگلینڈ کی سر زمین پر قومی ٹیم نے مجموعی طور پر 47 میچز کھیلے 9 جیتے 20 ہارے اور 18 برابر رہے۔ اس طرح انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچز میں جیت کے حوالے سے انگلینڈ کی ٹیم کو برتری حاصل ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ کپتان مصباح الحق انگلینڈ کے خلاف سب سے بہتر کپتان رہے۔ ان کی قیادت میں قومی ٹیسٹ ٹیم نے چھ ٹیسٹ میچز کھیلے 5 میں کامیابی حاصل کی اور ایک میچ ڈرا ہوا۔ اسی طرح پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیموں کے مابین موجودہ سیریز سے قبل 10 جون 1954ء سے لیکر اب تک مجموعی طور پر 23 ٹیسٹ سیریز کھیلی گئیں جن میں سے 8 ٹیسٹ سیریز پاکستان نے اور 9 ٹیسٹ سیریز انگلینڈ نے جیتیں اور 6 ٹیسٹ سیریز ڈرا ہوئیں۔ 23 ٹیسٹ سیریز میں سے 13 ٹیسٹ سیریزانگلینڈ میں ‘ 8 ٹیسٹ سیریز پاکستان میں اور 2 سیریز یو اے ای میں کھیلی گئی۔ یو اے ای میں کھیلی جانے والی دونوں سیریز پاکستان نے جیتیں۔ پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیموں کے مابین پہلا میچ 10 تا 15 جون 1954ء کو لارڈز میں کھیلا گیا جو ہار جیت کے فیصلے کے بغیر (ڈرا) ختم ہوا‘ پہلے تین دن 10 تا 12 جون کھیل نہ ہو سکا۔ دونوں ملکوں کے مابین پہلی ٹیسٹ سیریز 1954ء میں انگلینڈ میں کھیلی گئی۔ 4 میچوں پر مشتمل یہ سیریز 1۔1 سے برابر رہی۔ دوسری ٹیسٹ سیریز 1961۔62ء میں پاکستان میں کھیلی گئی ‘ 3 میچوں پر مشتمل یہ ٹیسٹ سیریز انگلینڈ نے 1۔0سے جیتی۔جبکہ اگر دیکھا جائے توپاکستان اورانگلینڈکی ٹیموں میں اب تک کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں ایک اننگزکے دوران زیادہ سے زیادہ رنزبنانے کااعزازپاکستان کے پاس ہے ۔6اگست1987ء کواوول کے مقام پرپاکستان نے انگلینڈکے خلاف220.3اووروں میں3.21کی اوسط سے 708رنزبنائے اوراسکے تمام کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔دوسرے نمبرپر29نومبر2005ء کولاہورمیں پاکستان نے انگلینڈکے خلاف156.2اووروں میں4.06کی اوسط سے 8وکٹوں کے نقصان پر636رنزبناکراننگزڈیکلیئرکردی۔تیسرے نمبرپرپاکستان نے انگلینڈکے خلاف برمنگھم میں195اووروں میں3.11کی اوسط سے7وکٹوں کے نقصان پر608رنزبناکراننگزڈیکلیئرکردی۔چوتھے نمبرپر22اگست1974ء کوپاکستان نے انگلینڈکے خلاف اوول میں7وکٹوں کے نقصان پر165.3اووروں میں3.62کی اوسط سے 600رنزبناکراننگزڈیکلیئرکردی۔اورپانچویں نمبرپر13اکتوبر2015ء کو ابوظہبی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈنے206اووروں میں9وکٹوں کے نقصان پر2.90کی اوسط سے598رنزبناکراننگزڈیکلیئرکردی۔دوسری طرفپاکستان اورانگلینڈکی ٹیموں کے مابین کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں زیادہ مارجن سے میچ جیتنے کااعزازانگلینڈکے پاس ہے،انگلینڈنے پاکستان کو8مرتبہ اورپاکستان نے انگلینڈکو3باراننگزکی شکست دی۔پہلے نمبرپر26اگست2010ء کولارڈزمیں انگلینڈنے پاکستان کوایک اننگزاور225رنزسے شکست دی۔دوسرے نمبرپریکم جولائی1954ء کوناٹنگھم میں انگلینڈنے پاکستان کوایک اننگزاور129رنزسے شکست دی۔تیسرے نمبرپر15جون1978ء کولارڈزمیں انگلینڈنے پاکستان کوایک اننگزاور120رنزسے شکست دی۔چوتھے نمبرپر27جولائی2006ء کومانچسٹرمیں انگلینڈنے پاکستان کوایک اننگزاور120رنزسے شکست دی۔پانچویں نمبرپر5جولائی1962ء کولیڈزمیں انگلینڈنے پاکستان کوایک اننگزاور117رنزسے شکست دی۔چھٹے نمبرپر29نومبر2005ء کولاہورمیں پاکستان نے انگلینڈکوایک اننگزاور100رنزسے شکست دی۔ساتویں نمبرپر25نومبر1987ء کولاہورمیں پاکستان نے انگلینڈکوایک اننگزاور87رنزسے شکست دی۔آٹھویں نمبرپریکم جون1978ء کوبرمنگھم میں انگلینڈنے پاکستان کوایک اننگزاور57رنزسے شکست دی۔نویں نمبرپر31مئی1962ء کوبرمنگھم میں انگلینڈنے پاکستان کوایک اننگزاور24رنزسے شکست دی۔دسویں نمبرپر2جولائی1987ء کولیڈزمیں پاکستان نے انگلینڈکوایک اننگزاور18رنزسے شکست دی۔گیارہویں نمبرپر17مئی2001ء کولارڈزمیں انگلینڈنے پاکستان کوایک اننگزاور9رنزسے شکست دی گئی جبکہ دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور بیٹسمین شاہد خان آفریدی کے حال ہی میں آنے والے بیان نے کرکٹ کے حلقوں میں ہلچل مچادی ہے اور اس حوالے سے نہ صرف شائقین ناراض ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سابق کرکٹرز نے بھی آفریدی کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ ہی نہیں ہے اس وقت جب وہ ٹیم کاحصہ نہیں ہیں اور انگلینڈ میں موجود ہیں ان کی طرف سے ایسا بیان نہیں آنا چاہئیے تھا جب ٹیم نے انگلش ٹیم کے خلاف کھیلنا ہے ایسے موقع پر تو ان کو کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے مگر وہ کس کے کہنے پر یہ بیان دے رہے ہیں اس حوالے سے شائقین کرکٹ کا کہنا ہے کہ آفریدی کا کیرئیر اب ختم ہوگیا ہے اور اس لئے وہ ایسے بیا ن دے رہے ہیں لیکن جب وہ خود کھیلتے تھے اور کپتان تھے تو اس وقت ان کو ایسی کوئی بات یاد نہیں تھی یہ صرف ان کی ٹیم میں شامل نہ ہونے کی ایک وجہ ہے جس کا اظہار وہ اس طرح سے کررہے ہیں لیکن یہ درست نہیں ہے آج و ہ جس مقام پر ہیں پاکستان کی بدولت ہیں اور جتنا ٹیلنٹ اس وقت پاکستان میں کرکٹ کا موجود ہے شائد ہی کسی اور ملک میں ہو ان کو یہ بات زیب نہیں دیتی ان کے اس بیان پر ان کے چاہنے والوں کو اچھا پیغام نہیں گیا اور ان کی طرف سے خود اپنی تعریف بھی شائقین کی سمجھ سے باہر ہے اور ان کو ایسے موقع پر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزا ئی کرنے کی ضرورت تھی اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ان کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان کا نوٹس لیتا ہے کہ نہیں اور ان کو اس حوالے سے اب مستقبل میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -