عمر رسیدہ جاپانی سوئمر نے عمدہ پرفارمنس سے حیرت میں ڈال دیا

عمر رسیدہ جاپانی سوئمر نے عمدہ پرفارمنس سے حیرت میں ڈال دیا

  

انسان میں جوش و جذبہ ہو تو وہ کسی بھی شعبہ میں آگے بڑھ سکتا ہے عمر کی کمی یا زیادتی کسی کی ترقی میں حائل نہیں ہوتی صرف محنت ہی سے انسان اپنی منزل حاصل کرسکتا ہے اور اب تک ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے آچکی ہیں جو اپنی جگہ حیرت کا باعث ہوتی ہیں لیکن صرف اور صرف محنت اور جوش کی بدولت ہی ان کی تکمیل ہوتی ہے پوری دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جنہوں نے جو چاہا وہ حاصل نہ کیا ہو کھیل کی دنیا میں کئی کھلاڑیوں نے ایسے ایسے کارنامے سر انجام دئیے کہ پوری دنیا کو حیران کردیا ایسا ہی ایک نام جاپان سے تعلق رکھنے والی عمر رسیدہ سوئمر کا بھی ہے جنہوں نے جب اس کھیل میں شمولیت اختیار کی ہوگی تو سوچا بھی نہ ہوگا کہ اس کھیل میں ایک ایسی عمر میں بھی وابستہ رہیں گی جس کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتی ہیں لیکن آج انہوں نے اپنی بڑھتی عمر کے بجائے اپنے حوصلے کی بدولت جو مقام حاصل کیا ہے اس کو نہ صرف وہ خود یاد ررکھیں گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے لوگ بھی اس کو یاد رکھیں گے ان کے حوصلے اس وقت بھی بہت بلند ہیں اور ان کو دیکھ کرایسا لگتا ہے کہ وہ مستقبل میں بہت آگے جائیں گی اور اس حوالے سے انہوں نے جو بھی سوچ رکھا ہے اور حخواب دیکھا ہے اس کو ضرور کریں گی اور اس حوالے سے جہاں ایک طرف دنیا کے تمام تیراک ریو اولمپکس کی تیاریوں میں مصروف ہیں، وہیں دوسری جانب جاپان کی101 سالہ خاتون کا ماننا ہے کہ وہ 2020 میں ٹوکیو میں ہونے والے اولمپکس میں ریکارڈز قائم کر سکتی ہیں۔اپنی 102 ویں سالگرہ منانے کے قریب جاپان کی میکو نگوکا نے ادھیڑ عمری میں جا کر ایسے کام کیے جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ انھوں نے 90 سال کی عمر کے قریب تیراکی شروع کی اور خبردار کیا کہ اب بھی وہ بہت کچھ کر سکتی ہیں، نگوکا نے ٹوکیو کے نواح میں جاپان ماسٹرز سوئمنگ ایسوسی ایشن کے تحت 400 میٹر فری اسٹائل تیراکی کا مقابلہ 26 منٹ اور 16.81 سیکنڈز میں مکمل کرنے کے بعد خبررساں ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں، انھوں نے کہا کہ میری صحت کا راز ٹھیک سے کھانا اورمتحرک رہنا ہے، میں 105 سال اور اس سے بھی زیادہ عمر تک تیراکی کرنا چاہتی ہوں، نگوکا نے ریس کے 80 سالہ فاتح ایٹسوکوازومی کے ٹھیک 17 منٹ بعد مقررہ فاصلہ طے کیا۔ان کے ریس مکمل کرتے ہی وہاں موجود عوام نے شور کر کے ان کی اس کوشش کو سراہا لیکن وہ سماعتوں کی خرابی کے سبب یہ آواز نہیں سن سکیں، جس وقت وہ سوئمنگ کر رہی تھیں، طبی عملہ بے چینی کے عالم میں ٹہل رہا تھا تاکہ کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کی صورت میں امداد فراہم کر سکے،101سالہ باہمت خاتون نے کہا کہ تیراکی سے مجھے خوشی ملتی ہے، جب میں تیراکی کرتی ہوں تو میں اپنی چھوٹی سی دنیا میں ہوتی ہوں، 100سے 104 سال عمر کی خواتین کی تیراکی کے 9ایونٹس میں عالمی ریکارڈ کی حامل نگوکا نے کہا کہ میں زیادہ سے زیادہ تیز تیراکی کرنا چاہتی ہوں۔میں جب تک زندہ ہوں تب تک تیراکی کرنا چاہوں گی، جاپانی خاتون 1914میں پیدا ہوئیں جب ان کا ملک اتحادی افواج کے ساتھ جنگ عظیم اول کی لڑائی میں شریک تھا، ان کے 76سالہ بیٹے ہیروئکی نے کہا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ سست پڑنا شروع ہو جاتے ہیں لیکن وہ اپنی زندگی کی نوے کی دہائی میں مزید متحریک ہوتی جا رہی تھیں اور ریکارڈ پر ریکارڈ بناتی جا رہی تھیں، انھوں نے کہا کہ زندگی سے لطف اندوز ہونا ہی ان کی طویل زندگی کا راز اور وہ اب بھی اپنے کوچ کی زیر نگرانی دن میں3مرتبہ ٹریننگ کرتی ہیں۔ ان کے اس عزائم اور بلند حوصلہ کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس کھیل میں نئے ریکا رڈ قائم کریں گی اتنی زیادو عمر میں اس سے قبل کسی خاتون تیراک نے کوئی ایسا بڑا کارنامہ سر انجام نہیں دیا ہے اور یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہے جس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -