یورو کپ 2016 ء، پرتگال نے رونالڈو کے بغیر ٹائٹل جیت کر حیران کرڈالا

یورو کپ 2016 ء، پرتگال نے رونالڈو کے بغیر ٹائٹل جیت کر حیران کرڈالا

  

یورو کپ 2016 ء فٹ بال ٹورنامنٹ حسین یادوں کے ساتھ اختتام پزیر ہوگیا اس ایونٹ میں شریک32 ٹیموں نے شائقین کے دل جیتنے کے ساتھ ساتھ اس ایونٹ کو بھی اپنے نام کرنے کی بھرپور کوشش کی اور کئی اپ سیٹ دیکھنے کو ملے لیکن بہرحال کامیابی تو کسی ایک ٹیم کے مقدر میں ہی آتی ہے اور پرتگال کی ٹیم جس کو اس مرتبہ فاتح ٹیموں کے لئے فیورٹ قرار نہیں دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے عمدہ پرفارمنس سے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی ٹیم سے کم نہیں اس ٹیم کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اور قابل تعریف بات یہ ہے کہ ٹیم کے کپتان کرسٹینو رونالڈو جو فرانس کے ساتھ فائنل میچ کے آغاز میں ہی انجری کا شکار ہوکر ٹیم سے باہر ہوگئے تھے اور اس کے باوجود ٹیم کے کھلاڑیوں نے کامیابی حاصل کی اور ان کی غیر موجودگی کے باوجود فٹبال ماہرین کا کہنا تھا کہ پرتگال کی ٹیم کے لئے میزبان فرانس کی ٹیم کو شکست دینا آسان نہیں ہوگا اور فرانس کی ٹیم جو اس سے قبل بھی اس ایونٹ کو اپنے نام کرچکی ہے اس مرتبہ بھی اس کامیابی کا سہرا پنے سر سجالے گی لیکن پرتگال کی ٹیم نے ان کی غیر موجودگی کے باوجود جس جو ش و جذبہ کا مظاہرہ کیا اس کی تعریف کی جانی چاہئیے پہلی مرتبہ یہ ایونٹ جیتنا کسی بھی ٹیم کے لئے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے او رفرانس کی ٹیم کو شکست دینا اس کی سر زمین پر بھی پرتگالی کھلاڑیوں کاایک بہت بڑاکارنامہ ہے پہلے دونو ں ہاف تک میچ برابر رہا اور ایکسٹرا ٹائم میں میچ کا فیصلہ پرتگال کے حق میں ہوا اس جیت پر جہاں پرتگالی شائقین نے جشن منایا وہی پرفرانس میں اس شکست پر صف ماتم بچھ گئی اور شائقین روتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے کسی کو یہ یقین نہ تھا کہ رونالڈو کی غیر موجودگی میں فرانسسی ٹیم کامیابی نہیں سمیٹ سکے گی اس جیت کے ساتھ ہی پرتگال کی ٹیم ورلڈ ریکنگ میں بھی بہتر پوزیشن پر براجمان ہوگئی ہے ۔پورے ٹورنامنٹ میں اگر دونوں ٹیموں کی کارکردگی دیکھی جائے تو فرانس کی ٹیم نے پرتگال کی نسبت اچھا کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن فائنل میں پرتگال کی قسمت نے اس کا بھرپور ساتھ دیا اور کامیابی اس کا مقدر بن گئی کرسٹینا رونالڈو جو اپنی ٹیم کی آخری اور اہم میں قیادت سے محروم رہ گئے تھے نے اس کامیابی کا سہرا اپنی ٹیم کے جذبہ کو قرار دیا ہے ان فٹ ہونے پر گراؤنڈ پر لیٹ کر رونے والے کرسٹینا کا کہنا ہے کہ جب وہ ان فٹ ہوئے تو اس وقت ان کا دل کررہا تھا کہ مکمل فٹ ہوکر دوبارہ کھیل میں واپس آجائیں کیونکہ میں جانتا تھا کہ مجھ سے میری ٹیم اور شائقین نے جو امیدیں لگائی ہیں میری غیر موجودگی سے ان کو بہت دکھ ہوگا اور ہماری ٹیم کے لئے جیتنا مشکل ہوجائے گا لیکن میں اس کامیابی پر اب اتنا خوش ہو کہ بیان نہیں کرسکتا دوسری طرف پرتگال کی ٹیم نے جب اپنے ملک کے دارلحکومت لزبن کا رخ کیا تو اس کا جس طرح سے استقبال کیا گیا صدارتی محل میں ان کو جس طرح سے پروٹوکول دیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی کھلاڑیوں کو کھیل پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا جس میں مقامی صدر نے بھی شرکت کی اور تمام کھلاڑیوں سے مل کر ان کو جیت کی مبارکباد دی جس کے بعد کھلاڑیوں نے ٹرک پر بیٹھ کر جس طرح سے سڑکوں کا چکر لگایا اور اس موقع پر موجود لاکھوں شائقین نے جس طرح سے ا ن کا خیر مقدم کیا اس کی بھی مثال نہیں ملتی ہے اب دو سال بعد فٹ بال ورلڈ کپ شروع ہونے والا ہے اور یورو کپ جیتنے کے بعد پرتگالی ٹیم کا اب اگلا ٹارگٹ ورلڈ کپ جیتنا ہوگا اور اس جیت سے ان کو مستقبل میں یقینی طور پر بہت فائدہ حاصل ہوگا او رجس طرح سے اب انہوں نے جیت حاصل کی ہے وہ اس تسلسل کو اسی طرح سے برقر ار رکھنے کے لئے کوشاں رہیں گے ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -