پولیس فورس کو دباؤ میں آئے بغیر میرٹ پر ڈیوٹی کرنا ہو گی ، مشتاق احمد سکھیرا

پولیس فورس کو دباؤ میں آئے بغیر میرٹ پر ڈیوٹی کرنا ہو گی ، مشتاق احمد سکھیرا

  

لا ہور (کرا ئم ر پو رٹر )اگر فورس عوام، حکومت اور محکمہ پولیس کی توقعات کے مطابق انصاف کی فراہمی اور لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے دیانتداری سے فرائض اداکرے تو عہدوں اور رینکس کے لئے سفارشوں کی ضرورت نہیں رہے گی اوریہ تمام عہدے خود آپ کو ڈھونڈیں گے۔ فورس کو اپنے مورال کو بلند رکھنا ہو گا اور صرف میرٹ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیرکام کرنا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے یلیٹ پولیس ٹریننگ سکول، بیدیاں میں منعقد ہ پولیس دربارسے خطاب کے دوران کیا۔دربار میں ایڈیشنل آئی جی آپریشنز /انوسٹی گیشنز پنجاب کیپٹن (ر) عارف نوازکے علاوہ دیگر سینےئر پولیس افسران اورپنجاب بھر سے 671انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز نے شرکت کی جن میں 400تربیت مکمل کر چکے ہیں ۔اس موقعہ پر آئی جی نے بتایا کہ محکمہ پولیس میں عوامی تحفظ کے لئے جانوں کا نذرانہ دینے والوں کے لئے شہید پیکج کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجاویز پر غور کیا جارہا ہے ۔ ٹیررزم میں جان دینے والوں کو 1کروڑجبکہ ڈاکوؤں اوردیگر مجرموں سے مقابلے کے دوران شہید ہونے والوں کے لئے 50لاکھ اور سرکاری ڈیوٹی کے دوران ایکسیڈنٹ یا کسی دوسرے طریقے سے فوت ہونے والوں کے لئے 25لاکھ روپے دینے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ آئی جی پنجاب نے فورس کو بتایا کہ ان کی سہولت کے پیشِ نظر پولیس یونیفارم کی کوالٹی کو بہتر کرنے کیلئے پہلے مرحلے پر ٹھیکہ داری نظام کو ختم کرکے براہِ راست ملزسے اعلیٰ کوالٹی کا کپڑا خریدا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں پاکستان آرمی کی یونیفارم پالیسی پنجاب پولیس میں متعارف کروائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسمی حالات کے پیش نظر وردی کا رنگ اور Patternکی تبدیلی کے لئے کام جاری ہے ،شرٹ کی جگہ بوشرٹ اور وولن ٹوپی کی بجائے کاٹن کی ٹوپی متعارف کروائی جارہی ہے۔ اس موقعہ پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو اپنے رویے اوراعصاب پر کنٹرول رکھنا ہو گا تاکہ آئندہ ماڈل ٹاؤن جیسے واقعے سے بچا جاسکے۔ اس موقعہ پر آئی جی پنجاب نے دربار میں شریک خاتون پولیس افسروں کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی آفیسر پولیس وردی پہن لیتا ہے تو پھر وہ پولیس آفیسر ہے اس میں مرد اور خاتون کی کوئی تخصیص باقی نہیں رہتی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا یونیفارم تبدیل کرنے کے پیچھے یہی منطق کارفرماہے کہ محکمے سے صنفی تفریق کو ختم کیا جا سکے۔ اس موقعہ پولیس مختلف اہلکاروں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ وہ ڈی پی اوز کو ہدایات دیں گے کہ آ ہفتے میں ایک دن کی چھٹی اور رولز کے مطابق رخصت اتفاقیہ آپ کو دی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی Fitnessپر توجہ دیں کیونکہ یہ ڈسپلنڈ فورس کی بنیادی ضرورت ہے۔

مزید :

علاقائی -