عوام کی خدمت سے قاصر جج کہیں اور چلے جائیں: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

عوام کی خدمت سے قاصر جج کہیں اور چلے جائیں: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصو ر علی شاہ نے پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ ویڈیو لنک کے ذریعے صوبہ بھر کی ماتحت عدالتوں کے ججوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو جج عوام کی خدمت نہیں کر سکتے وہ کہیں اور چلے جائیں،ججز کی اہلیت جانچنے کا نظام وضع کیا جا رہا ہے،اے سی آر کے ذریعے ججوں کی اہلیت جانچنے کا معیار ناقص اور فرسودہ ہے اس کے سہارے آگے نہیں بڑھا جا سکتا، آج کے بعد کسی جج کی شہرت پر سوال اٹھا تو وہ جج عدالت میں نہیں بیٹھے گا۔چیف جسٹس نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی سے ویڈیو لنک کے ذریعے صوبے بھر کے 36اضلاع کی ماتحت عدالتوں کے ججوں سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ضلعی عدلیہ میں ٹرانسفرز اور پروموشن پالیسی میں کوئی اقرباء پروروی نہیں چلے گی، مشکل حالات کے باوجود انصاف فراہم کرنے والے جوڈیشل افسران کو سلام پیش کرتا ہوں، پیار سے اداروں میں ترقی آتی ہے جبکہ نفرت ہمیشہ زوال کا سبب بنتی ہے۔ہر پروفیشنل جوڈیشل آفیسر میرا فیورٹ ہے، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی ہمیشہ پروفیشنلزم کو ترجیح دی۔چیف کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری بہت خوبصور ت ہے اور جوڈیشل افسران قابل تحسین ہیں جو مشکل حالات کے باوجود پبلک سروس کرتے ہیں، میں صرف عوام کی خدمت کے لئے چیف جسٹس بنا ہوں ۔ ضلعی عدلیہ کے ایماندار ، قابل اور محنتی ججز کے ساتھ مل کر صوبائی عدلیہ کو مثالی بنائیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو سٹرکچر ہائی کورٹ کا ہے وہی ضلعی عدلیہ کا ہوگا، عدالت عالیہ اور ضلعی عدلیہ کے ججز میری فیملی کا حصہ ہیں اور ضلعی عدلیہ کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ جوڈیشل افسران کیلئے کریڈٹ کارڈز کی سہولت فراہم کی جائے گی ،بچوں کیلئے بہترین سکولز کی انتظامیہ سے بات کر رہے ہیں تاکہ جوڈیشل افسران کی ٹرانسفر کے ساتھ بچوں کے سکول ایڈمیشن میں مسائل نہ آئیں اور فیسوں میں بھی رعایت ملے۔ چیف جسٹس نے کہا موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے، سمارٹ فونز اور آئی پیڈز پر صرف فلمیں نہیں دیکھنی، ان سے استفادہ کر نا ہے، ریسرچ کے میدان میں آگے جانا ہے اور لوگوں کو جلد انصاف کی فراہمی میں اس ٹیکنالوجی سے کام لینا ہے، تھری جی اور فور جی کی سہولت بھی ہر ضلع میں مہیا کی جائے گی۔ چیف جسٹس نے ضلع اٹک میں ای کورٹس کے آغاز کو سراہا اور اپنی سطح پر آفس آٹومیشن سسٹم بنانے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جلد پورے صوبے کی عدلیہ ایک ہی کمیپوٹرائزڈ سسٹم کے تحت منسلک ہو جائے گی، تمام نظام آن لائن ہوگا، کاز لسٹوں میں مقدمات کو محدود کیا جائے گا، 100 سو مقدمات کی کاز لسٹ جاری نہیں ہوگی، عدالت عالیہ کی طرح خصوصی بنچ بھی بنائے جائیں گے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ضلعی عدلیہ میں ورکنگ حالات مکمل طور تبدیل کر دیئے جائیں گے، انفراسٹرکچر، بلڈنگز، جوڈیشل کمپلیکسز کی تعمیر، جوڈیشل الاؤنس اور تنخواہوں میں اضافہ سمیت دیگر تمام معاملات حکومت کی جانب سے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ہر جوڈیشل آفیسر کیلئے ضروری ہے کہ وہ پیشہ وارانہ رویے کو کبھی ترک نہ کرے، کسی سے بھی الجھے بغیر پیشہ وارانہ انداز میں عدالتی معاملات چلائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کو بھول جائیں، جو ہو گیا سو ہوگیا، اب ہم نے نئی شروعات کا آغاز کیا ہے، نئے وژن اور نئے جذبے کے ساتھ صوبے کی عوام کیلئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ کسی بھی قسم کی غلطی برداشت نہیں کی جائے گی، جو اپنے آپ کو بہتر نہیں کرسکتا وہ جوڈیشل اکیڈمی میں ٹریننگ کرے ، ہم نے پہلے بھی بائیس جوڈیشل افسران کو ٹریننگ کیلئے اکیڈمی بھیجاہے، استعداد کار اور رویوں میں بہتری کیلئے جوڈیشل ٹریننگ کرنا کوئی بری بات نہیں ہے، جج میں انا نہیں ہوتی، عاجزی اپنائیں اور خود کو نکھارنے کیلئے ٹریننگ کریں اور نئی سوچ کے ساتھ عدالتوں میں بیٹھیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدلیہ کے مسائل اور تجاویز کیلئے ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، اس میں سیشن ججز سے لیکر سول ججز تک کی نمائندگی موجود ہے، انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے ممبران تبدیل ہوتے رہیں گے اور کمیٹی میں وہی شامل ہوگا جو پیشہ وارانہ مہارت اور ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا موجودہ اے سی آر سسٹم غلطیوں سے بھرا ہوا ہے، اس لئے ضلعی عدلیہ میں انٹیلیجنس سسٹم لا رہے ہیں جو جوڈیشل افسران کی کارکردگی کی رپورٹ دے گی اور اسی رپورٹ کی روشنی میں پروموشن اور ٹرانسفرزہوں گی، جس کی شہرت خراب ہوگی وہ چھپ نہیں سکے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل اکیڈمی سے ویڈیو لنک کے ذریعے صوبہ بھر کے جوڈیشل افسران تک اپنا وژن پہنچانا بہت اچھا لگا ہے، بہت جلد اسی طرح کا ویڈیو لنک لاہورہائی کورٹ میں بھی قائم کیا جائے گا اور ہر پندرہ دن کے بعد اسی طرح دوطرفہ کمیونیکیشن کے ذریعے روابط کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔چیف جسٹس نے ویڈیو لنک کے ذریعے صوبے بھر کے جوڈیشل افسران سے خطاب کیلئے تکنیکی معاونت پر پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور عدالت عالیہ کے آئی ٹی سیکشن کے ماہرین کی خدمات کو بھی سراہا۔ اس موقع پر رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سید خورشید انور رضوی اور ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی عظمیٰ چغتائی بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

مزید :

صفحہ آخر -