تیزی سے بدلتے حالات، مظلوم کشمیریوں کی بات، اب ترکی کا بھی مسئلہ!

تیزی سے بدلتے حالات، مظلوم کشمیریوں کی بات، اب ترکی کا بھی مسئلہ!

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین:

حالات میں اس قدر تیزی ہے کہ اب تو ایک کے بعد دوسری اور اس کے ہوتے ہوئے تیسری خبر کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے، ہم پاکستانی کی حیثیت سے اپنے مظوم کشمیری بھائیوں پر بھارتی مظالم پر ہی تڑپ رہے تھے کہ برادر ملک ترکی میں بھی انقلاب اور ردانقلاب کا منظر سامنے آگیا، بہر حال وہاں حالات کا رخ جمہوریت کے حق میں تبدیل ہوگیا اور ترکی آمریت سے بچ گیا ہے مزید وضاحت ایک آدھ روز میں ہو جائے گا۔

جہاں تک ہمارے اپنے ملک کا معاملہ ہے تو یہاں صور ت حال جوں کی توں ہے ابھی تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوئی موثر رابطہ نہیں ہوا اورنہ ہی الیکشن کمیشن کے اراکین کی نامزدگی اور نہ ہی پاناما لیکس کمیشن کے لئے ٹی۔او۔آر پر کوئی بات ہو رہی ہے وفاقی کابینہ نے 19جولائی کو مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کے خلاف یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا عمل بھی شروع کردیا ہے جبکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق سے متعلق تنظیموں کو خطوط لکھ کر متحرک کرنے کے لئے بھی عمل شروع ہے، 19جولائی دراصل یوم الحاق کشمیر ہے جب کشمیر اسمبلی نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی یہ یوم اس حوالے سے یکجہتی کے لئے منایا جاتا ہے اور اب بھی منگل کو منایا جائے گا، جماعت اسلامی کے راہنماؤں فرید پراچہ اور دوسرے حضرات نے حکومت کی توجہ مبذول کرائی کہ یہ تو یوم الحاق ہے اسے یوم سیاہ نہ بنایا جائے بلکہ یوم الحاق کو پورے زور شور سے مناکردنیا پر ثابت کیا جائے کہ کشمیریوں کا فیصلہ تو بہت پہلے سے پاکستان کے حق میں ہے بھارت نے جارحیت سے کشمیر پر قبضہ کیا ،اس لئے بہتر ہے کہ یوم سیاہ کو الگ کر لیا جائے اور کسی اور دن کو ایسا عمل کیا جائے، یہ بہتر تجویز اور بات ہے اس پر غور کرلینا چاہیے، 19جولائی کو یوم الحاق پورے جوش و خروش سے منالیا جائے اور یوم سیاہ جمعہ کو رکھ لیا جائے تو مناسب ہوگا۔

جہاں تک ہمارا اپنا تعلق ہے تو وزیر اعظم نے لاہور میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر کے اپنے فعال ہونے کا ثبوت تو دیا ہے لیکن یہ امر بھی واضح ہے کہ ابھی وہ پورا بوجھ نہیں اٹھا سکتے اسی لئے تو مزید تین چار روز لئے کہ اب کل(سوموار) سے ایوان وزیر اعظم جائیں گے اور پھر اسلام آباد میں نگرانی کریں گے تاہم طبی نقطہ نظر سے ابھی وہ زیادہ بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوئے ان کو کم از کم ڈیڑھ سے دو ماہ مزید چاہئیں کہ مکمل طور پر فعال ہوسکیں، اس لئے اسے تسلیم کرلینے میں کیا حرج ہے ویسے کام تو چل ہی رہا ہے، ہمارے خیال میں وزیر اعظم کو اس وقفہ سے فائدہ اٹھا کر اپوزیشن سے معاملات طے کرلینا چاہئیں کہ یہ ازبس لازم ہے کیونکہ نہ صرف ہمارے اپنے خطے بلکہ اردگرد کے حالات بھی تبدیل ہو رہے ہیں، ہمیں اپنے اندرونی تنازعات میں الجھنے کی بجائے مسائل کے حل کی طرف جانا ہوگا، وزیر اعظم کو خود کردار ادا کرنا ہوگا یہ ’’عقابوں‘‘ کا کام نہیں ہے، اب تو کشمیر کا مسئلہ بھی ہے، اس پر بھی ایک قومی کانفرنس بلائی جاسکتی ہے اور پھر اسی کانفرنس کی ایک نشست دوسرے سیاسی معاملات افہام وتفہیم سے چلانے کے لائحہ عمل کے لئے محتص کرلینا چاہیے، یہ حالات کا جبر اور تقاضا ہے، حکومت اکیلی ان سے نبرد آزمانہ ہو پائے گی، بھارتی جارحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کشیدگی بڑھ رہی ہے جو مزید آگے تک جاسکتی ہے، اس لئے ہمیں اپنی صفیں درست کرنا ہوں گی اور زیادہ ذمہ داری بر سر اقتدار طبقے پر ہی ہوتی ہے۔

جہاں تک آزاد کشمیر کے انتخابات کا تعلق ہے تو ان کی تلخی بھی 21کی رات تک ختم ہو جائے گی، نتائج سے کوئی نیا تنازعہ نہیں پیدا ہونا چاہیے، فوج کی نگرانی میں انتخابات ہوئے تو اعتراض کم سے کم ہوں گے، بہر حال انتخابی تلخی کو بھی ختم کرنا ہوگا، قوم و ملک کے لئے یہی بہتر ہے۔

مزید :

تجزیہ -