ترکی اور پاکستان دو علیحدہ علیحدہ ملک ہیں

ترکی اور پاکستان دو علیحدہ علیحدہ ملک ہیں
ترکی اور پاکستان دو علیحدہ علیحدہ ملک ہیں

  

میرا ایک دوست سارا دن پریشان رہا کہ فوج آ جائے۔جنرل راحیل شریف اقتدار پر قبضہ کر لیں۔ یہ بینر تو پاکستان کے بڑے شہروں کی سڑکوں پر فیصل آباد کے ایک ناکام سیاستدان نے لگوائے تھے۔یہ بینر اردو میں تھے۔ تو پھر ترکی کی فوج اور جنرلز نے ان کو اپنے لئے کیسے سمجھ لیا۔ ترکی کی فوج اور جنرلز کو کیسے یہ غلط فہمی ہو گئی کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر خیر مقدمی بینر دراصل ان کے لئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ترکی اور پاکستان دوست ممالک ۔ دونوں ممالک کے درمیان دوستہ کا رشتہ بہت مضبوط ہے، لیکن پھر بھی ترکی اور پاکستان دو علیحدہ ممالک ہیں۔ یہ ایک ملک کے بینر دوسرے ملک کے لئے کیسے سمجھے جا سکتے ہیں۔ ضرور ترک فوج اور ترک جنرلز کو کوئی غلط فہمی ہو ئی ہے ۔ اسی لئے غلط فہمی میں کی ہوئی بغاوت نا کام ہو گئی ہے۔ ورنہ بغاوتوں کے کامیاب ہونے کی تاریخ تو بھری ہوئی ہے، لیکن اتنی منظم بغاوت کی نا کامی کے واقعات یقیناًبہت کم ہیں۔

جس طرح ترک فوج اور جنرلز کو پاکستان میں لگے خیر مقدمی بینرز سے غلط فہمی ہوئی ہے۔ اسی طرح ترکی میں فوجی بغاو ت کی نا کامی سے پاکستان کے سیاستدان بھی غلط فہمی کا شکار ہوتے نظر آرہے ہیں۔یہ درست ہے کہ یہ دنیا اب ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ ہم سب ایک دوسرے سے نہ صرف ہر وقت با خبر رہتے ہیں، بلکہ ایک دوسرے کے حالات کا اثر بھی لیتے ہیں، لیکن پھر بھی ہر مُلک کے اپنے مخصوص حالات اور اپنے سیاسی و معاشرتی تقاضے ہیں۔اسی لئے ہر جگہ حالات حکومت اور الگ نظام حکومت ہے۔ اسی طرح ترک کی سیاسی و جمہوری حکومت کا پاکستان کی سیاسی و جمہوری حکومت کے ساتھ موازنہ کرنا درست نہیں۔ ترک سیاسی جماعتوں کی اسٹبلشمنٹ کے خلاف جدوجہد کو پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی سیاسی جدو جہد سے موازنہ بھی درست نہیں ہے۔ ترک فوج اور پاکستان کی فوج کا موازنہ بھی درست نہیں ہے۔ اِس لئے یہ کہنا اور سوچنا نا قابلِ فہم ہے کہ جو ترکی میں ہوا ہے وہی پاکستان میں بھی ہو سکتا ہے۔

میرے ایک اور دوست نے ایک اور سیاسی فلسفہ پیش کیا ہے کہ جب کسی کا اچھا وقت چل رہا ہو تو اس سے نہیں لڑنا چاہئے۔ا چھے وقت کی پہلی مثال یہ ہے کہ اس میں عام حالات میں بری باتیں بھی اچھے وقت میں اچھے نتائج دیتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اچھے وقت میں مٹی کو بھی ہاتھ ڈالا جائے تو وہ سونا بن جاتی ہے اور برے وقت میں سونا بھی ہاتھ میں ہو تو وہ مٹی بن جاتا ہے۔ میرے دوست کا موقف ہے کہ اس وقت میاں نواز شریف کا اچھا وقت چل رہا ہے۔ آپ دیکھیں ان کی بیماری کی طوالت بھی ان کے لئے اچھے سیاسی نتائج لے کر آئی ہے۔ ورنہ اگر وہ بیمار نہ ہوتے تو پانامہ پر شور بڑھ جاتا، لیکن ان کی بیماری نے پانامہ پر نہ صرف شور کو کم کیا، بلکہ سیاسی حالات میں بھری ہوا غبارے سے بھی ہوا نکال دی۔ اسی طرح کشمیر کے مخصوص حالات نے بھی میاں نواز شریف کے لئے سیاسی بہتری پیدا کی ہے۔ میاں نواز شریف کو کسی بھی سیاسی سرگری کے لئے ایسی وجہ کی ضرورت تھی جو متنازعہ نہ ہو اور اس کو پورے ملک کی سپورٹ حاصل ہو۔ کشمیر سے بہتر ایشو کیا ہو سکتا تھا۔ یقیناًاس کے لئے انہیں مودی کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ اب ترک میں فوج کی نا کام بغاوت میں بھی پاکستان میں میاں نواز شریف کو سیاسی فائدہ دیا ہے۔ میاں نواز شریف کو اس وقت ایک ایسے سیاسی حالات کا سامنا ہے جس میں انہیں اپنی سیاسی مخالفین سے زیادہ اسٹبلشمنٹ سے خطرہ ہے۔ ملک میں فوج کے اقتدار میں آنے کی پیشنگوئیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ یقیناًایسے میں ترک فوج کی ناکام بغاوت نے میاں نواز شریف کو سیاسی فائدہ دیا ہے۔ عالمی اور مقامی سطح پر فوج کے اقتدار اور مارشل لا کے خلاف ایک ماحول بنا ہے، جس کا یقیناًمیاں نواز شریف کو مخصوص فائدہ ہو گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ترک عوام کو پوری دنیاخراج تحسین پیش کر رہی ہے۔ بیشک ترک عوام نے ثابت کیا ہے کہ عوام کے اقتدار کی حفاظت بھی عوام ہی کرتے ہیں، لیکن کیا پاکستان کی سیاسی قیادت عوام کے دلوں میں اسی طرح بستے ہیں۔ طیب اردگان جس طرح فوجی بغاوت کے دوران عوام میں رہے یقیناًوہ قابلِ دید ہے ۔ اس سے پاکستان کی سیاسی قیادت کو سبق سیکھنا چاہئے، لیکن عوام کے دِلوں میں بسنے کے لئے عوام سے وفاداری بھی ضروری ہے۔ پاکستان کی سیاسی قیادت سے بس درخواست ہی کی جا سکتی ہے کہ ترکی کے واقعہ سے عوام سے توقعات لگانے کی بجائے پہلے عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھیں۔ جب پاکستان کی سیاسی قیادت عوام کو طاقت کا سر چشمہ سمجھیں گے تو عوام ان کو طاقت دیں گے۔ ابھی پاکستان میں نہ تو کسی کو طاقت دینے کا اختیار عوام کے پاس ہے اسی لئے شائد عوام طاقت کی حفاظت کے ذمہ دار بھی ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ جب طاقت عوام کی حمائت سے ملے گی تو اس کی حفاظت بھی عوام ہی کریں گے۔

ترک عوام کی قربانیاں اور ان کی بہادری آج کے جدید اور نفسا نفسی کے دور میں اپنی مثال آپ ہے، لیکن طبیب اردوان کی بہادری اور عوام کی محبت پر غیر متزلزل یقین بھی یقیناًہمارے سیاست دان کے لئے ایک پیغام ہے۔ اسٹبلشمنٹ کے خلاف جدو جہد کی خواہش رکھنے والے سیاست دانوں کو طیب اردوان سے سیکھنا چاہئے۔ طیب اردوان کی سیاست کی بنیاد کو سمجھنا ہو گا۔ بلا شبہ طیب اردگان اپنے ملک میں اسٹبلشمنٹ سے لڑ رہے ہیں، لیکن یہ لڑائی ان کے عوامی فلاح اور ملکی ترقی کے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ بس یہ بات سمجھنے کی ہے کہ عوام کی خدمت اور ملک کی خدمت ہر حال میں کرنا ہو گی اور جب آپ اس خدمت کے تقاضوں کو پورا کریں گے۔ تب ہی عوام آپ کے لئے ٹینکوں کے آگے نہتے لیٹے گی۔ ورنہ یہاں تو مٹھائی کی دکانیں خالی ہو جاتی ہیں۔ اس لئے ترکی اور پاکستان دو علیحدہ علیحدہ ملک ہیں۔ ان کی سیاسی قیادت الگ الگ ہے۔ ان کی فوجی قیادت بھی الگ الگ ہے۔ فوج بھی الگ الگ ہے۔ فوجی نظام بھی الگ الگ ہے۔ فوج کا اقتدار پر قبضہ کرنے کا طریقہ کار بھی الگ ہے۔ فوجی قیادت بھی الگ الگ ہے۔ آئی ایس پی آر بھی الگ ہے۔ بس یہ فر ق سمجھ کر چلنا ہو گا۔ ورنہ اگر ہم ترکی کے حالات کی رو میں بہہ گئے تو پاکستان میں سیاسی مس ایڈونچر ہو سکتا ہے۔

مزید :

کالم -