قندیل بلوچ کا اندھا قتل کئی سوالات چھوڑ گیا، پولیس کارکردگی بے نقاب

قندیل بلوچ کا اندھا قتل کئی سوالات چھوڑ گیا، پولیس کارکردگی بے نقاب

  

ملتان (کرائم رپورٹر) سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والی معروف ماڈل فوزیہ عظیم المعروف قندیل بلوچ کے اندھے قتل نے کئی سوالات کو جنم دیتے ہوئے ملتان پولیس کی ناقص کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ مادل قندیل بلوچ ایک عرصہ سے تھانہ مظفر آباد کے علاقہ کریم ٹاؤن (بقیہ نمبر10صفحہ12پر )

(بقیہ نمبر1صفحہ12پر )میں کرائے مکان میں رہائش پذیر تھی۔ مگر پولیس ریکارڈ میں اسے بور کرایہ دار رجسٹرڈ ہی نہیں کیا گیا تھا۔ قندیل بلوچ کے اندھے قتل کی جو ابتدائی تفتیشی رپورٹ یعنی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس میں مقتولہ کا اصل نام یعنی جو نامع قومی شناختی کارڈ پر درج ہے۔ اس کا ایف آئی آر میں ذکر ہی نہیں کیا گیا ہے۔ جس کے باعث ایک بہت بڑا قانونی سقم پیدا ہوگیا ہے کہ قتل ہونے والی پاکستانی شہری فوزیہ عظیم ہے یا قندیل بلوچ، اسی طرح قتل کی اطلاع ملنے پر پولیس پارٹی جب مقتولہ کے گھر پہنچی تو مقتولہ کی کی گاڑی، طلائی زیورات، گھر کا سامان اور دیگر زیر استعمال چیزوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ واردات کے بعد کہاں گئیں۔ والدین نے اپنے بیان میں قتل صبح 3سے 4 بجے ہونا بیان کیا ہے لیکن ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ میں قتل 15جولائی کی شب 8 سے 9 بجے ہونا قرار دیا جا رہا ہے۔ ملتان پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر جلد بازی میں کی جانے والی کارروائیاں بوکھلاہٹ کی گئی مثالیں چھوڑ گئی ہیں جو آگے چل کر قانونی مسائل کو جنم دیتے ہوئے استغاثہ کمزور کر سکتی ہیں۔ جس کا فائدہ بلا شبہ قاتل کو پہنچایا جا رہا ہے۔

سوالات

مزید :

ملتان صفحہ آخر -