خادم پنجاب زرعی خوشحالی پروگرام سے کاشتکاروں کو اربوں کے فوائد ملیں گے، اعجاز نون

خادم پنجاب زرعی خوشحالی پروگرام سے کاشتکاروں کو اربوں کے فوائد ملیں گے، ...

  

ملتان( سپیشل رپورٹر)خادم پنجاب زرعی خوشحالی پروگرام سے کاشتکاروں کو 163 ارب روپے سالانہ کے براہ راست فوائد حاصل ہوں گے۔ یہ پیکج پوری دیانتداری کے ساتھ کاشتکاروں تک پہنچایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار پارلیمانی سیکرٹری برائے زراعت پنجاب رانا اعجاز احمد نون (بقیہ نمبر33صفحہ7پر )

نے کسان پیکج کے سلسلہ میں منعقدہ آگاہی سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں ایم پی اے مظہر عباس راں، ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) ڈاکٹر انجم علی، ڈائریکٹر جنرل (فیلڈ) ڈاکٹر قربان علی سندھو، کاٹن کمشنر ڈاکٹر خالد عبداللہ، پروفیسر اشتیاق احمد رجوانہ ڈین ایگریکلچر، پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید،ڈاکٹر عالمگیراختر، ریجنل پراجیکٹ ڈائریکٹر منشاء علی، ڈائریکٹر کاٹن ڈاکٹر صغیر احمد، ڈائریکٹر سی سی آر آئی ساجد مسعود شاہ، ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت شفقت حسین، ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت (توسیع) چوہدری نصیر احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات نوید عصمت کاہلوں اور پراگریسو آفیسر عرفان ڈوگر ، ڈاکٹر عمار مطلوب، اور پبلک ریلیشنز آفیسر محمد علی رضا سرگانہ سمیت کاشتکاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پارلیمانی سیکرٹری نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پوری دنیا میں مرتب ہورہے ہیں لہٰذا ان تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے زراعت سے متعلق حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی زندگی ہے جس کی ہمارے ملک میں کمی ہے۔ لہٰذا اس کمی پر قابو پانے کیلئے چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے کالا باغ ڈیم کا قیام عمل ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سطح پر زرعی پیداوار کی قیمتوں میں کمی اور زرعی مداخل میں قیمتوں میں اضافے سے ہمارا کسان بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس موقع پر خادم کسان پیکج کے بارے میں تعارف کراتے ہوئے وائس چانسلر محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے سیمینار کے شرکاء کو بتایا کہ کاشتکاروں کی دگرگوں حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے 100 ارب روپے پر مشتمل خادم پنجاب کسان پیکج کا اعلان کیا ہے۔ وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ کسانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کیلئے 13 ارب روپے کا پروگرام جس سے صوبہ کے 4لاکھ 50ہزار کاشتکار فائدہ اٹھائیں گے جن کو ربیع اور خریف میں بالترتیب 25ہزار روپے اور40ہزارروپے فی ایکڑ قرضہ جاری کیا جائے گا۔ کسانوں کو سمارٹ فونز کی فراہمی تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں اور جدید زرعی معلومات سے ہمہ وقت باخبر رہ سکیں، ڈی اے پی اور یوریا کھادوں پر 9.49 ارب روپے کی سبسڈی جس کی وجہ سے بالترتیب 300 اور 400 روپے فی بوری قیمت میں کمی، کپاس کے تصدیق شدہ بیج کو پیدا کرنے اور کاشتکاروں کو فراہمی کیلئے سسٹم کی تبدیلی 3 ارب روپے جس سے 10لاکھ کاشتکار مستفید ہوں گے، ہر ضلع میں جدید زرعی مشینری کی فراہمی کیلئے مراکز 1.20 ارب روپے سالانہ، موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید زرعی ٹیکنالوجی کی فراہمی، جس میں ڈرپ اریگیشن، ٹنل فارمنگ اور شمسی توانائی پر مشتمل ٹیوب ویلوں کی فراہمی 2.05 ارب روپے، زرعی پیداوار کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے ویئر ہاؤس بنانے کیلئے 2.5 ارب روپے کا پروگرام ، زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے فی یونٹ بجلی کی قیمت 5.35 روپے، زرعی ادویات پر جنرل سیلز ٹیکس کا مکمل خاتمہ، کسانوں کی باہمی انجمنوں کے قیام کیلئے 0.5 ارب روپے سالانہ کی فراہمی سمیت ایگریکلچر کمیشن کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے۔ انہوں نے پہلے سے جاری منصوبہ جات کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ فصلوں کی بہتر آبپاشی کیلئے 36 ارب روپے پر مشتمل اصلاح آبپاشی کا 5سالہ پروگرام جس میں پختہ کھال، لیزر لینڈ لیولر کی فراہمی، قطرہ قطرہ آبپاشی، گندم کے تصدیق شدہ بیج کی فراہمی کیلئے 30کروڑ روپے سالانہ، خطہ پوٹھوار کو وادی زیتون میں تبدیل کرنے کیلئے 5 سال میں 1.8 ارب روپے کا پروگرام، محکمہ زراعت کو جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی مرکز میں تبدیل کرنے کا 4.5 ارب روپے کا منصوبہ تاکہ کاشتکاروں کو جدید طریقہ ہائے زراعت سے بہتر طورپر آگاہ رکھا جاسکے، مشینی کاشت کے ذریعے جدید زراعت کو فروغ دینے کیلئے 1.11 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ شامل ہے، اس موقع پر سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کپاس ہی ایسی فصل ہے جس پر ملکی معیشت کا زیادہ تر دارومدار ہے۔ 54 فیصد سے زائد ملکی برآمدات کا انحصار کپاس اور اس کی مصنوعات پر ہے لہٰذا کپاس کی فصل کی نگہداشت پر پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال کاشتکاروں کو بین الاقوامی منڈیوں سے 22 ارب روپے کم معاوضہ ملا ہے۔ فصلات کی امدادی قیمتیں کو مقرر کیا جائے تاکہ ان کے پیداواری اہداف کے حصول کو ممکن بنایا جاسکے۔ اس موقع پر ڈاکٹر انجم علی نے سیمینار کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا کہ خادم پنجاب کسان پیکج چھوٹے کاشتکاروں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیا گیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -