چوک میتلا،مبینہ پولیس مقابلہ میں ہلاک اسلم ڈھولا کے ورثا کا احتجاجی مظاہرہ

چوک میتلا،مبینہ پولیس مقابلہ میں ہلاک اسلم ڈھولا کے ورثا کا احتجاجی مظاہرہ

  

چوک میتلا (نامہ نگار) تھا نہ ٹبہ سلطان پور کی حدود چوک میتلا چک نمبر166ڈبلیو بی میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلہ کے خلاف ہلاک ہو نے والے محمد اسلم ڈھولا کے ورثاء چوک کے وسط میں ٹائر جلا کر احتجاجی مظاہرہ ۔گذشتہ رات تھا نہ ٹبہ سلطان پور کی حدود چوک میتلا کے چک نمبر166ڈبلیو بی میں تھا نہ میاں چنوں کے ایس ایچ او شاہد نیاز نے اپنی بھاری نفری کے ہمراہ مبینہ طور پر پولیس مقابلہ میں (بقیہ نمبر36صفحہ12پر )

چک نمبر166ڈبلیو بی کے رہائشی 9بچوں کے باپ محمد اسلم ڈھولا کو ہلاک کردیا تھا جس کے خلاف محمد اسلم ڈھولا کے ورثاء جس میں خواتین ، مرد ، بڑھے اور بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہوئے پہلے ملتان روڈ ریلوے پھاٹک کے قریب ملتان وہاڑی روڈ پر ٹائر جلا کر کئی گھنٹے روڈ بند رکھا بعد میں مظاہرین ٹرکوں اور سوار ہو کر چوک میتلا میں آگئے جہاں پر مظاہرین نے چوک کے وسط میں شدید تیز دھوپ میں احتجاج مظاہرہ کرتے ہوئے چوک میں ٹائر جلا کر چوک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا جس کے باعث ملتان وہاڑی روڈ اور خانیوال لاہور سپر ہائی وے روڈ بندہو گیا اور گاڑیوں کی کئی میل تک لمبی لائنیں لگ گئیں پولیس مظاہرین سے مذاکرات کر نے کی بجائے اُن کے ڈنڈوں کے خوف سے ایک طرف جا کر بیٹھ گئی ہلاک ہو نے والے محمد اسلم ڈھولا کے ورثاء کی جانب سے احتجاج کی اطلاع ملتے ہی حلقہ پی پی238کے مزدور لیڈر صفدر عباس خان منیس بھی اپنی سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ ورثاء سے اظہار یگجہتی کر نے کے لیے پہنچ گئے صفدر عباس خان منیس نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک پولیس ہلاک ہو ننے والے محمد اسلم کی لاش ورثاء کے حوالے نہیں کرتے میں آپ کے ساتھ آپ کو انصاف دیلوا نے کے لیے آپ کے کندھا سے کندھا ملا کر چلوں گا ۔بیوہ سائرہ اسلم نے کہا کہ نوید وڑائچ نے میرے شوہر کو رات کے وقت گھر سے ٹیلی فون کرکے بلوایا کہ آج میرے پاس آکر کھا نا کھالے ۔جس پر میرا شوہر محمد اسلم ڈھولا چلا گیا جب نوید وڑائچ کے پاس پہنچا تو وہاں پر سادہ وردیوں میں پولیس اہلکار پہلے سے ہی موجود تھے نوید نے کہا کہ اسلم ڈھولا کینوں کے باغ کی طرف بھاگ جاجب محمد اسلم ڈھولا نہ بھاگا تو پولیس اہلکاروں نے وہی پر کھڑے ہوکر ہی فائر نگ کر کے پولیس مقابلہ قرار دے دیا مبینہ مقابلہ میں ہلاک ہو نے والے محمد اسلم کی دادی ، ماموں اور دیگر رشتے داروں نے کہا کہ ہمارے نوجوان کو پولیس بے قصو ر جعلی مقابلہ بنا کر ہلاک کیا ہے ورثاء نے کہا کہ پورا گاؤں اس بات کی گواہی دینے کے لیے تیار ہے کہ محمد اسلم ڈھولا جرائم پیشہ شخص نہیں تھے۔پولیس ہمارے پیارے کی لاش ہمارے حوالے کرے ۔مظاہرین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب ، چیف جسٹس آف پاکستان اور اعلیٰ حکام سے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے جعلی پولیس مقابلہ میں ملوث تھا نہ ٹبہ سلطان پور ، تھا نہ میاں چنوں اور ٹاؤٹ نوید وڑائچ کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے انصاف فراہم کریں ہلاک ہو نے والے محمد اسلم ڈھولا کے 9بچے ہیں جن میں صباء ، سلمہ ، تسلیم ، عامر ، محمد ندیم ، وسیم ، آصف ، سمیرا شامل ہیں دوسری طرف ذرائع کے مطا بق تھا نہ میاں چنوں کے ایس ایچ او شاہد نیاز باقائدہ طور پر چک نمبر166ڈبلیو بی میں کاروائی کر نے کے لیے آمد کی رپورٹ درج کروائی تھی جس میں اُن کے ساتھ جو پولیس اہلکار تھے اُن کے نام اور ٹائم بھی نوٹ کروایا تھا تھا نہ ٹبہ سلطان پور پولیس بار بار اسرار کرتی رہی ہے کہ میاں چنوں پولیس نے ہمیں بتائے بغیر ہی کاروائی کی ہے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پولیس تھا نہ ٹبہ سلطان پور نے مظاہرہ کر نے والے مرد اور خواتین کے خلاف روڈ بلاک کر نے ، توڑ پھوڑ اور پولیس پر حملہ کر نے پر مقدمات کے اندراج کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -