ترک فوج کا اعلیٰ ترین عہدیداغداری کے جرم میں گرفتار

ترک فوج کا اعلیٰ ترین عہدیداغداری کے جرم میں گرفتار
ترک فوج کا اعلیٰ ترین عہدیداغداری کے جرم میں گرفتار

  

استنبول(نیوز ڈیسک)ترکی کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار کو غداری کے جرم میں گرفتار کرلیاگیاہے۔ممکنہ طور پر انہیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ڈیلی میل کے مطابق ترکی کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار جنرل ایرڈل اوزترک کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ان کے دیگر 8قریبی ساتھی جن میں دومیجرزاورایک کیپٹن شامل ہیں قریبی ملک یونان میں فرا ر ہو گئے ہیں جہاں انہوں نے ایتھنز حکومت سے سیاسی پناہ کی درخواست کردی ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

تھرڈ آرمی کور کے سربراہ جنرل ایرڈل کو ناکام بغاوت میں کردار ادا کرنے پر غداری کے مقدمہ کا سامنا ہے۔ان کے آدمیوں نے استنبول میں واقع اہم سٹریٹجک مقامات پر قبضہ کر نے کی کوشش کی تھی لیکن ہزاروں لوگ صدر اردگان سڑکوں پر نکل آئے اور فوجی بغاوت کو کچل دیا۔دوسری جانب سازش میں ملوث جنرل ایرڈل کے 8اہم ترین ساتھی ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر یونان پہنچ گئے جہاں انہوں نے یونانی حکومت سے سیاسی پناہ طلب کی ہے۔

ترک وزیرخارجہ اور صدر اردگان نے یونان حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ تما م آٹھ افراد کو ترک حکومت کے حوالے کر ے جبکہ یونان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے عالمی قوانین کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق ترک وزیر خارجہ مویلیت کے مطابق یونان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مذکورہ ملز م ترکی کو واپس دے گا۔ڈیلی میل کے مطابق یہ خبر ترک وزیراعظم کے اس بیان کے بعد منظر عام پر آئی ہے جس میں یلدرم کا کہنا تھا کہ قوم کا خیال ہے کہ ایسے افراد سے نمٹنے کیلئے 2014میں سزائے موت پر پابندی عائد کرنے کے خاتمہ پر نظر ثانی کی جائے اور اس پابندی کو ختم کیا جائے۔

خیال رہے کہ ترکی میںہونے والی ناکام بغاوت کے دوران 250افراد مارے گئے جبکہ 15سو سے زائد زخمی ہوئے۔سکیورٹی اہلکاروں نے 28سو باغی فوجیوں کو بھی حراست میں لیا ہے۔جب کہ فوجی بغاوت میں سہولت کاری کے الزام میں ہزاروں جج بھی برطرف کردیئے۔

مزید :

بین الاقوامی -