’’سفرنامہ کیلاش ‘‘روحانی سلسلہ کے معروف گدی نشین اور سیاست دان کا ’’مٹتی کافر تہذیب ‘‘ کا آنکھوں دیکھا حال (قسط نمبر 5)

’’سفرنامہ کیلاش ‘‘روحانی سلسلہ کے معروف گدی نشین اور سیاست دان کا ’’مٹتی ...
’’سفرنامہ کیلاش ‘‘روحانی سلسلہ کے معروف گدی نشین اور سیاست دان کا ’’مٹتی کافر تہذیب ‘‘ کا آنکھوں دیکھا حال (قسط نمبر 5)

  

پیر زادہ ثاقب خورشید عالم پاکستان کے مشہور روحانی سلسلہ کے گدی نشین اور سیاسی رہنما ہیں ، خوبصورت مقامات کی سیر و سیاحت کے دلدادہ پیر زادہ صاحب نے حالیہ دنوں میں’’وادی کیلاش ‘‘ کی جنت نظیر وادی کا انتخاب کیا ،کئی دنوں تک وہاں کے سالانہ میلے اوربَل کھاتے پہاڑی سلسلوں کا طواف کرنے کے بعد واپس اسلام آباد لوٹے ہیں ۔’’روزنامہ پاکستان ‘‘ کے لئے انہوں نے ’’وادی کیلاش‘‘ کا سفرنامہ شروع کیاہے جسے ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کے لئے قسط وار شائع کر رہے ہیں۔’’سفر نامہ کیلاش ‘‘ کی پانچویں  قسط حاضر خدمت ہے )

میں نے ہوٹل پہنچ کر تھوڑی دیر آرام کیا اور سہہ پہر کو ایک بار پھر بمبوریت کی کھوج لگانے نکل پڑا ۔بازار سے نکلتے ہی دائیں جانب چھوٹے چھوٹے کھیتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جب کہ بائیں جانب تند و تیز ندی ہے جو کہ بمبوریت کی وادی کو سیراب کرتی آگے چل کر ایون کے مقام پہ دریائے چترال کے پانیوں میں کہیں کھو جاتی ہے ۔ایک راستہ اوپر کی جانب جا رھا تھا ۔میں اس جانب چل دیا ۔بلندی پہ چڑھتے چڑھتے سانس پھولنے لگی۔پھولی سانسوں کے ساتھ میں ایک تنگ سی پگڈنڈی پہ چلنے لگا ۔

کہیں کہیں اکا دکا گھر بنے ہوئے تھے ۔سامنے سے دو لڑکیاں پانی کے مشکیزہ نما برتن اٹھائے اپنے روایتی لباس میں ملبوس چلی آ رھی تھیں ۔پاس سے گزرنے پہ انہوں نے ایک ھاتھ سے برتن کو تھاما اور دوسرے ھاتھ سے پلو سے آدھا چہرہ ڈھانپ کر گزر گئیں ۔ تھوڑا آگے جا کر میں تھوڑی دیر سستانے کیلئے رکا  ہی تھا کہ  اچانک عصر کی آزان کی آواز سنائی دی ۔دائیں جانب ایک خوبصورت سی مسجد تھی ، مسجد کے نزدیک ہی مسلمانوں کا چھوٹا سا قبرستان تھا ۔قبور کو بچانے کیلئے اردگرد لکڑی کا جنگلہ بنا کر نصب کیا گیا تھا ۔۔۔

مسجد میں داخل ہوا ۔یخ ٹھنڈے پانی سے وضو کیا اور امام صاحب کی اقتدا میں کھڑا ہو گیا ۔۔نماز سے فارغ ہو کر جوتوں کے تسمے باندھ رھا تھا کہ اسلام علیکم کی آواز سنی سر اٹھا کر دیکھا تو لمبے لمبے کرتوں میں ملبوس باشرع حلیہ ۔ باشرع داڑھیاں چہرے پہ سجائے دو جوان ملے ۔۔

آپ کہاں سے آئے ہیں ؟؟

جی اسلام آباد سے آیا ہوں ۔میں نے جواب دیا

سیر کی غرض سے آئے ہیں ؟؟

جی آوارہ گردی کی غرض سے آیا ہوں ۔

ہم دونوں لاہور سے ہیں جی اور ادھر ہم جماعت کے ساتھ آئے ہیں ۔یہاں دعوت تبلیغ کیلئے نکلے ہیں ۔آپ نے کبھی وقت لگایا ہے ؟؟؟

جی میں ایک دفعہ اجتماع کی دعا میں شریک ہوا تھا ۔۔

آپ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں  آئیں ، وہاں بیان ہو گا ۔انشا اللہ بڑا  فائدہ ہو گا ۔۔۔

جی شکریہ ۔۔۔

اپنی دعاوں میں مجھ گناہگار کو بھی یاد رکھئیے گا ۔۔یہ کہہ کر انہیں سلام کر کے میں نے واپسی کی راہ لی ۔۔۔

تقریباً پانچ کلو میٹر چلنے کے بعد میں اھل کفار کی بستی برون میں پہنچ گیا ۔۔یہ ایک قدیم بستی دکھائی دیتی ہے جہاں پہ قدیم کے ساتھ ساتھ کافی تعداد میں نئے گھر بھی تعمیر ہیں ۔بستی کے آغاز میں ہی بائیں جانب ایک بڑی سی قلعہ نما چار دیواری والی عمارت ہے ۔۔۔۔

جس کے بڑے بڑے پھاٹک نما دروازے بند تھے ۔تھوڑا قریب جا کر دیوار پہ آویزاں بورڈ سے پتا چلا کہ اس عمارت کا نام (بشالینی )ہے اور اس عمارت کی تعمیرِ نو اور مرمت وغیرہ کا خرچہ کسی فلاحی تنظیم نے یونانی سفارتخانے کے تعاون سے کیا تھا اور اس عمارت کی ازسر نو مرمت وغیرہ کے بعد اس کا افتتاح بھی یونانی سفارتکار نے کیا ۔۔۔

بشالینی میں دراصل زمانہ قدیم سے چلی آ رھی کیلاش قبیلے کی رسم کے تحت حائضہ خواتین اپنے ایام مخصوصہ کے دوران یا زچگی والی خواتین کچھ عرصہ کیلئے یہاں قیام کرتی ہیں ۔۔کیلاش مزھب کے مطابق یہ خواتین ایام کے دوران ناپاک ہوتی ہیں اور انکے ھاتھ سے پکا ھوا بھی ناپاک ہوتا ہے اس لئیے پوری بستی کی خواتین اپنے ایام اس عمارت میں پورے کرتی ہیں ۔۔بستی کی باقی خواتین انکے لئیے کھانا بھجوا دیتی ہیں ۔۔۔اس عمارت میں کسی بھی مرد کا داخلہ ممنوع ہے حتیٰ کہ اس عمارت کو ھاتھ لگانا بھی ممنوع ہے ۔۔۔

خواتین اس دوران آپس میں گپیں ھانکتی ہیں ۔دکھ سکھ بانٹتی ہیں اور آرام کرتی ہیں ۔۔۔۔عمارت میں قیام و طعام سے لے کر علاج معالجہ کی بزریعہ لیڈی ڈاکٹر سہولت موجود ہوتی ہے ۔۔۔ جب تک خواتین فراغت حاصل نہیں کر لیتیں اس عمارت سی باھر نہیں نکل سکتیں ۔۔۔۔

آج بشالینی کی یہ عمارت دیکھی اور صدیوں پرانی کیلاش قبیلے کی اس رسم کے بارے میں سنا تو جانے کیوں یہ واقعہ یاد آ گیا کہ گزشتہ دنوں لاھور کے ایک تعلیمی ادارے کی طالبات نے خواتین کے ایام کے دوران روایتی جھجھک کو ختم کرنے کیلئے ایک تحریک شروع کی جس میں دوران ایام خواتین کے استعمال ہونے والے پیڈز کے اوپر نعرے لکھ کر اسے اس تعلیمی ادارے کی دیوار پہ چسپاں کر کے آزادئ رائے کا اظہار کیا گیا۔

میں نے دور سے ہی کیمرے کے عدسے کو مرکوز کر کے اس حویلی کی چند تصاویر اتار لیں ۔۔۔دیگر عمارات کی طرح اس عمارت کو بھی ایک این جی او کے تعاون سے از سر نو تعمیر کیا گیا تھا اور اس پہ یونانی سفارتخانے کی تختی آویزاں تھی ۔۔۔۔۔

شام ہو چلی تھی اور میں نے اوپر بستیوں میں جانے کا رادہ مؤخر کیا اور واپسی کا سفر اختیار کیا ۔ ہوٹل پہنچنے تک اندھیرا چھا گیا تھا ۔بمبوریت میں واقع واحد بازار میں آج کافی چہل پہل تھی ۔سیاحوں کا جیسے سیلاب امڈ آیا تھا ۔ کراچی اور فیصل آباد ۔لاھور سے آئے سیاحوں کی تعداد زیادہ تھی ۔۔۔

سفر کی وجہ سے تھکے ہوئے لیکن متجسس چہرے لئیے

کیلاشوں کے دیس کو دیکھنے آئے تھے ۔منہ اٹھائے حیرت سے ہر آنے جانے والوں کو دیکھ رھے تھے ۔۔۔

ہوٹل فارنرز ٹورسٹ ان کھچا کھچ بھرا ہوا تھا لان میں بھی خیمے لگا کر سیاحوں کو کرائے پہ مہیا کئیے گئے تھے ۔۔

میرے کمرے کے سامنے موجود قطعہ گھاس پہ ایک خیمہ نصب تھا جس کے سامنے چار نوجوان چادر بچھا کر آمنےسامنے بیٹھے تاش کھیلنے میں مصروف تھے ۔

صاب تم واپس آ گیا ؟ کھانا لاوں صاب ؟؟؟

کیلاش ویٹر لڑکا کسی جن کی طرح نمودار ہوا ۔۔

ہاں یار کیا کھلاو گے ؟؟صاحب دال چاول کھائے گا ؟؟

لے آو یار اور چائے بھی لے آنا ۔

منہ ہاتھ دھو کر تازہ دم ہو کر جیسے ہی کمرے سے باھر لان میں موجود کرسی پہ بیٹھا ویٹر کھانا لے آیا کھانا کھا کر چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے میں نے سگار سلگا لیا ۔۔

’’سفرنامہ کیلاش ‘‘کی گذشتہ قسط پڑھنے کےلئے کلک کریں 

کیوبا کے بنے ہوئے سگار کا دھواں کیلاش کی بستی کی سرد رات میں کہیں تہلیل ہو گیا ۔۔۔

دھویں کی لکیر کا پیچھا کرتے آسمان کی طرف دیکھا اور دیکھتا رہ گیا ۔۔۔

بلندو بالا پہاڑوں میں گھری اس بستی کا آسمان کچھ اور ہی منظر پیش کر رھا تھا

دھویں گرد و غبار اور شہر کی آلودگیوں سے پاک اس فضا میں آسمان کا دلفریب نظارہ دیکھنے لائق تھا

لاکھوں تارے آسمان پہ ٹمٹما رھے تھے ۔۔

کچھ بہت زیادہ روشن

اور بہت قریب

اور کچھ دُور بہت دُور ۔۔۔کہ آنکھیں میچ کر دیکھنا پڑ رھا تھا ۔۔۔

ایسے لگ رھا تھا جیسے آسمان پہ چراغاں کیا گیا ہو ۔۔

بچپن میں جب میں اکثر گاوں جایا کرتا تھا تو گاوں کی حویلی میں موجود وسیع و عریض دالانوں میں بان کی بنی ہوئی بڑے بڑے رنگیلے پایوں والی چارپائیاں بچھی ہوئی ہوتی تھیں اور میں دن بھر کھیل کود کے بعد جب تھک ھار کر رات کو اپنی پسندیدہ رنگین پائیوں والی چھوٹی سی پنگھوڑا نما چارپائی پہ لیٹتا تھا جو کہ میری بی جی نے خاص طور پہ میرے لئیے بنوائی تھی ۔ اُس چارپائی پہ لیٹ کر اپنے ننھے سے تکیے پہ سر رکھ کر میں تارے گنا کرتا تھا۔رات کو گاوں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے گپ اندھیرا ہوتا تھا اور آسمان بالکل ایسے ہی شفاف نظر آتا تھا ۔

شہر کی آلودگیوں سے بالکل پاک ۔۔۔۔

اور آسمان کو تکتے ہوئے میں اُس میں موجود ستاروں میں اپنی ماں کو ڈھونڈتا تھا ۔۔ماں جی جب میں سات سال کو تھا تو مجھے چھوڑ کر اللہ جی کے پاس چلی گئیں تھیں ۔اور تب میں سوچتا تھا کہ یہ جو ستارے ہیں یہ سب ان لوگوں کے گھر ہیں جو فوت ہو جاتے ہیں اور یہ دنیا چھوڑ کر آسمان پہ اللہ جی کے پاس چلے جاتے ہیں ۔۔اور ان میں سے ایک ستارہ جو سب سے روشن نظر آتا تھا اُس میں میری ماں جی رہتی ہیں ۔اور وہ اس وقت مجھے دیکھ رھی ہیں ۔۔۔اور یہی سوچتے سوچتے نیند آ جاتی تھی ۔۔۔۔

اور آج کئی سال بعد اپنے گاوں سے سینکڑوں میل دور ۔پاکستان کے اس کونے میں

صدیوں پرانی تہذیب کی حامل بلند و بالا پہاڑوں سے گھری اس بمبوریت کی بستی میں واقع ہوٹل فارنرز ٹورسٹ ان کے اندر میں دوبارہ اس شفاف آسمان کو تک رھا تھا اور آج اس آسمان میں ایک کے بجائے دو روشن تاروں کو ڈھونڈ رھا تھا جن کے مکین میرے بابا اور میری ماں تھے ۔۔۔

اور پھر اچانک ایک تارہ ٹوٹا اور چمکتی لکیر بناتا آسمان پہ کہیں غائب ہو گیا

اور بالکل ویسے ہی

میری آنکھوں میں دو تارے جھلملاتے ہوئے

یادوں کی روشن لکیر میرے رخساروں پہ بناتے ہوئے آنسووں کی صورت بہہ نکلے ....

رات بیت چلی تھی ۔دور کہیں بہت دور ڈھول بجنے کی اور غیر مانوس زبان میں کوئی گیت گایا جا رھا تھا ۔۔

میری انگلیوں میں دبا سگار جانے کب کا بجھ گیا تھا ۔ہوٹل کی روشنیاں گُل ہو چکی تھیں اور

تاش کھیلنے والے لڑکے اپنے اپنے خیموں میں چلے گئے تھے میں بوجھل دل کے ساتھ ُاٹھ کر اندر کمرہ میں گیا ۔وضو کیا نماز ادا کی اپنے مرحومین والدین کیلئے دعائے مغفرت کی اور بستر پہ لیٹ گیا ۔۔۔

کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں اور کمرے میں باہر خیمے میں موجود کسی سیاح کے موبائل سے موسیقی کی آواز آ رھی تھی

ایہہ جو سلی سلی آندی اے ہوا

کتھے کوئی روندا ہوے گا

یاداں تیریاں نوں سینے نال لا

کتھے کوئی روندا ہوے گا

مزید :

بلاگ -