جے آئی ٹی کو ٹویٹ نہ سمجھنا

جے آئی ٹی کو ٹویٹ نہ سمجھنا
 جے آئی ٹی کو ٹویٹ نہ سمجھنا

  

امجد وڑائچ صاحب کی یہ مہربانی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً ایسی بیٹھک کا اہتمام کردیتے ہیں جس میں ہمیں اصحاب علم و دانش کی قربت میسر آجاتی ہے اور صحافت کے ایک طالب علم کے طور پر ذہن میں موجود تشنہ سوالات کے جواب مل جاتے ہیں۔ اس بار اس بزم کے میزبان جسٹس ریٹائر رانا ارشد صاحب تھے اورمحرک حسب معمول سابق وزیراعلیٰ پنجاب سینئیر سیاستدان میاں منطور احمد وٹو تھے۔ گفتگو کا موضوع پانامہ کیس اور اس پر جے آئی ٹی کی رپورٹ تھی ۔ گفتگو کاسلسلہ شروع ہوا تو اس میں معاملہ کی کئی جہتیں کھل گئیں ۔ باتوں میں سے باتیں نکلتی گئیں اور نئے سے نیا سوال سامنے آتا گیا۔پانامہ کیس اور جے آئی ٹی کے قانونی و سیاسی پہلوؤں پر سیر حاصل بحث ہوئی۔ قانونی لحاظ سے جائزہ لیا گیا تو اس حوالے سے قانون دان منصور عثمان کا کہنا تھا کہ اس میں شریف فیملی کے لئے کئی ایسے راستے ہیں جن کے ذریعہ معاملے کو طویل مدت تک لٹکایا جاسکتا ہے۔ لیکن آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے حوالے سے وزیراعظم کے خلاف جو درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر ہیں ان پر سپریم کورٹ نے خود ہی سماعت کرنی ہے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اگر وزیراعظم کی دروغ گوئی اور اثاثے چھپانے کے حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد مل گئے تو سپریم کورٹ ان پر کارروائی کرے گی اور یہی بات وزیراعظم ،ان کی فیملی اور پارٹی کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ اس طرح بحث کا یہ پہلوٹیکنیکل تھا اور اس بارے قانون او ر آئین کے ماہر ہی صحیح روشنی ڈال سکتے ہیں جسٹس رانا ارشد صاحب کی رائے تھی کہ یہ قانونی کے ساتھ ساتھ سیاسی معاملہ بھی ہے اگر اس کے پیچھے کوئی قوتیں کارفرما ہیں تو پھر اس کی قانونی باریکیوں میں الجھنے کی ٖضرورت نہیں۔ یہ بڑا بنیادی اور جامع تبصرہ تھا۔ سہیل وڑائچ صاحب کا کہنا تھا کہ جے آئی کی رپورٹ ریاست کی نواز شریف کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے اس سے فرار ممکن نہیں ،فیصلہ ہوچکا اور جے آئی کی رپورٹ جو کہہ رہی ہے اس معاملے کا انجام بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ بریگیڈئر نوازش بھی کم وبیش یہی رائے رکھتے تھے۔ ان کی یہ بات اس موقف کو مزید تقویت دیتی ہے کہ جے آئی ٹی نے جو معلومات اکٹھی کیں ان معلومات کی نوعیت اور انہیں اکٹھا کرنے کا طریق کار غیر معمولی ہے یہ سٹائل انٹیلی جنس شئیرنگ والا ہے۔ بریگیڈئر نوازش کے مطابق دنیا میں کہیں بھی اس نوعیت کے انکوائری کمیشنز میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لوگ شامل نہیں ہوتے لیکن میں حیران ہوں کہ نواز حکومت نے جے آئی ٹی میں انٹیلی جنس افسران کی شمولیت پر اعتراض کیوں نہیں کیا۔معلوم نہیں ان کے مشیران کون ہیں۔ لیکن اب بات اس سے آگے بڑھ چکی ہے۔ جنرل(ر) جاوید صاحب کی گفتگو میرے نزدیک بہت اہم تھی ان کا کہنا تھا کہ فوج کو اس سارے معاملے میں بلاوجہ گھسیٹا جاتا ہے اور ہر سیاسی محاذ پر کسی بھی مثبت یا منفی پیش رفت میں لوگ فوج کے کردار کو ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں، حالانکہ فوج اس وقت پاکستان کا سب سے مصروف ادارہ ہے جوپچھلے دس سال سے باقاعدہ طور پر حالت جنگ میں ہے ہمارے افسر اور جوان مہینوں اپنے بچوں کی شکل نہیں دیکھ پاتے ۔وہ ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے فوج اور حکومت میں جاری سرد جنگ اور ان اہم معاملات کا ذکر بھی کر دیا جو سویلین گورنمنٹ اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان ایک ڈیڈ لاک کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک سی پیک ، جسے نواز حکومت اپناایک بڑا کریڈٹ سمجھتی ہے اس پر فوج اور چینیوں کے تحفظات ہیں اور دونوں اس پر عملدرآمد کے حوالے سے حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ حکومت سی پیک کی سکیورٹی کا انتظام مکمل طور پر فوج کے حوالے نہیں کررہی اور اس سلسلہ میں فوج کی طرف سے جو پلان حکومت کو پیش کیا گیا وہ گذشتہ ڈیڑھ سال سے فائلوں میں دبا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے سی پیک پر کام کرنے والے چینی اہلکاروں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں ، دوسرے ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور کشمیر ایسے ایشوز ہیں جس پر پاک فوج کوئی کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں جبکہ موجودہ حکومت اس دونوں معاملات پر اپنی الگ پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے اور پچھلے چار سال سے حکومت نے کشمیر کا معاملہ بالکل دبا دیا ہے۔ میاں منظور وٹو اس حوالے سے بڑے دوٹوک تھے اور ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف پانامہ کے اس گھن چکر میں پھنس گئے ہیں ان کی اس سے برات ممکن نہیں، اور انہیں گھر جانا پڑے گا۔

اس تمام نشست میں ہونے والی گفتگو میں میرے نزدیک سب سے اہم وہ نکات تھے جو جنرل(ر)محمد جاوید نے اٹھائے، اگرچہ اب وہ ایک ریٹائرڈ آفیسر ہیں اور انہوں نے تمام بات ایک تجزیہ کار کی حیثیت میں کی، اور میں بھی اسے اس کالم میں ہرگز کسی آفیشل سٹیٹمنٹ کے طور پر نہیں لے رہا۔ لیکن ان کی باتوں سے ریاست پاکستان میں حقیقی طاقت کے اس اہم ترین مرکز کی ترجیحات سمجھی جا سکتی ہیں۔ اور اگر ان اختلافی ایشوز کو بیک گراؤنڈ میں رکھ کر موجودہ حالات کا تجزیہ کیا جائے تو نہ صرف واقعات کے رونما ہونے کے اسباب بلکہ ان کے انجام کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم پس منظر میں جائیں تو نیوز لیکس کا معاملہ بھی یہی تھا کہ فوج نے سکیورٹی کے معاملہ پر ہونے والی ایک انتہائی اہم میٹنگ کی باتیں لیک کئے جانے کو سکیورٹی رسک اور حکومتی لوگوں کو اس میں ملوث قرار دیا ۔ اس ایشو پر حکومت اوراسٹبلشمنٹ میں کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی کہ نیوز لیکس پر بنائے گئے کمیشن کی سفارشات پر حکومت نے وزیراطلاعات پرویز رشید اور پی آئی او راؤتحسین کو عہدوں سے ہٹا دیا لیکن اس معاملہ پر کشیدگی کی انتہا یہ تھی فوج نے اسے ناکافی اقدام سمجھا اورآئی ایس پی آر کی طرف سے اسے ایک ٹویٹ کے ذریعہ مسترد کردیا گیا، یہ ٹویٹ اور اس کے بعد اس ٹویٹ کا واپس لیا جانا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سول ملٹری تعلقات کے باب کا ایک اہم واقعہ بن گیا ۔ میں تو نہیں سمجھتا لیکن مسلم لیگ نون کے تمام ذمہ دار پانامہ لیکس کے معاملہ کو بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی گردانتے ہیں۔ صبح شام اپنی پریس کانفرنسوں میں اس کا ملبہ عمران خان پر ڈالا جاتا ہے، عمران خان پر تنقید کے ذریعہ مقتدر حلقوں کو جبکہ جے آئی ٹی کے ذریعہ عدلیہ کو مخاطب کیا جارہاہے ۔ اس کشمکش میں حکومت اور اداروں کے درمیان موجود خلیج مزید بڑھتی جارہی ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ پر حکومتی ارکان کی بے بسی ، بے چینی اوربظاہر زچ ہوکرمائل بہ تصادم رویے دیکھتا ہوں اورپھر ان تمام حالات کو جنرل جاوید کی باتوں کے تناظر میں پرکھتا ہوں تو بڑا واضح نظر آتا ہے کہ جے آئی ٹی کی گھمبیرتا بڑی غیر معمولی ہے ، اور جے آئی ٹی رپورٹ بہر حال ٹویٹ نہیں۔ ٹویٹ تو واپس ہوگیا لیکن ۔۔۔۔جے آئی ٹی رپورٹ واپس ہوتی نظر نہیں آتی ۔۔۔ یہ کچھ نہ کچھ لے کر جائے گی۔

مزید :

کالم -