خواتین پر تشدد اور ہراساں کرنا لمحہ فکریہ ہے

خواتین پر تشدد اور ہراساں کرنا لمحہ فکریہ ہے

  

خواتین پر تشدد، ہراساں کرنا عالمی مسئلہ ہے، جس کے سدباب کے لئے دنیا بھر میں ممالک اپنے اپنے قوانین کے مطابق اس مسئلے کوحل کرنے کے لئے کوشاں ہیں،لیکن اندرونی مسائل اور خواتین کی حساسیت کے سبب اس میں کمی کی رفتارسست ہے ،خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور ہراساں کئے جانے کے واقعات، ثقافت اور قبائلی رسم و رواج کی وجہ سے خواتین کو درپیش خطرات، بشمول خواتین کو جنسی مزدوری،اور گھریلو غلامی میں دھکیلنا‘‘جیسے سوالات پوری دنیامیں بسنے والوں میں زیر بحث ہیں ۔

ایک عالمی ادارے کے سروے کے مطابق انڈیا دنیا میں خواتین کے لئے سب سے خطرناک جبکہ امریکہ خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے معاملے میں تیسرے نمبر پر ہے۔خواتین کی صحت جن میں زچگی کے دوران موت، پیدائش اور ایچ آئی وی/ایڈز پر کنٹرول کے معاملے میں انڈیا چوتھے نمبر پر ہے، جبکہ ملازمت میں جانبداری اور (غیر جنسی) گھریلو تشدد کے معاملے میں تیسرے نمبر پر ہے۔حال ہی میں جموں کے علاقے کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ بچی کے ریپ کے خلاف لوگوں کا غصہ ابل پڑا اور ملک گیر پیمانے پر مظاہرے ہوئے، برطانیہ میں قائم ادارے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے سروے میں مجموعی طور پر انڈیا کے بعد جنگ زدہ افغانستان دوسرے اور خانہ جنگی کا شکار شام تیسرے نمبر پر ہے۔خواتین کے معاملے میں سب سے خطرناک ملک کی اس فہرست میں پہلے دس ممالک میں سعودی عرب، پاکستان، کونگو اور نائجیریا کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی شامل ہے۔

امریکہ جنسی تشدد کے معاملے میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ غیر جنسی تشدد کے واقعات میں وہ چھٹے غیر پر ہے جبکہ جنسی تشدد کے معاملے میں کونگو دوسرے نمبر پر ہے۔خواتین پر (غیر جنسی) تشدد کے معاملے میں افغانستان سرفہرست ہے، جبکہ شام اور انڈیا کا نمبر دوسرا اور تیسرا ہے۔ پاکستان اس معاملے میں پانچویں نمبر پر ہے۔سات سال قبل ہونے والے سروے میں افغانستان خواتین کے لئے سب سے خطرناک ملک قرار دیا گیا تھا، جبکہ حالیہ سروے میں وہ دوسرے نمبر پر ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا کا پہلے نمبر پر آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کو لاحق خطرات کو دور کرنے کے لئے انڈیا میں زیادہ کوشش نہیں کی جا رہی حالانکہ 2012 ء کے آخر میں دارالحکومت دلی میں ایک چلتی ہوئی بس میں ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ کے بعد ریپ کے قوانین میں سختی لائی گئی تھی۔انڈین میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق انڈیا کی جنوبی ریاست کے ایک سرکاری اہلکار منجو ناتھ گنگا دھر نے کہا: انڈیا میں خواتین کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ ریپ، میریٹل ریپ، جنسی تشدد اور ہراساں کیا جانا اور بچیوں کو رحم مادر میں ہی قتل کیا جانا بلا روک ٹوک جاری ہے۔اس سروے میں خواتین کے لئے کام کرنے والے سات سو سے زیادہ ماہرین سے رجوع کیا گیا تھا جن میں سے تقریباً چھ سو افراد نے جواب دیا۔اس سروے میں اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں خواتین کو لاحق خطرات سے متعلق سوال پوچھے گئے تھے۔دوسرا نمبر جنگ سے تباہ حال افغانستان اور تیسرا نمبر شام کا ہے۔ چوتھے نمبر پر صومالیہ، پانچویں پر سعودی عرب جبکہ پاکستان چھٹے نمبر پر ہے۔

خواتین کے لئے خطرناک ترین ملکوں کی فہرست میں پہلا نمبر بھارت کا ہے جہاں خواتین کے استحصال، تشدد اور جنسی ہراسگی کے واقعات میں اضافہ ہوتاجا رہا ہے۔برطانوی ادارے تھامسن رائٹرز فاونڈیشن نے خواتین کے مسائل اور امور سے متعلق 550 ماہرین سے کئے گئے سروے کے بعد خواتین کے لئے دنیا کے خطرناک ترین ملکوں کی جو فہرست بنائی گئی ہے ان میں بھارت پہلے نمبر پر ہے۔دوسرا نمبر جنگ سے تباہ حال افغانستان اور تیسرا نمبر شام کا ہے۔چوتھے نمبر پر صومالیہ، پانچویں پر سعودی عرب جبکہ پاکستان چھٹے نمبر پر ہے۔اسی طرح کا سروے 2011 ء میں بھی کرایا گیا تھا جس میں اس وقت خواتین کے لئے خطرناک ترین ملکوں میں افغانستان پہلے، ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو دوسرے اور پاکستان تیسرے نمبر پر تھا۔

سروے میں خواتین کو میسر صحت کی سہولیات، معاشی مواقع، خواتین سے متعلق روایات و رسومات، جنسی و غیر جنسی تشدد اور انسانی اسمگلنگ جیسے معاملات کا جائزہ لے کر فہرست بنائی گئی تھی۔خواتین کے لئے خطرناک ترین ملکوں کی تازہ ترین صورتحال جاننے اور ان کی فہرست ترتیب دینے کے لئے 26 مارچ سے 4 مئی 2018 ء کی درمیانی مدت میں سروے کیا گیا۔فہرست میں پہلی پوزیشن پر موجود ملک بھارت کی خواتین کو کئی طرح کے تشدد کا سامنا ہے۔ پانچ سال قبل دارالحکومت نئی دہلی میں چلتی بس میں ایک طالبہ کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل نے ملک گیر احتجاج اور غصے کو جنم دیا تھا۔حکومت نے خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام اور ان واقعات میں ملوث افراد کیخلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ لیکن صورتحال جوں کی توں ہے۔ بھارت میں خواتین کو جنسی ہراسگی اور تشدد، ثقافتی اور انسانی اسمگلنگ عروج پر ہے، جس میں جبری مشقت، جنسی غلامی اور گھریلو تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔طالبان حکومت کے خاتمے کے17سال بعد بھی افغانستان میں خواتین کے مسائل حد درجہ سنگین ہیں۔ یہاں خواتین سے غیرجنسی تشدد عام ہے۔ انہیں صحت کی سہولتیں پوری طرح میسر نہیں اور معاشی ذرائع تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔

سات سال کی خانہ جنگی کے بعد شام میں خواتین کو علاج معالجے کی سہولت میسر نہیں۔ ان سہولتوں کے حوالے سے شام دوسرے نمبر پر ہے۔خواتین پر جنسی اور گھریلو تشدد بھی عام ہے جبکہ خواتین پرجنسی تشدد میں امریکا اور شام کا مشترکہ نمبر تیسرا ہے۔صومالیہ جو 1991 سے تنازعات میں گھراہوا ہے خواتین کے لئے چوتھا خطرناک ترین ملک ہے۔ خواتین کو طبی سہولتوں کی عدم فراہمی کے حوالے سے صومالیہ تیسرا خطرناک ملک ہے۔خواتین کی معاشی ذرائع تک عدم رسائی میں صومالیہ پانچویں نمبر پر ہے۔

مجموعی طور پرنمبر پانچ پرموجود سعودی عرب صنف کی بنیاد پر امتیاز اورخواتین کو معاشی وسائل تک رسائی نہ ہونے کے حوالے سے دوسرے نمبر پرہے۔ثقافتی روایات کے حوالے سے سعودی عرب خواتین کے لئے پانچواں خطرناک ملک ہے۔مجموعی طورپر پاکستان خواتین کے لئے چھٹا خطرناک ملک ہے جہاں خواتین کو صنفی امتیاز،معاشی وسائل۔ ثقافتی روایات اورغیرت کے نام پر قتل جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ گھریلو تشدد کے معاملے میں پاکستان پانچویں نمبرپرہے۔کئی سال تک فرقہ وارانہ تشدد اورقتل وغارت کا شکار رہنے والا ملک کانگو خواتین کے لئے مجموعی طور پر ساتواں خطرناک ملک ہے، جبکہ جنسی تشددکے حوالے سے اس کا نمبر دوسراہے۔

خواتین کو صحت کی سہولتوں،معاشی وسائل، خطرناک ثقافتی اور روایتی رسومات کی بنیاد پریمن خواتین کے لئے آٹھواں خطرناک ملک ہے۔ نائجیریا ،خواتین کے لئے نواں خطرناک ملک ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں نوسال سے بوکو حرام جنگجو تنظیم کے خلاف کارروائیوں کے دوران نائجیریا کی فوج کو تشدد، زیادتی اور شہریوں کے قتل عام کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔ انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے بات کریں تو نائجیریا اورروس مشترکہ طورپرچوتھے نمبر پرہیں۔خواتین مخالف روایات کے حوالے سے نائجیریا کانمبر چھٹا ہے۔خواتین کے لئے خطرناک ترین 10 ملکوں کی فہرست میں امریکہ دسویں نمبر پر ہے۔ امریکہ اس فہرست میں شامل واحد مغربی ملک ہے۔ خواتین پرجنسی تشدد، زیادتی، جنسی طور پر ہراساں کرنے کے حوالے سے شام اور امریکہ کا مشترکہ نمبر تیسرا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -