سیاسی انجینئرنگ اور قومی معیشت

سیاسی انجینئرنگ اور قومی معیشت
سیاسی انجینئرنگ اور قومی معیشت

  

پچھلے کالم میں ذکر ہوا تھا، اوپر والوں کا، مسلم لیگ کا اثر ختم کرنے کی کوشش اور اس کے انتخابی عمل پر مرتب ہونے والے اثرات کا۔ اب آئیے تجزیہ کرتے ہیں کہ انتخابی عمل میں مداخلت کرنے اور سیاسی انجینئرنگ کے ملکی معیشت اور معاشرت پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ جب سے ملک میں سیاسی اتھل پتھل شروع ہوئی ہے، قومی معیشت کا گراف مسلسل نیچے کی طرف جارہا ہے۔ درآمدات و برآمدات کی صورت حال پہلے بھی اچھی نہیں تھی، لیکن اب اور بھی بری ہوچکی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ملکی برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے تو اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ کسی بھی منتخب حکومت کو ٹک کر کام نہیں کرنے دیا جاتا۔مالی سال 2013-14ء میں پاکستان کی برآمدات کا گروتھ ریٹ 2.7 فیصد تھا، یعنی ہر سال بر آمدات میں اضافہ ہورہا تھا۔ مالی سال 2014-15ء میں برآمدات کے بڑھنے کا یہ عمل رک گیا، مالی سال 2014-15ء میں برآمدات میں پچھلے سال کے مقابلے میں 12.2 فیصد مزید کمی ہوگئی تھی، اب بھی حالات اطمینان بخش نہیں ہیں، اب اس سارے عرصے میں یہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی، کہا یہی جائے گا کہ نواز شریف کی حکومت میں برآمدات میں کمی واقع ہوگئی، لیکن یہ کوئی نہیں سوچے گا کہ دھرنوں کی وجہ سے حالات خراب کس نے کئے؟ یہ کوئی نہیں دیکھے گا کہ دہشت گردی نے حالات کو کس قدر گھمبیر بنا دیا تھا۔ کسی بھی ملک کی معاشی خوشحالی کا اندازہ، اس کی قومی آمدنی اور برآمدات کی مقدار سے لگایا جاتا ہے۔ ہماری برآمدات 30 بلین ڈالر سے آگے نہیں بڑھ سکیں، جبکہ جرمنی کی برآمدات 1400بلین ڈالر سے زیادہ اور جاپان کی 684 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔

چلیں یہ تو ترقی یافتہ ممالک ہیں، لیکن اس شعبے میں تو ہمارے پڑوسی ممالک بھارت، ایران، بنگلہ دیش ہم سے آگے ہیں، انڈیا کی برآمدات 300بلین ڈالر، ایران کی برآمدات 92بلین ڈالر، بنگلہ دیش کی برآمدات35بلین ڈالر ہیں۔یہی صورت حال معیشت کی بڑھو تری کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان گزشتہ مالی سال 2017-18)ء( کے لئے مقرر کیا گیا 6فیصد کا گروتھ ریٹ حاصل نہیں کرسکا۔ یہ 5.79فیصد کے لگ بھگ رہا، جو مقررہ ہدف سے کم ہے۔ حیران کن بات ہے کہ یہ گزشتہ 10برسوں میں سب سے زیادہ گروتھ ریٹ ہے، یعنی پچھلے دس برس میں ہماری معیشت اس سے کم رفتار سے ترقی کرتی رہی۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کچھ عرصہ پہلے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان کی شرح نمو(گروتھ ریٹ) سب سے کم ہے۔ یہ سات ممالک ہیں: پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا، مالدیپ اور نیپال۔۔۔ ایک بڑا مسئلہ دہشت گردی بھی ہے، جس کی وجہ سے کوئی دوسرا ملک یہاں سرمایہ کاری کو تیار نہیں۔ داخلی حالات اس وقت بہتر ہوسکتے ہیں، جب حکومت یکسو ہو کر ان کو ٹھیک کرنے کے بارے میں سوچے، منصوبہ بندی کرے اور پھر عمل درآمد یقینی بنائے۔ غربت اور غیر ملکی قرضے بھی معیشت پر بوجھ ثابت ہورہے ہیں، آج ملک میں ہر تیسرا شہری غریب ہے۔

چند سال پہلے تک پاکستان کا ہر شہری ہزاروں روپے کا مقروض تھا، آج یہ قرضہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ ہر شہری ایک لاکھ چودہ ہزار روپے کا مقروض ہے۔ یہ قرضہ اسی صورت میں اتر سکتا ہے، جب منتخب حکومتوں کو مکمل آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ پھر پاکستان میں فی کس آمدنی بہت کم ہے۔ غربت کی ایک بڑی وجہ یہ محدود فی کس آمدنی بھی ہے۔ زرعی شعبے کی پیداوار اتنی نہیں جتنی ہونی چاہئے۔ صنعتی سیکٹر بھی جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں، چنانچہ صنعتی شعبہ ایسی پراڈکٹس تیار کرنے کے قابل نہیں، جو عالمی منڈی میں ترقی یافتہ پراڈکٹس کا مقابلہ کرکے اپنی جگہ بناسکے۔ یہاں بے روزگاری ہے، وسائل کا ٹھیک استعمال نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے یہ ضائع ہورہے ہیں، جیسے پانی، بجلی، پٹرولیم اور توانائی سمیت دوسرے ذرائع۔ اس وقت روپے کی قدر تیزی سے گررہی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف اندرون ملک اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، بلکہ غیر ملکی قرضوں میں خود بخود اضافہ ہورہا ہے اور بین الاقوامی تجارت میں ادائیگیوں کا توازن تیزی سے مزید بگڑ رہا ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ اس وقت ملکی معاملات چلانے والوں کی توجہ معیشت کی طرف بالکل بھی نہیں۔ یوں لگتا ہے ساری توانائیاں بس اس مقصد کے لئے خرچ کی جارہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کو کسی بھی طرح آئندہ الیکشن میں کامیاب نہ ہونے دیا جائے، اس کے لئے ہر جائز و ناجائز طریقہ استعمال اور اختیار کیا جارہا ہے اور ایسا کرنے والے اس پر کوئی شرمندگی بھی محسوس نہیں کررہے:

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

اس ملک کے مستقبل، موجودہ نسل اور آنے والی نسلوں کے بارے میں کوئی کچھ نہیں سوچ رہا کہ اگر معاملات اسی طرح چلتے رہے تو آنے والے ماہ وسال میں ہم کیسے گزارہ کریں گے؟ اقوام عالم کے شانہ بشانہ کیسے آگے بڑھ سکیں گے؟ مجھے لگتا ہے کہ سیاسی انجینئرنگ ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دے گی، اگر ملک کو بچانا ہے اور ترقی کی منزل کی طرف لے کر جانا ہے، اگر ہمیں اپنا اور آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو پھر سیاسی عمل میں مداخلت بند کرنا ہوگی۔

مزید : رائے /کالم