ٹیکس پالیسی کا اعلان پہلے، مذاکرات بعد میں، نتیجہ ناکامی……ہڑتال موثر!

ٹیکس پالیسی کا اعلان پہلے، مذاکرات بعد میں، نتیجہ ناکامی……ہڑتال موثر!

  

سینیٹ رسہ کسی،محاذ آرائی بڑھ گئی، روایت اور جمہوری اصولوں کے خلاف عمل سے ملکی نقصان ہو گا

ہڑتالوں اور لیکس کی سیاست سے ملک کا منظر گہنایا ہوا نظر آ رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے ردعمل میں وکلاء کا ایک بڑا گروپ ملک بھر میں سراپا احتجاج ہے،جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی نئی ٹیکس پالیسی کے خلاف تاجر برادری اور کاروباری طبقات بھی احتجاج کا راستہ اپنانے پر مجبور نظر آ رہے ہیں۔تاجروں نے نئی ٹیکس پالیسیوں کے خلاف ایک ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا بھی مظاہرہ کیا، جبکہ حکومت اور تاجر برادری کے مابین ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ صحافی بھی آزادیئ اظہار ِخیال کے اپنے بنیادی حق کے تحفظ کے لئے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے،حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ملک بھر میں اہم ترین طبقات منظم ہو رہے ہیں۔حکومت ایسے شعبہ جات زندگی سے تعلق ر کھنے والے عوام،جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کے حامل ہیں، کے ساتھ ایک خلا کی کیفیت میں نظر آ رہی ہے۔ایسا لگتا ہے حکومتی پالیسیوں کے معمار سٹیک ہولڈرز کے ایشوز سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر انہیں اعتماد میں لینا گوارا نہیں کر پا رہے۔اگرچہ وزیراعظم عمران خان سے تاجروں کے وفود نے ملاقاتیں کیں اور ایف بی آر کے سربراہ شبر زیدی بھی تاجروں اور کاروباری طبقات سے ملاقاتیں کر رہے ہیں،لیکن یہ ملاقاتیں اس لئے بے سود ثابت ہو رہی ہیں کہ حکومت نے اپنی ٹیکس پالیسی کا اعلان پہلے کیا اور ملاقاتیں بعد میں شروع کیں۔ایک ڈیڈ لاک کی کیفیت نظر آ رہی ہے۔

ملک کی سیاسی صورت حال کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو احتساب جج ارشد ملک کی ویڈیو لیکس سے ملکی سیاست میں بھی ایک طوفان برپا نظر آ رہا ہے۔ عدالتی اور احتسابی نظام پر عوام کے سوالات اُٹھ رہے ہیں،احتسابی کارروائیوں کا شکار سیاست دان اس پورے احتسابی اور عدالتی نظام پر اپنے تحفظات کھل کر بیان کر رہے ہیں۔احتساب جج ارشد ملک کے خلاف کارروائی نے ویڈیو سکینڈل کی حقیقت میں مزید رنگ بھرا ہے۔احتساب جج ارشد ملک کی جانب سے بیانِ حلفی میں سامنے آنے والے انکشافات بھی چشم کشا ہیں۔ان انکشافات پر بھی بہت سے سوالات اُٹھ رہے ہیں۔لگتا ہے یہ ویڈیو سکینڈل ملکی سیاست میں شاکس آفٹر شاکس برپا کرتا رہے گا۔ اگرچہ وفاقی وزارتِ قانون نے احتساب جج ارشد ملک کو کام سے روک دیا ہے اور ان کا تبادلہ بھی لاہور ہائی کورٹ میں کر دیا گیا ہے،لیکن لگتا ہے کہ اس کیس کی انکوائری میں مزید بہت سے راز طشت ازبام ہوں گے۔دوسری جانب ایسا لگتا ہے کہ جواب آں غزل کے طور پر ”ڈیلی میل“ لندن کی سٹوری نے بھی ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے اس کے مضمرات نہ صرف ملکی سیاست پر نظر آئیں گے،بلکہ حقیقت خواہ کچھ بھی ہو اس گھر کی لڑائی کو بیرون ملک لڑنے سے ملکی امیج بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔قوی امکان ہے کہ برطانوی حکومت اس کی انکوائری کروائے گی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ تاہم برطانوی حکومت کی جانب سے ابتدائی طور پر سامنے آنے والے ردعمل میں یہ کہا گیا ہے کہ ڈیلی میل کی سٹوری میں کوئی خاص ٹھوس شہادت نہیں ہے۔تاہم ملک میں معتدل مزاج اور سوچ کے حامل افراد جو ملک میں جاری اس شدید محاذ آرائی کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ سوال ضرور اٹھا رہے ہیں کہ ”سکینڈلز اور کیس“ کی سیاست کا بالآخر انجام کیا ہو گا؟ سب شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر ایک دوسرے پر پتھر پھینک رہے ہیں،ملک میں اس بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی جو اب ایجی ٹیشن کی طرف رواں نظر آ رہی ہے، کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا کوئی بالادست ہمیشہ کے لئے اور مکمل طور پر دوسرے فریق کو زیردست کر لے گا؟ ملک کے اندر بڑھتا ہوا سیاسی انتشار کس کی خدمت کر رہا ہے؟دارالحکومت میں ایسے اعتدال پسند حلقے ملک میں جاری سیاسی صورتِ حال پر خاصے مضطرب ہیں۔وہ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ کیا22کروڑ کے اس ملک میں کوئی بڑا نہیں ہے جو جوش کو ہوش میں بدلنے کے لئے کھڑا ہو جائے۔ ایوانِ بالا میں بھی بہت بڑا سیاسی دنگل ہونے کو ہے۔چیئرمین سینیٹ کے اہم ترین عہدہ کے لئے ہونے والا یہ جوڑ بھی محاذ آرائی کی سیاست کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔اگر چیئرمین سینیٹ کے عہدہ کے لئے انتخاب میں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا گیا تو یہ آئندہ ملکی سیاست میں خطرات کا حامل ہو سکتا ہے، کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے 44 دستخطوں سے عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس66ووٹ ہیں اور حکومت کے پاس محض 37 ووٹ ہیں،حکومت کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ چیئرمین سینیٹ کے انتخابی عمل کو کچھ عرصہ کے لئے التوا میں ڈال دے اور اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن کے بعض سینیٹروں کے ”ضمیر جگانے“ میں کامیاب ہو کر عددی اکثریت حاصل کر لے،لیکن اس راستہ کا انتخاب انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔اگر حکومت نے اس ملاکھڑے میں سیاسی رواداری اور جمہوری تقاضوں کی پاسداری نہ کی تو آئندہ آنے والے دِنوں میں ملک میں جاری سیاسی جنگ مزید تیز ہو جائے گی۔ تاہم وزیراعظم عمران خان چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی جیت کے لئے پُرعزم نظر آتے ہیں،جبکہ دوسری طرف امیدوار سینیٹر حاصل بزنجو نہایت اعلیٰ پائے کی سیاسی روایات اور کردار کے حامل شخصیت کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں،ان کی ساکھ کا اعتراف ان کے مخالفین بھی کرتے ہیں۔ وہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر ہیں اور وہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں میں نہ صرف یکساں مقبول ہیں، بلکہ حکومتی اراکین بھی انفرادی طور پر ان کی سیاسی جدوجہد کے مداح نظر آتے ہیں،لیکن چیئرمین سینیٹ کے عہدہ پر کامیابی کے محرکات مختلف ہو سکتے ہیں۔سینیٹر حاصل بزنجو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اگرچہ بائیں بازو کے سیاست دان ہیں،لیکن وہ اعتدال پسند رہنما ہیں، جو قومی اداروں کے احترام پر یقین رکھتے ہیں۔اب دیکھنا ہے کہ پاکستان چیئرمین سینیٹ کے عہدہ کے انتخاب کی آزمائش سے کس طور عہدہ برا ہوتا ہے! اگر پاکستان اس آزمائش سے جمہوری تقاضوں کی روح کے مطابق سرخرو ہونے میں کامیاب ہو گیا تو ملک میں جاری سیاسی انتشار میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ درحقیقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اسیر قائد نواز شریف نے سینیٹر حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ کے عہدہ پر نامزد کر کے ترپ کی (سیاسی) چال چلی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ حکومت اس چال کو کیسے جھیلتی ہے، حکومت کے لئے بہت سے چیلنجز ہیں۔

حال ہی میں عالمی عدالت انصاف کی جانب سے ریکوڈیک کیس کے فیصلہ نے بھی پاکستان کے عدالتی نظام کو ”بلڈوز“ کر کے رکھ دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اِس ضمن میں ایک کمیشن قائم کر دیا ہے۔اگر اس کمیشن نے اپنا کام صحیح طور پر انجام دیا تو پاکستان میں بڑی عدالتی اصلاحات کی طرف راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا آئندہ دور امریکہ بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر گھر میں حالات بہتر ہوں گے تو وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے اپنا کیس جیت سکتے ہیں۔ معاشی و سیاسی حالات بہتر نہ ہوئے تو ٹرمپ پاکستان کا بازو موڑنے کی کوشش کرے گا۔ ٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -