ہڑتال کے آفٹر شاکس، پی ٹی آئی کارکنوں کا قیادت کے خلاف احتجاج

ہڑتال کے آفٹر شاکس، پی ٹی آئی کارکنوں کا قیادت کے خلاف احتجاج

  

قبائلی اضلاع میں عام انتخابات کی پولنگ سکیم جاری

حکومت کی طرف سے عائد کئے جانے والے ٹیکسوں اور مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافے کے بعد مختلف تاجر تنظیموں کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال کی بازگشت خیبرپختونخوا میں بھی سنائی دی اور صوبائی دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن رہا، اگرچہ گلی محلے کی بیشتر دکانیں کھلی رہیں تاہم بڑی مارکیٹوں میں کاروبار معطل تھا۔ عالمی منڈیوں سے منسلک کاروباری مراکز میں بھی ہڑتال کی گئی، حیران کن امر یہ ہے کہ جن تاجر تنظیموں نے اس ہڑتال کی مخالفت اور حکومتی موقف کی حمایت کا اعلان کیا تھا، ان کی اپنی یا عزیز و اقارب کی مارکیٹیں بھی ہڑتالی دوڑ میں شامل ہو گئیں۔ خیبرپختونخوا میں ایک منفرد بات یہ ہوئی کہ ٹیکسوں کے نام پر ہونے والی تاجروں کی ہڑتال کے آفٹر شاکس اب تک آ رہے ہیں اور ہڑتال کے بعد حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اپنے کارکن ہی پارٹی قیادت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔پشاور میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے دو روز قبل ایک احتجاجی ریلی نکالی جس میں قیادت کے خلاف ناصرف نعرے بازی کی گئی بلکہ مظاہرین سے خطاب کے دوران مقررین کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی کو مفاد پرست قیادت سے نجات دلائیں گے، احتجاج کرنے والوں نے مذمتی بینر اور کتبے اٹھانے کے ساتھ ساتھ پارٹی پرچم بھی تھام رکھے تھے اور پرچمی رنگ کی ٹوپیاں بھی پہنی ہوئی تھیں، وہ پارٹی قیادت کے خلاف ”گو گو“ کے نعرے بھی لگا رہے تھے، ان کا مطالبہ تھا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے عوام کو جس پریشانی سے دو چار کیا ہے وہ ناقابل برداشت ہے اس لئے اسے قیادت سے دستبردار ہو جانا چاہئے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ صوبائی حکومت میں شامل بعض رہنمااس قسم کے احتجاج کی درپردہ حمایت یا سرپرستی کر رہے ہیں، وہ پارٹی قیادت سے بعض اہم ایشوز پر نالاں ہیں اور دباؤ بڑھانے کی خاطر کارکنوں کو سڑکوں پر آنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

دوسری اہم خبرانضمام شدہ قبائلی اضلاع میں پہلے عام انتخابات کی ہے جس بارے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبائی اسمبلی کی 16 عام نشستوں پر ہفتہ20 جولائی 2019 کوہونیوالے انتخابات کیلئے انتظامات کو حتمی شکل دیتے ہوئے مجموعی طورپر 1895 پولنگ سٹیشن قائم کردیئے ہیں جن میں نصف سے زیا دہ 1015حساس ترین اور حساس قراردیئے گئے ہیں۔ مجموعی طورپر554 پولنگ سٹیشن انتہائی حساس اور 461 سٹیشن حساس قراردیئے گئے ہیں۔ انتخابات میں کل 27 لاکھ98 ہزارسے زائداہل ووٹرزاپنے رائے دہی کا استعمال کریں گے۔اس ضمن میں الیکشن کمیشن کی جاری کردہ پولنگ سکیم کے مطابق قبائلی ضلع باجوڑ میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں میں کل338، مہمند کے دو حلقوں میں 194، خیبر کے تین حلقوں میں 345‘ کرم کے دو حلقوں میں 265‘اورکزئی کے واحد حلقے میں سب سے زیادہ 175‘ شمالی وزیرستان کے دو حلقوں میں 178‘ جنوبی وزیرستان کے دو حلقوں میں 237 جبکہ چھ قبائلی سب ڈویژن پر مشتمل واحد حلقہ میں 163 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں، جہا ں ذرائع کے مطابق باجوڑ کے تینوں حلقوں میں 6 3پولنگ سٹیشن حساس ترین اور 65 حساس‘ مہمند کے دو حلقوں میں 44 حساس ترین اور 65 حساس‘ خیبر کے تینوں حلقوں میں 68 انتہائی حساس اور 24 حساس‘ کرم کے دو حلقوں میں 46 انتہائی حساس اور 94 حساس‘ اورکزئی کے واحد حلقے میں 8حساس ترین اور 25 حساس‘ شمالی وزیرستان کے دوحلقوں کے کل مجوزہ 178 میں 151 انتہائی حساس اور 27 حساس‘جنوبی وزیرستان کے دو حلقوں کے مجوزہ237 میں 134 انتہائی حساس اور 103 حساس جبکہ چھ قبائلی سب ڈویژن پر مشتمل واحد حلقہ میں 81 حساس ترین اور 26 حساس پولنگ سٹیشن قراردیئے گئے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انتخابات کے لئے چھ قبائلی اضلاع میں وفاقی حکومت نے تھری جی سروس معطل کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

ایک خوش آئند امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت کو ایک سال بعد ہی سہی عوامی فلاحی کاموں کی تشہیر اور اس حوالے سے میڈیا کو اعتماد میں لینے کا خیال آ گیا، وزیر اعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر تمام صوبائی محکمے ہفتے میں دو بار الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو اپنی کارکردگی کے حوالے سے بریف کیا کریں گے۔وزیر اعلیٰ کو یہ تجویز صوبائی نظامت تعلقات عامہ کے سربراہ بہرہ مند درانی نے دی تھی جنہوں نے حال ہی میں ڈی پی آر کامنصب سنبھالا ہے،وہ قبل ازیں وزیر اعلیٰ کے پریس سیکرٹری تھے اور رمضان المبارک سے قبل ٹریننگ کے سلسلے میں وفاقی دارالحکومت گئے اور واپس آ کر نظامت تعلقات عامہ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے اپنی تجویز میں موقف اختیار کیا تھا کہ حکومت عوامی فلاح کے جتنے منصوبے بھی شروع کرے یا پایہ تکمیل کو پہنچائے لیکن اگر ان کا ڈھول نہ پیٹا جائے تو وہ ایک طرف تو عوامی نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں اور دوسری جانب میڈیا سمیت شہری حلقے بھی حکومتی کارکردگی پر انگلیاں اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے بہرہ مند کی اس تجویز کو پذیرائی بخشی ،اب ہر منگل اور جمعرات کو مختلف صوبائی محکمے میڈیا کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کیا کریں گے۔ گزشتہ روز محکمہ اوقاف کے اعلیٰ حکام نے اپنی بریفنگ میں سال رواں کی کارکردگی پر روشنی ڈالی، میڈیا پرسنز نے اس طریقہ کار کو بے حد سراہا۔

صوبے کے مختلف علاقوں میں ہونے والی حالیہ بارشوں کے بعد سیلاب کے خطرات بھی منڈلا رہے ہیں جبکہ بعض علاقوں کے دریاؤں، ندی نالوں میں سطح آب بڑی تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ یہ اطلاع بھی آئی ہے کہ نوشہرہ کے گرد و نواح میں بہنے والے دریائے کابل میں طغیانی کا سماں ہے، اس حوالے سے ترجمان این ڈی ایم اے نے جو فلڈ رپورٹ جاری کی ہے اس میں کہاگیاہے کہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا اور دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ گزشتہ سال مون سون کے دوران بھی سیلابی ریلوں نے کئی علاقوں میں بڑی تباہی مچائی تھی، صوبائی دارالحکومت بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا تھا، ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت قبل از وقت شروع ہونے والی بارشوں کے پانی کے بہاؤ کا پہلے سے ہی کوئی بندوبست کر لے اور انسانی جانوں سمیت مال مویشی اور املاک کے تحفظ کے لئے بھی موثر اقدامات کئے جائیں، قدرتی آفات سے بچاؤ کے ممکنہ انتظامات سے پہلو تہی نہیں ہونی چاہئے اور متعلقہ محکموں کو ہر لمحے الرٹ رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ ٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -