بنک دولت پاکستان کی رپورٹ، مہنگائی کا زبردست طوفان آنے والا ہے

بنک دولت پاکستان کی رپورٹ، مہنگائی کا زبردست طوفان آنے والا ہے

  

صنعتیں بند اور درآمد زیادہ ہو گئی،تین موٹر پلانٹوں نے آٹھ آٹھ دن کی شٹ ڈاؤن کر دی

بینک دولت پاکستان نے ملکی معیشت کے حوالے سے تیسری سہ ماہی کی جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں واضح طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے معیشت کو قابو کرنے کے لئے پالیسیاں استحکام لانے کی طرف کوششیں ضرور ہیں، لیکن مارچ تا جولائی کے دوران بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں کمزوریاں برقرار رہیں جو استحکام کے موجودہ ایجنڈے اور بنیادی نوعیت کی ساختی اصلاحات کے لئے نافذ کرنے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ اس سے اقتصادی شرح نمو کی رفتار انتہائی سست ہوگئی ہے،جو بنیادی طور پر دونوں بنیادی خسارو ں پر قابو پانے کی غرض سے کئے جانے والے پالیسی اقدامات کا ردعمل ہے اور ان اقدامات سے صنعتی شعبے کی کارکردگی متاثر ہو گئی ہے، جو پروڈکشن بند ہونے کا سبب ہے،اس کے ساتھ ساتھ حالیہ بجٹ میں ٹیکس کی شرح میں تبدیلی سے خام مال کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے فصلوں کی پیداوار پر منفی اثر ڈالا ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار کم ہوگئی ہے۔ دوسری طرف مالیاتی خسارے میں ہوشرباا ضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے ملکی محاصل میں کمی ہوئی اور ٹیکس کی آمدنی کی مجموعی وصولی گزشتہ سال کی سطح سے بھی کم ہو گئی، جبکہ رواں سال حکومتی اخراجات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس سے ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنا پڑی اور یہ بچت بھی ان اضافی اخراجات کی نذر ہو گئی، جس سے مہنگائی بڑھ گئی جو پورے سال کے ہدف سے بھی آگے نکل چکی ہے۔یہ کوئی تجزیہ نہیں ہے،بلکہ بینک دولت پاکستان کی وہ مختصر رپورٹ ہے، جو پیر کو جاری ہوئی۔اب اس سے اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ یہ مذکورہ رپورٹ نہ تو کسی سیاسی جماعت نے جاری کی ہے اور نہ ہی ان کے تعینات کردہ کسی اکانومسٹ نے یہ در فنطنی چھوڑی ہے،بلکہ گورنر سٹیٹ بینک،جو درآمد شدہ ہیں نے خالص دستیاب اعداد و شمار پر جاری کی ہیں۔اب اس میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ تمام رپورٹ کوئی بہتر اقتصادی اعشاریے نہیں دے رہی،بلکہ بین السطور اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آئندہ مہنگائی میں حواس گم کرنے والا اضافہ آنے والا ہے۔پروڈکشن کے حوالے سے بینک دولت پاکستان نے اپنی رپورٹ میں واضح کردیا ہے کہ پروڈکشن تقریبا بند ہورہی ہے۔ملک میں اس وقت صنعتی یونٹ تقریبا بند ہیں فیصل آباد تو اس سے قبل ہی بند تھا اور اب سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ ملک میں تین بڑی کاروں کے اسمبلنگ پلانٹ بھی بند ہورہے ہیں،ہونڈا نے ابتدائی مرحلے میں 10دن کے لئے شٹ ڈاؤن کیا ہے،جبکہ ٹویوٹا اور سوزوکی بھی ایک ماہ میں 8دن میں بند رہیں گے۔ اسی ویلیو ایڈیشن کے کئی یونٹ بند ہیں۔ایکسپورٹ تھوڑی بہت صرف آم کی ہورہی ہے باقی آپ ایکسپورٹرز سے پوچھ سکتے ہیں کہ ان کا کیا حال ہے، درآمدی بل کم ہو ا یا نہیں۔پورٹ پر کلیئر ہونے والے سامان کا رش دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اصل کہانی کیا ہے اور شاید یہی وجوہات تھیں کہ پہلی مرتبہ پاکستان کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت کی کھلم کھلا حمایت کے بغیر تاجر تنظیموں نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر جو ہڑتال کی وہ ہر حد تک کامیاب رہی تقریباً تمام بڑے شہروں میں فروٹ و سبزی سمیت غلہ منڈیاں بھی بند رہیں اس میں اہم پہلویہ ہے کہ ہڑتال کروانے والے متعدد تاجروں کا تعلق تحریک انصاف سے بھی تھا اور قبل ازیں انہیں منانے اور وزیراعظم عمران خان سے پہلے ملاقات کروانے کی کوشش بھی کی گئی لیکن دال گل نہ سکی۔ہڑتال مخالف تاجروں نے بھی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔اب اس ہڑتال پر حکومت کیا موقف اختیار کرتی ہے اس کے لئے آنے والا وقت ہی بتا پائے گا کیونکہ یہ سب کچھ اس حکومت کی اقتصادی ٹیم کا کیا دھرا ہے اور مہنگائی ایک ایسا پہلو ہے، جس کی تاریخ دنیا میں واضح ہے کیونکہ انقلاب کے پیچھے روٹی ہی کار فرما رہی ہے، اب انصافی حکومت اس کو کیسے لیتی ہے اور کب تک چلتی ہے۔ اس کے لئے سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی بڑ ے واضح ہیں جن کا کہنا ہے کہ ملک میں عملی طور پر مارشل لاء ہے جو جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء سے بھی بد تر ہے۔جو مہنگائی کا طوفان لایا ہے اور عوام ان سے اتنے تنگ ہیں کہ کسی بھی وقت عوام کا سیلاب سڑکوں پر آسکتا ہے جو حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکا ہوگا اور مجھے عمران حکومت دسمبر کے آگے چلتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔ ٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -