سیاستدان اور ادارے نیا میثاق جمہوریت کریں

سیاستدان اور ادارے نیا میثاق جمہوریت کریں
 سیاستدان اور ادارے نیا میثاق جمہوریت کریں

  

نون لیگ ایکشن میں آچکی ہے کیونکہ اسے دیوار سے لگایا جا رہا تھا۔ لیکن دوسری جانب حکومت بھی ایکشن میں آگئی ہے، یہی نہیں بلکہ برطانیہ بھی ایکشن میں آگیا ہے، اعلیٰ عدلیہ بھی ایکشن میں آگئی ہے....ہر طرف عمل کا ردعمل ہو رہا ہے!

نون لیگ کو اندازہ تھا کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو کا ردعمل آئے گا، کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔ اسی لئے مریم نواز نے 6جولائی کو واشگاف انداز میں کہا تھا کہ میں خبردار کرتی ہوں کہ اگر کسی نے شرارت کرنے کی کوشش کی تو میرے پاس اس کے علاوہ بھی ویڈیوز ہیں۔ اس کے بعد تو پراپیگنڈے کی جنگ شروع ہو گئی جو تادمِ تحریر جاری ہے۔

حکومت کے لئے اگر کوئی مصیبت ہے تو یہ ہے کہ بجٹ اقدامات کی وجہ سے اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہے جبکہ متحدہ اپوزیشن اس صورت حال کو موقع غنیمت جان کر پلٹ کر جھپٹنے کے درپے ہے۔ ایسے میں حکومت کے لئے مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ وہ ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ نمٹے، وہ چاہتی ہے کہ کوئی پیکج ڈیل ہوجائے جس میں ساری اپوزیشن کو پرویا جا سکے مگر ٹوئٹر اکاؤنٹ ’خاموش‘ہے۔

ان حالات میں سوالات در سوالات جنم لیتے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ کیا نواز شریف کی رہائی ہوگی؟ رہائی ہوگئی تو پانامہ مقدمے کے فیصلے کا کیا بنے گا؟ کیا دوبارہ وہی کچھ سٹیج ہو سکے گا؟ سینٹ چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا کیا بنے گا؟ وہ کامیاب ہوگئی تو کیا ہوگا؟ ناکام ہوگئی تو کیا ہوگا؟ یوں کہئے کہ سوالات جتنے زیادہ ہیں جوابات اتنے ہی کم ہیں۔جب سوال زیادہ پیدا ہونا شروع ہو جائیں تو بہت سے سوالوں کا جواب ایک اور سوال ہی ہوتا ہے اور نظام پر بے اعتباری بڑھ جاتی ہے۔

نون لیگ کی ترجیح اول نواز شریف کی رہائی ہے جبکہ تحریک انصاف کی ترجیح اول کرپشن سے کمائی جانے والی دولت کی واپسی ہے مگر بجٹ، مہنگائی، بے یقینی، ساڑھے پانچ کھرب روپے کا ریونیو ہدف اور تاجروں کی شٹرڈاؤن پاور....ان جملہ مسائل نے تحریک انصاف کے کرپشن کے خلاف نعرے کو کمزور کردیا ہے کیونکہ عوامی فلاح، نوکریوں، روزگار، صنعت و حرفت کے پہئے اور ٹیکسوں کے محاذ پر حکومتی کارکردگی ایک بہت بڑے نقص کا شکار نظر آرہی ہے۔ اس صورت حال کا فائدہ نون لیگ کو ہو رہا ہے، کل کلاں پیپلز پارٹی کو بھی ہوگا کیونکہ حکومت ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہو سکی ہے جن سے کرپٹ عناصر سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ عہدہ برآ ہونا تھا۔ نتیجہ یہ ہے کہ عام آدمی تنگ ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے، روزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں، حکومت کا اعتبار کم ہو رہا ہے بلکہ یوں کہئے کہ عوام بے اعتبار حکومت اور عیار اپوزیشن کے بیچ گھر گئی ہے اور کون نہیں جانتا کہ جب بے اعتباری بڑھ جائے تو عیاری غالب آجاتی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی انٹری تو ابھی ہونی ہے، ان سے نپٹنا نواز شریف سے نپٹنے سے زیادہ مشکل ہوگا کیونکہ ان کے کارکن علامہ طاہرالقادری اور خادم حسین رضوی کے کارکنوں کی طرح ملیشیا کے سمان ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے کارکن تو تربیت یافتہ بھی ہیں اور اگر وہ اپنی آئی پر آگئے تو صورت حال میں مزید بگاڑ پیدا ہو جائے گا، حکومت کی بے اعتباری اور اپوزیشن کی عیاری میں اضافہ ہو جائے گا، بگاڑ بڑھ جائے گا اور قانون نافذ کرنے والے سیکورٹی کے ادارے عوام کے سامنے آکھڑے ہوں گے!

ایسے میں حکومت کے لئے ضروری ہے کہ راستہ بنائے، اسے سمجھنا چاہئے کہ اپوزیشن کو بھی عوام نے ووٹ دیئے ہیں، ان کے بھی گلے شکوے ہیں جنھیں رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ ہم سب کو بھی راستہ بنانا ہوگا تاکہ نظام چلتا رہے، ہرا یک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، غیر ذمہ داررویہ کسی کا بھی ہوا، تاریخ میں رقم ہو جائے گا۔ اگر نواز شریف کو غلط سزا ہوئی ہے تو انہیں رہا ہونا چاہئے، اگر جج نے غلط بیانی سے کام لیا ہے تو سزا ملنی چاہئے اور اگر ضمیر کی آواز پر لببیک کہا ہے تو انہیں ایوارڈ سے نوازا جانا چاہئے۔ اگر حالات کو درست کرلیا جائے گا تو ہر ایک کی واہ واہ ہوگی وگرنہ ہر ایک کو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا اور تاریخ میں رسوائی مقدر ہوگی۔

حکومت اور اپوزیشن کو میثاق معیشت ہی نہیں میثاق جمہوریت بھی دوبارہ کرنا چاہئے کیونکہ خراب جمہوریت کا علاج مزید جمہوریت میں ہوتا ہے۔ اگر پہلے یہ دو جماعتوں کے درمیان تھا تو اب سب جماعتوں اور اداروں کو بھی اس کا حصہ بننا چاہئے اور تحریک انصاف کو پانچ سال پورے کرنے دینا چاہئیں لیکن عوام زیادہ تنگ ہوں تو مڈٹرم انتخاب کا ڈول ڈال لینا چاہئے مگر پاکستان کی جمہوریت سے وابستگی کو کمزور نہیں پڑنا چاہئے۔

عوام ابہام کی بجائے ابہام کا انجام چاہتی ہے، اسے تذبذب سے نکالئے، اپنا اعتبار بنائیے کیونکہ پہلے بات سیاستدانوں کی تھی اب تو اداروں تک جا پہنچی ہے، اب ڈھیٹ بن کر گزارہ نہیں ہوگا، پانی سر تک پہنچ چکا ہے!

مزید :

رائے -کالم -