ایف بی آر اور کاروباری طبقے کا سخت موقف

ایف بی آر اور کاروباری طبقے کا سخت موقف

  

فیصل آباد میں پروسیسنگ انڈسٹری اور پاور لوم انڈسٹری کی ہڑتال ختم نہیں ہو سکی۔ یہ ہڑتال سترہ روز سے جاری ہے، ہڑتالیوں کا مطالبہ ہے کہ17فیصد سیلز ٹیکس اور شناختی کارڈ کی شرط ختم کی جائے، حکومت متعدد بار یہ دونوں مطالبات ماننے سے انکار کر چکی ہے، تازہ ترین مذاکرات بھی ناکام ہو گئے ہیں، جو ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی اور فیصل آباد کے صنعت کاروں کے درمیان اسلام آباد میں ہو رہے تھے، چیئرمین سی بی آر کا کہنا ہے کہ نہ تو سیلز ٹیکس کی شرح کم کی جائے گی اور نہ ہی شناختی کارڈ کی شرط واپس لی جائے گی، یکم اگست سے اِس پر ہر حالت میں عمل ہو گا، ہڑتال کی وجہ سے60ہزار سے زائد پاور لومز یونٹ بند پڑے ہیں، جن میں کام کرنے والے لاکھوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔

پہلے سے جاری ہڑتالوں اور تالہ بندیوں میں 17جولائی سے تین روز کے لئے فلور ملز بھی شامل ہو رہی ہیں اور ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ آٹے اور میدے پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کے بارے میں تو وضاحت کی گئی ہے، لیکن گندم پر بدستور سیلز ٹیکس نافذ ہے، ایسے میں سٹیٹ بینک نے معیشت کی کیفیت کے بارے میں جو تیسری سہ ماہی رپورٹ مالی سال2019ء کے بارے میں جاری کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ترقی کی رفتار سُست ہو گئی ہے، بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں کمزوریاں برقرار رہیں، صنعتی شعبے کی کارکردگی متاثر ہوئی، ملک میں اشیا سازی کی سرگرمیاں ماند پڑیں، مالیاتی خسارے میں اضافہ ہوا، جاری اخراجات تیزی سے بڑھے، ترقیاتی اخراجات میں کمی سے ہونے والی بچت زائل ہو گئی، تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے۔ حیرت ہے کہ نہ تو جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے اور بیروزگاری بھی۔ ایک ہی شہر میں لاکھوں مزدور بے روزگار ہیں، تاجر ایک کامیاب ہڑتال کر کے معیشت کو ایک ہی دن میں 25ارب روپے سے زائد کا بڑا جھٹکا لگا چکے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں آئندہ وہ اور کتنی ہڑتالیں کریں گے۔ پشاور جیسے شہر میں حکومت کی منظوری سے نان15روپے کا فروخت ہونا شروع ہو گیا ہے، لاہور میں اگرچہ یہ12روپے کا ہے، لیکن اس کا وزن کم کر دیا گیا ہے، اس کے باوجود اگر معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے تو یہ معلوم نہیں کس کا کمال ہے،کسی اقتصادی جادو گرکا یا اعداد و شمار اوپر نیچے کرنے والوں کا۔

تاجروں اور صنعت کاروں کی ہڑتالوں کی وجہ سے معیشت میں بہتری کا تو امکان نہیں، بلکہ خدشہ ہے کہ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس ریونیو کے حصول میں یکایک 40فیصد کا جو اضافہ کیا ہے اور جس کے تحت 5550 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے اگر تاجروں اور صنعت کاروں نے کسی بھی وجہ سے اطمینان کے ساتھ کاروبار جاری نہ رکھا تو یہ ہدف کیسے پورا ہو گا؟ ایف بی آر کے چیئرمین کے بلند عزائم اپنی جگہ، ان کا یہ عزم بھی قابلِ تعریف ہے کہ وہ سیلز ٹیکس اور شناختی کارڈ کے مسئلے پر اپنی مونچھ نیچی نہیں ہونے دے رہے، لیکن اُنہیں کسی وقت فرصت میں بیٹھ کر اس سود وزیاں کا حساب بھی کر لینا چاہئے، جو اُن کی سخت گیر پالیسی کی وجہ سے ریونیو کے حصول میں مشکلات کی وجہ بن سکتا ہے، تاجروں کو بھی چاہئے کہ وہ کوئی قابل ِ عمل منصوبہ تیار کر کے چیئرمین ایف بی آر کو پیش کریں، دونوں جانب سے اگر لچک دکھائی جائے تو کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آتا ہے اِس لئے ہماری درخواست تو یہی ہے کہ ایف بی آر اور کاروباری برادری اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی بجائے کوئی ایسا درمیانہ راستہ نکالیں کہ حکومت کو ریونیو بھی حاصل ہو اور کاروبار بھی چلتے رہیں، ایک تجویز فکس ٹیکس کی وصولی کے بارے میں بھی گردش کرتی رہی ہے، کیا اس پر مذاکرات کر کے اس تجویز کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ تاجروں کو فکس ٹیکس کی ادائیگی پر اعتراض نہیں، اگر ایسا ہے تو ان خطوط پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

جس طرح کی صورت حال میں ایف بی آر اور کاروباری طبقہ اپنے اپنے موقف پر ڈٹ گیا ہے اور اپنی اپنی اناؤں کی تسکین کے لئے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اس کا نقصان بہرحال معیشت کو ہوگا اور اس سے سب سے زیادہ متاثر کم آمدنی والے افراد ہوں گے، بیروزگاری میں تیزی سے ہونے والے اضافے کی وجہ سے ایک محتاط اندازے کے مطابق مزید 50لاکھ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔ زراعت کا شعبہ کئی سال سے بہتر پرفارم کر رہا تھا، سٹیٹ بینک کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سی فصلوں کی پیداوار کم ہوگئی ہے، گندم ملک کی بنیادی ضرورت ہے اور اس سے بننے والے آٹے کی مصنوعات بھی پاکستان کے ہر شخص کی خوراک کا حصہ ہیں اس سال گندم کی فصل اچھی نہیں ہوئی تھی اور جب فصل پک کر برداشت کے لئے تیار تھی تو بے موسم کی بارشوں نے پیداوار میں خاصی کمی کردی، پانی اور موسم کے خدشات کی وجہ سے غذائی اجناس کی پیداوار کم ہو رہی ہے ایسے میں اگر گندم پر سیلز ٹیکس کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل نہیں ہوتا تو روٹی اور نان کی قیمت بہرحال بڑھے گی اور محض انتظامی اقدامات کی وجہ سے اسے روکنا مشکل ہوگا۔ پشاور کی انتظامیہ نے بالکل درست فیصلہ کیا اور نانبائیوں کے اطمینان کے مطابق قیمت مقرر کردی۔ پنجاب میں ایسی ہی کوئی تدبیر کرکے نان روٹی کی قیمت کا مسئلہ حل کرنا چاہئے۔ فلورملوں کی ہڑتال کا اثر بھی آٹے کی سپلائی پر پڑے گا جو صرف صوبے کی ضرورت ہی پوری نہیں کرتیں بلکہ کے پی کے اور افغانستان تک یہاں تیار ہونے والا آٹا فروخت ہوتا ہے اس لئے ہڑتال سے پہلے پہلے انتظامیہ کو ناخن تدبیر سے یہ مسئلہ حل کر لینا چاہئے۔ ہڑتالوں اور تالہ بندیوں سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں۔

ایف بی آر کے چیئرمین نے جو غیر معمولی طور پر سخت موقف اختیار کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پرائیویٹ سیکٹر سے خصوصی طور پرزیادہ ٹیکس جمع کرنے کے مشن کے تحت لائے گئے ہیں اور ان کا انتخاب کرتے وقت وہ طریق کار بھی اختیار نہیں کیا گیا جو سپریم کورٹ نے طے کر رکھا ہے کہ اگر پرائیویٹ سیکٹر سے کسی شخصیت کی خدمات مطلوب ہوں تو باقاعدہ مقابلے کے بعد اس کا انتخاب ہونا چاہئے، کیونکہ یہ طریق کار نظر انداز کیا گیا اس لئے حکومت نے انہیں فنی طور پر ”اعزازی“ ظاہر کیا ہے، حالانکہ وہ ہر قسم کی غیر معمولی مراعات لے رہے ہیں اور ان کی سیکیورٹی تو وی وی آئی پی ہے۔ اس کے باوجود وہ کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں وزیر اعظم کا مشیر بنا دیا جائے، کیونکہ بطور چیئرمین ایف بی آر اگر ان کی پرفارمنس ایک سال کے اندر ظاہر نہ ہوئی تو یہ حکومت اور خود ان کے لئے سبکی کا باعث ہوگی، اور یہ خدشہ تو ظاہر کیا جارہا ہے کہ ریونیو کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہے۔ شاید وہ اسی خدشے کے پیش نظر اپنا منصب تبدیل کرنا چاہتے ہیں جو بھی ہے انہیں تاجروں اور صنعت کاروں کے ساتھ مسائل حل کرلینے چاہئیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -