بلا اجازت دوسری شادی پر سزا

بلا اجازت دوسری شادی پر سزا

  

پاکستان میں عائلی قوانین کے نفاذکے بعد پہلی بار پہلی اہلیہ کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے پر شوہر کو قید اور جرمانے کی سزا ہوئی۔لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹ امان اللہ بھٹی کی عدالت میں استغاثہ زیر سماعت تھا جس کا فیصلہ سنایا گیا۔ عائلی قوانین کے تحت جہاں نکاح اور طلاق کے حوالے سے قواعد موجود ہیں وہاں کسی بھی مرد کو دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی اجازت لازم قرار دی گئی ہے تاہم فریقین میں آج تک جتنے بھی تنازعات ہوئے وہ زیادہ تر طلاق، خلع اور نان نفقہ سے متعلق تھے۔ دوسری شادی پر لڑائی جھگڑے ہوتے رہے تاہم کبھی استغاثہ نہ بنا اور نہ ہی کسی شوہر کو اس الزام میں سزا ہوئی تھی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے باقاعدہ سماعت کے بعد حکم جاری کیا،جس کے تحت راشد کو11ماہ قید سخت اور اڑھائی لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی۔پہلی بیوی نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم سزا کو کم گردانا ہے، اب فریقین سیشن عدالت میں اپیلیں کریں گے۔عائلی قوانین ایوب دور میں نافذ ہوئے اور اب تک نافذ العمل ہیں،ان کے تحت ثالثی عدالت بھی بنائی جاتی ہے،جو عمومی طور پر یونین کونسل کی سطح پر چیئرمین یونین کونسل/کمیٹی کے ماتحت ہوتی ہے، اس میں عائلی مسائل کے حوالے سے معاملات نمٹائے جاتے ہیں۔ اس فیصلے سے ان خواتین کی حوصلہ افزائی ہو گی جن کی مرضی کے خلاف مرد دوسری شادی کرتے اور پہلی بیوی کو مراعات اور حقوق سے محروم کرتے ہیں، یہ فیصلہ سنگ میل ہے۔مردوں کو اگر وہ انصاف کر سکتے ہیں تو دوسری شادی سے پہلے، پہلی بیوی کو راضی کرنا ہو گا۔ملک بھر کے علمائے کرام اس شق کو غیر مناسب اور غیر شرعی قرار دیتے ہیں تاہم اب تک قانون میں ترمیم نہیں کرا سکے۔ سزاؤں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے تو ممکن ہے اب دراز تر ہوتا چلا جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -