دل ناداں کے تقاضے

دل ناداں کے تقاضے
دل ناداں کے تقاضے

  

اگر آپ کو اپنی ملازمت پسند نہیں ہے، باس کو دیکھ کر غصہ آتا ہے۔ تو ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق آپ کے دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ یہ بات انٹرنیشنل جرنل آف انوائرمنٹ ریسرچ اینڈ پبلک ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتائی گئی ہے۔ 4لاکھ ملازمین پر ریسرچ کر کے سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر افسر اور ماتحت میں اعتماد کا رشتہ نہ ہو، آپ ہمہ وقت سٹریس میں رہتے ہوں تو,پھر آپ کسی وقت بھی دل، ذیابیطس، ہائی بلڈپریشر، ہائی کولیسٹرول جیسے عارضوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

غالب دل ناداں پہ حیران ہوتے تھے کہ اسے ہوا کیاہے اور اس مرض کی دوا کیا ہے۔ مگر جس زمانے میں غالب کو دل ناداں سے شکایت تھی اس وقت دل کے مسائل کی وجہ قدرے مختلف ہوا کرتی تھی۔ شاعروں نے عارضہ دل کو عاشقوں کی بیماری قرار دے رکھا تھا۔ مگر سائنسدانوں نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کر کے بہت سے شاعروں اور عاشقوں کو بدمزہ کیا ہے کہ دل کا عشق کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا اور یہ سارے کا سارا دماغ کا فتور ہے۔ محض خون کو پمپ کرنے والا ایک آلہ ہے، تاہم وہ اس کی اہمیت سے انکار نہیں کرتے، کیونکہ اگر دل کی دھڑکن بند ہو جائے توانسان دوسری دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ اگر چہ سائنس عشق کے معاملے میں دماغ کو ہی موردالزام ٹھہراتی ہے مگر جدید دور کے شعراء بھی دل سے ہی عشق کرتے ہیں۔

ان کے خیال کے مطابق دماغ کا کام عشق سے روکنا ہے۔ سائنسدان شاعروں کو اس معاملے میں قائل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ سیاست اور کاروبار مملکت میں دل کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر اورنگ زیب کا دل ہوتا تو وہ اپنے بھائیوں کو قتل نہ کرتا اور اس پر یہ پھبتی نہ کسی جاتی کہ اس نے نہ تو کوئی نماز چھوڑی اور نہ ہی کوئی بھائی۔اورنگ زیب سے پوچھا جاتا تو وہ اسے اقتدار کے تقاضے قرار دیتا۔ اورنگ زیب نے بہت سے ہندو مندروں کو مالی امداد دی تھی۔ اس کے ثبوت آج بھی موجود ہیں۔ مگر اس کے باوجود ہندو اسے اپنا دشمن قرار دیتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ سکھوں کا ہے۔ وہ اورنگ زیب کو اپنے ایک گورو کا قاتل قرار دیتے ہیں اور اورنگ زیب کے اس کام کا بدلہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمانوں سے لیتے رہے ہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ اموات دل کی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پاکستان میں یہ بیماری کچھ زیادہ وارداتیں کرتی ہے۔ بسیار خوری، سگریٹ نوشی اور شراب نوشی کو بھی دل کی بیماریوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ مگر بعض دفاتر میں اتنا منافقانہ اور پرتشدد ماحول ہوتا ہے کہ اکثر لوگ بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ برا ماحول دل کی بیماریوں کی وجہ ہی نہیں بنتا یہ انسانوں کے کردار کو بھی مسخ کر کے رکھ دیتا ہے۔ مارشل ملکوہان نے لکھا تھا کہ رومی تہذیب اس لئے زوال کا شکار ہو گئی تھی کہ شہزادوں میں غلامانہ خصائص پیدا ہو گئے تھے۔ رومی شہزادے اپنا زیادہ وقت غلاموں کے ساتھ گزارتے تھے اور غلاموں کی عادات ان کی فطرت کا حصہ بن جاتی تھیں۔ جب وہ بادشاہ بنتے تھے تو حکمرانوں کی بجائے غلاموں کی سوچ کے ساتھ فیصلے کرتے تھے۔

پاکستان میں بہت سے ”کامیاب“ لوگ اللہ سے اچھا تعلق رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ شیطان کے ساتھ بھی تعلق خراب نہیں کرتے۔ مغل حکمران جہاں خوبصورت مساجد تعمیر کراتے تھے وہاں وہ مسجد کے پہلو میں شاہی بازار کا اہتمام بھی کرتے تھے۔ بابر کے متعلق تو کہا جاتا ہے کہ اس نے کابل میں ایک ایسا تالاب بنایا تھا جس میں پانی کی بجائے شراب بھری ہوتی تھی۔ برصغیر پر حکومت کرنے والے اکثر حکمران ایسی ہی حرکتیں کرتے رہے ہیں۔ اسے آپ دل اور دماغ کو خوش کرنے کا معاملہ ہی قرار دے سکتے ہیں۔

بات ہو رہی تھی باس اور دل کی بیماری کی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جب تک حکومت دل کی بیماریوں کی وجوہات کے تدارک پر کام نہیں کرے گی اور اپنی ذمہ داری محض دل کے لئے ہسپتالوں کی تعمیر تک محدود رکھے گی۔ اس وقت تک دل کے امراض میں ا ضافہ ہوتا رہے گا۔ 14اگست 1947ء کو جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو نظام مملکت چلانے کے لئے 1935ء کے ایکٹ کو معمولی سی ترمیم کے ساتھ آئین کا درجہ دے دیا گیا اور یہ ترمیم محض اتنی تھی کہ جہاں ”ملکہ کی رعایا“ کے الفاظ تھے انہیں ”پاکستان کے عوام“ سے تبدیل کر دیا گیا۔ مگر یہ تبدیلی محض ایکٹ کے الفاظ میں تھی۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ جو بیوروکریٹ پاکستانی افسر شاہی کا حصہ بنے انہوں نے نوزائیدہ ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے غیرمعمولی کام کیا۔ انہوں نے پنوں کی جگہ کانٹے استعمال کئے۔ بچت، سادگی اور کفایت شعاری کی روشن مثالیں قائم کیں مگر ”ملکہ کی رعایا“ کو انہوں نے ”پاکستانی عوام“ نہیں سمجھا۔ اس کی بجائے انہیں رعایا بنائے رکھنے کے لئے کام کیا۔ بہت سے سرکاری دفاتر میں اس ذہنیت کے شاہکار آج بھی تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ یہ اعلیٰ افسر ماتحتوں کو انسان سمجھنے سے پرہیز کرتے ہیں اور اکثر ان کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے جیسے بادشاہ اپنی رعایا کے ساتھ کرتا تھا۔

پرائیویٹ سیکٹر میں شکایت کی جاتی ہے کہ سیٹھ سرکاری افسر سے بھی بدترین باس ثابت ہوتا ہے۔ وہ اپنے ادارے میں کام کرنے والوں کو مسلسل بے یقینی کا شکار رکھتا ہے۔ان اداروں میں کام کرنے والے اکثریہ الزام لگاتے ہیں کہ برسوں کام کرنے کے باوجود انہیں یقین نہیں ہوتا کہ وہ اگلے روز بھی کام پر آئیں گے۔ بے یقینی کے جہنم میں کام کر کے کسی انسان کا صحت مند رہنا ممکن نہیں ہے۔ پاکستانی سائنسدانوں کو بھی ایسی تحقیق کرنی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کام کا برا ماحول انسانی جسم اور کردار کو کتنا نقصان پہنچاتا ہے۔ ہمارے دوست شاہد ملک صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اچھے انجینئر بھی ہیں، اچھے ڈاکٹر بھی ہیں، لیکن ایسے سوشل سائنسدان نہیں ہیں جن کا معاشرے کی نبض پر ہاتھ ہو اور ان میں نہ صرف معاشرے کی بیماریوں کی درست تشخیص کی صلاحیت ہو بلکہ وہ ان بیماریوں کا موثر علاج بھی تجویز کر سکتے ہوں۔ ہمارے خیال کے مطابق ایسے سوشل سائنسدانوں کی عدم موجودگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں گزشتہ چند عشروں سے پھڈا ڈالنے والوں نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ ٹی وی کے ٹاک شوز میں بھی شرکاء وہ حرکت کرتے ہیں جس کا دانش کے ساتھ دور کا تعلق بھی نہیں ہوتا۔

مزید :

رائے -کالم -