موٹرویز کے سروس ایریا کی مساجد

موٹرویز کے سروس ایریا کی مساجد
موٹرویز کے سروس ایریا کی مساجد

  

لاہور، اسلام آباد موٹروے پر سفر کرنے والوں کو اگر وہ بذریعہ کار سفر کر رہے ہوں تو دوطرفہ ٹول ٹیکس 1360روپے اداکرنے پڑتے ہیں،جبکہ بسوں اور دیگر بڑی گاڑیوں کے آنے جانے کے 4580روپے وصول کئے جاتے ہیں روزانہ ہزاروں گاڑیاں اس پر آتی جاتی ہیں، جن سے سالانہ اربوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے وہ آمدنی اس کے علاوہ ہے جو اس موٹروے پر واقع مختلف مقامات پر سروسز ایریاز میں قائم ریستورانوں اور دیگر دکانوں سے کرایہ کی مد میں حاصل ہوتی ہے،ان مقامات پر سفر کرنے والوں کو سستانے اور ریفرش منٹ کے لئے جہاں یہ ریستوران قائم ہیں وہاں ایک مسجد بھی موجود ہے تاکہ دورانِ سفر مسافرنماز ادا کر سکیں، مگر موسم گرما میں جب گرمی اپنے پورے عروج پر ہوتی ہے تو ان مساجد میں ایک آدھ ٹوٹا پھوٹا ائیر کنڈیشنر بھی نصب ہے، جس کو دیکھ کر احساس ہوتاہے کہ کبھی یہاں سے ٹھنڈی ہوا کا گزر ہوا تھا اور تھکے ماندے مسافر پسینے میں شرابور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں قرین قیاس ہے کہ ریاست مدینہ کا تصور دینے والی موجودہ حکومت کے وزراء کو ان مساجد میں نماز ادا کرنے کااتفاق نہیں ہوا وگرنا ان کو یہ احساس ضرورہوتا کہ تھکاوٹ،

شدید گرمی اور پسینے میں نہائے ہوئے مسافر کس دقت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔یہ اعلانات اکثر سننے میں آتے ہیں کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کا عملہ مسافروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہمہ وقت مستعد رہتا ہے ان مسافروں کی دنیاوی سہولیات کا انہیں بڑا خیال رہتا ہے، مگر ان کی عبادات اور آخرت کی انہیں کوئی فکر نہیں جو بہت ہی دُکھ کی بات ہے ایئر کنڈیشنر کی تنصیب کا خرچہ کوئی روز کا خرچہ نہیں،بلکہ ایک وقت کا ہی خرچہ ہے اور نہ ہی اس ائیر کنڈیشنر نے 24گھنٹے چلتے ہی رہنا ہے یہ صرف نماز کے اوقات میں کام کرے گا جس کا خرچہ برداشت کرنا اربوں روپے کمانے والے ادارے کے لئے کوئی بڑی بات نہیں۔موٹرویز پولیس جو ہر وقت پٹرولنگ کرتی رہتی ہے اس کو یہ فرض بھی سونپا جائے کہ وہ وقتاً فوقتاً ان مساجد کو بھی دیکھتی رہے کہ اگر مسافر عجلت کے باعث ائیر کنڈیشنر بند نہیں کر سکے تو وہ خود اسے بند کر دیں تاکہ بجلی کا فضول خرچہ نہ ہو سکے یہاں یہ عرض کرنا بھی بے جا نہ ہو گا۔ مساجد مسلمانوں کے ملک میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔

یہ بجاکہ ان مساجد میں اچھے وضوخانے اور باتھ روم بنائے گئے ہیں اور گارڈز بھی رکھے ہوئے ہیں۔ گرمی کی شدت اورغیر آسودہ ماحول کے باعث بعض اوقات نماز قضاہوجاتی ہے مسجد کے ماحول کو ایسا آرام دہ بنایا جائے کہ مسافروں کی نماز قضا نہ ہو۔ سروسز ایریا کی مساجد میں اچھے اورصیحیح کام کرنے والے ائیرکنڈیشنرزکی تنصیب کے ساتھ ساتھ صاف اور ٹھنڈے پانی کابھی انتظام ضروری ہے۔ وزیر مواصلات مراد سعید کو چاہئے کہ وہ ذاتی طور پر اس اہم مسئلہ پر خصوصی توجہ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ مساجد آباد دکھائی دیں۔

مزید :

رائے -کالم -