موسمیاتی تبدیلیاں اور پانی کا ابھرتا ہوا بحران

موسمیاتی تبدیلیاں اور پانی کا ابھرتا ہوا بحران
موسمیاتی تبدیلیاں اور پانی کا ابھرتا ہوا بحران

  

دُنیا موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے اس کی وجہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہے، یعنی فضا و ہوا میں گرمی بڑھ رہی ہے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی مقدار فضا میں بڑھ رہی ہے، کیونکہ صنعتی تعمیر و ترقی کے باعث فاسل فیول کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ہوا اور فضا گرم سے گرم تر ہوتی چلی جا رہی ہے جس کے باعث دنیا میں موسمیاتی تبدیلیاں بڑی شدت سے وقوع پذیر ہو رہی ہیں، پینے کے صاف پانی کی دستیابی بھی شدید متاثر ہو گئی ہے زراعت کے لئے درکارپانی کی دستیابی دن بدن متاثر ہو رہی ہے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز لندن کی 2018ء میں چھپنے والی ایک سالانہ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ آئندہ بڑی جنگیں پانی کے مسئلے پر ہونگی گویا پانی قیمتی سے قیمتی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یو این ورلڈ واٹر ڈویلپمنٹ رپورٹ 2018ء میں لکھا گیا ہے کہ دنیا کے تقریباً3.6 ارب افراد دُنیا کے ایسے خطوں میں بستے ہیں جہاں پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔یہ افراد دنیا کی نصف آبادی کے برابر ہیں گویا آدھی دنیا پانی کے قحط کے خطرات کی زد میں ہے۔ 2050ء تک یہ تعداد 5.7 ارب تک پہنچ جانے کی توقع ہے۔

انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA)کے مطابق پاکستان کے پاس مطلوبہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، جس کے باعث 30 ملین ایکڑ فٹ پانی سالانہ سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے اس پانی کی مالیت 21 ارب ڈالر سے زائد ہے پاکستان 15.75 ملین ایکڑ پانی ذخیرہ کر سکتا ہے، جو اس کی 30 روزہ ضروریات کے برابر ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیر پگھلنے کی رفتار بڑھ رہی ہے، کیونکہ ہماری پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، جس کے باعث پانی کی بہت سی مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔ایک طرف پانی کی دستیابی کم ہو رہی ہے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیرز میں قدرتی طور پر ذخیرہ کردہ پانی تیزی سے پگھل رہا ہے، آبادی میں اضافہ بھی ایک بہت بڑا منفی عامل ہے ایک طرف پانی کی دستیابی کم ہو رہی ہے دوسری طرف آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث پانی کی طلب میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اس طرح فی کس دستیاب پانی کی مقدار خطرناک حد تک گر چکی ہے۔ ہماری واٹر مینجمنٹ بھی انتہائی پسماندہ ہے ہماری پانی کی ضروریات کا 70 فیصد تک زراعت میں استعمال ہوتا ہے ہمارے آبپاشی کے طریقے انتہائی پسماندہ اور فرسودہ ہیں، جن کے باعث بہت سا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔

پاکستان ایک طرح سے غریب ملک ہے، لیکن دوسری طرف جب ہم آبادی میں نوجوانوں کی تعداد کو دیکھتے ہیں تو ہم خوش قسمت ممالک کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ آبادی دو دھاری تلوار ہے اگر اسے مثبت انداز میں منظم کیا جائے تو یہ ایک ترقی کا عامل بن جاتا ہے۔ چین، بھارت،بنگلہ دیش جیسے کثیر آبادی والے ممالک کی تعمیر و ترقی کو دیکھیں ان ممالک نے آبادی کو ایک عامل کے طور پر استعمال کیا۔ منظم کیا۔ ان کی صلاحیتوں کو جلابخشی اور پھر انہیں تعمیر و ترقی کے عمل میں شامل کیا پھر بتدریج یہ ممالک تعمیر و ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اعلیٰ منازل تک پہنچے ہیں۔ ہم اپنی یوتھ کو منظم اور مربوط کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہم نے ابھی تک یہ پلاننگ ہی نہیں کی ہے کہ ہم 5 سال 10 سال،20 سال بعد کہاں کھڑے ہوں گے۔

دُنیا صنعتی انقلاب کے پانچویں دور میں داخل ہو چکی ہے دُنیا کی دو عظیم طاقتیں 5-G ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں چین امریکہ تجارتی جنگ کیا ہے؟ یہی کہ دنیا میں کونسی قوم ٹیکنالوجی کے میدان میں قیادت کرے گی چینی کمپنی ہواوے نے یورپ میں 5-G مارکیٹ کر کے امریکہ پر اپنی فنی برتری ثابت کر دی ہے۔ امریکہ نے مصنوعی ذہانت کے فروغ کے ذریعے اپنے آپ کو اعلیٰ و برتر ثابت کر رکھا ہے روبوٹ انڈسٹری اب سپرآرٹیفیشل انٹیلی جنس (SAI) پر منتقل ہونا شروغ ہو گئی ہے دنیا نے سائبر ورلڈ تخلیق کر لیا ہے جہاں ففتھ جنریشن جنگ لڑی جا رہی ہے اس جنگ میں دشمن ملک کے شہریوں کے دماغ پر قابو پا کر انہیں،ان کے ہی خلاف لانچ کیا جاتا ہے ہم اس جنگ کا نشانہ ہیں ہماری بقا اور بطور قوم آگے بڑھنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم صنعت و حرفت میں کس قدر طاق ہیں ہمارے مصارف پیدا وار کس قدر کم ہیں یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہو گا جب ہمارے پاس تربیت یافتہ افرادی قوت ہو گی۔ چین نے اگر دنیا پر چھا جانے کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا ہے تو اس کی وجہ اس کی تربیت یافتہ ہنر مند افرادی قوت ہے جو سوئی سلائی سے لے کر توپ جہاز تک ہر شے مناسب قیمت پر تیار کرتی ہے۔

ایک طرف صنعتی و فنی ترقی کی انتہائی قابل رشک صورتِ حال ہے لیکن دوسری طرف پانی کی دستیابی کی صورتحال پریشان کن ہوتی چلی جا رہی ہے موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی آبادی اور آلودگی مل جل کر صاف پانی کی رسد میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی پروگرام کی تحقیقات کے مطابق 2030ء تک پانی کی مجموعی طلب، رسدکے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہو جائے گی اس طرح پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہو گی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ تازہ پانی کے ذرائع کو طلب کے مطابق جاری و ساری رکھنے کے لئے اب سالانہ 400 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جبکہ اس سے پہلے اوسطاً40-45 ارب ڈالر سالانہ خرچ کئے جاتے تھے۔

ترقی یافتہ ممالک میں بھی تازہ پانی کی ترسیل مہنگی ہوتی جا رہی ہے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث نیویارک میں ہونے والی بارش جنوبی کیلیفورنیا کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اب کافی نہیں ہے اس کے علاوہ پانی کی ترسیل کا نظام خاصا پرانا ہو چکا ہے، جس کے باعث امریکہ میں پینے والے پانی کی ترسیل کے دوران دوٹریلین گیلن، یعنی 2000 ملین گیلن پانی سالانہ ضائع ہو جاتا ہے۔ ذراغور کریں امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک بھی پانی کی دستیابی کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار نظر آ رہا ہے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے کہ موجودہ دستیاب پانی کی ترسیل کو ممکن بنایا جا سکے۔

مزید :

رائے -کالم -