کہاں گیا جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ؟

کہاں گیا جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ؟
کہاں گیا جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ؟

  

پاکستان میں سیاسی وعدے بھی برف پر لکھی تحریر کی مانند ہوتے ہیں، کچھ دیر میں برف پگھل جاتی ہے اور سب کچھ مٹ جاتا ہے۔ حکومت میں آنے والوں کو اس بات کا پتہ ہوتا ہے کہ حالات اتنی تیزی سے بدلیں گے کہ عوام کو آج کی پڑ جائے گی، ماضی کے وعدے یاد ہی نہیں رہیں گے، لیکن مجھے جنوبی پنجاب کے دوست، قوم پرست تنظیموں کے رہنما، سیاسی و سماجی شخصیات یہ یاد دہانی کراتی رہتی ہیں کہ گاہے بہ گاہے اس جنوبی پنجاب صوبے کا تذکرہ کرتے رہیں، جو بن کھلے مرجھا چکا ہے۔ کتنا شور شرابہ تھا، اس صوبے کا، لیکن جس طرح کسی نوزائیدہ لاوارث بچے کی لاش کوڑے دان سے ملتی ہے، اسی طرح جنوبی پنجاب کو بھی کوڑے دان کی نذر کر دیا گیا ہے۔

اب تو حکومتی جماعت کا کوئی چھوٹا بڑا رہنما بھولے سے بھی اس کا نام تک نہیں لیتا،حتیٰ کہ شاہ محمود قریشی بھی جو بڑھ چڑھ کے اس کا ذکر کرتے تھے اور اُنہیں عمران خان نے اس دو رکنی کمیٹی کا سربراہ بھی بنایا تھا، جس نے خسرو بختیار سے مل کر جنوبی پنجاب صوبے کی راہ ہموار کرنا تھی،اس معاملے سے لاتعلق ہو چکے ہیں۔اب وہ ایک نئی ڈگڈگی بجاتے ہیں کہ پنجاب کے بجٹ میں پہلی بار جنوبی پنجاب کے لئے 35 فیصد بجٹ رکھا گیا ہے۔ کیا معاملہ صرف بجٹ کا تھا۔ علیحدہ صوبے اور بجٹ مختص کرنے میں کوئی فرق نہیں؟ بجٹ تو شہباز شریف بھی بہت زیادہ مختص کرتے تھے، بعد میں اسے لاہور متنقل کر دیتے تھے۔ کیا ضمانت ہے کہ اب بھی ایسا نہیں ہو گا۔ جنوبی پنجاب صوبہ تو ایک بہتر گورننس اور یہاں کی زبان و ثقافت کے الگ تشخص کی بنیاد پر مانگا جاتا ہے۔ یہ اتنا ہی آسان تھا تو پھر انتخابی مہم میں کپتان اور کھلاڑیوں نے الگ صوبے کا وعدہ کیوں کیا اور کہاں ہیں وہ صوبہ محاذ والے جنہوں نے آخری دنوں میں مسلم لیگ (ن) کو خیر باد کہہ کر الگ صوبے کے نام پر ایک دھڑا بنایا۔پھر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ کیا یہ صرف ڈرامے بازی تھی، عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا۔

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو بڑا صوبہ مل گیا ہے اس لئے وہ بھی صوبے کو تقسیم کرنے کے خیال سے دور ہو گئے ہیں۔ ان کا استدلال بھی یہی ہے کہ انہوں نے بجٹ میں جنوبی پنجاب کے لئے تاریخی حصہ مختص کیا ہے۔ عوام کی آرزوؤں اور خواہشوں کو پیسے کے ترازو میں تولنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہاں تخت لاہور کی غلامی کا ذکر سال ہا سال سے ہو رہا ہے، وہ اپنا اختیار، اپنی حکومت چاہتے ہیں، مگر لگتا یہی ہے کہ تخت لاہور کے جو اصل مالک ہیں۔ وہ یہ اختیار دینے کو تیار نہیں۔ حالت تو یہ ہو چکی ہے کہ الگ صوبہ دینے والے الگ سیکرٹریٹ تک نہیں دے سکے اور اب اس کے ذکر سے ایسے بدکتے ہیں جیسے کوا غلیل کو دیکھ کر رفو چکر ہو جاتا ہے۔ کسی نے اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کو دیکھنا ہو تو پنجاب میں دیکھے۔ بڑے بڑے سورماؤں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والی یہ اسٹیبلشمنٹ حکومت کو الگ صوبے سے دستبردار کرانے کے بعد غالباً الگ سیکرٹریٹ سے بھی دور رہنے پر مجبور کر چکی ہے، وگرنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس بات کا وزیر اعظم عمران خان نے دو ٹوک اعلان کیا ہو کہ جنوبی پنجاب کے لئے الگ سیکرٹریٹ یکم جولائی سے کام شروع کر دے گا، وہ ایسے زمین سے غائب ہو گئی ہو،جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جون 2019ء میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے یہ خوشخبری سنائی تھی کہ وزیر اعظم کی طرف سے اعلان کے مطابق جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ یکم جولائی سے کام شروع کر دے گا۔ گویا اس وقت تک انہیں بھی کسی طرف سے یہ ”حکم“ جاری نہیں ہوا تھا کہ وہ یہ اعلان نہ کریں، لیکن پھر ایسی خفیہ بریک لگی کہ سارے کام رک گئے۔ بڑا شور شرابہ تھا کہ سیکرٹریٹ کے لئے جگہ تلاش کی جا رہی ہے۔ افسروں کی فہرستیں بن گئی ہیں، عملے کو ڈیپوٹیشن پر لے لیا گیا ہے۔ بس یکم جولائی آتے اور چٹکی بجاتے ہی سیکرٹریٹ کام شروع کر دے گا۔ پھر نجانے کہاں جھاڑو پھرا، کپتان سے اشارہ ہوا کہ عملہ بھی نا پید ہو گیا، جگہیں بھی اڑن چھو ہو گئیں اور الگ سیکرٹریٹ پیدائش سے پہلے ہی وفات پا گیا۔

مَیں اب تک یہی سمجھ رہا تھا کہ گزشتہ دورِ حکومت میں جب سابق گورنر ملک رفیق رجوانہ نے الگ سیکرٹریٹ کا اعلان کیا تھا تو شہباز شریف نے انہیں منع کر دیا تھا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے، لیکن اب معلوم ہوا کہ یہ شہباز شریف کا نہیں بلکہ ان خفیہ طاقتوں کا فیصلہ تھا جو ہمیشہ سے طاقتور رہی ہیں، کیونکہ اب تو وزیر اعظم سے لے کر صوبے کے وزیر اعلیٰ تک سبھی جنوبی پنجاب میں الگ سیکرٹریٹ کا اعلان کر چکے تھے، بہت سا کام بھی ہوا، حتمی تاریخ بھی دی گئی، لیکن نجانے کس جادو کا جھکڑ چلا کہ سب کچھ غبار راہ ہو گیا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ صوبہ نہیں،جاتے چور کی لنگوٹی ہی سہی، سیکرٹریٹ تو مل رہا ہے، لیکن انہیں کیا پتہ تھا کہ بیورو کریسی کا اصل تختِ لاہور ہے، وہ اپنے اختیارات کو کیسے تقسیم ہونے دے گی۔

صوبے کا لاٹ صاحب کہاں یہ چاہے گا کہ آدھا صوبہ اس کی دسترس سے نکل جائے، سو اب حال یہ ہے کہ صوبے سے بات سیکرٹریٹ اور سیکرٹریٹ سے بات 35 فیصد بجٹ تک آ گئی ہے۔ 35 فیصد بجٹ سے بات آگے کہاں جاتی ہے، اس کا انتظار کیا جائے۔ ملتان میں تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ یہ وہ شہر ہے جس نے تحریک انصاف کو عام انتخابات میں کلین سویپ کروایا تھا۔ اتنی بڑی اکثریت کے باوجود مجال ہے کوئی رکن اسمبلی عوام کو دستیاب ہو، بے اثری اور بے بسی کا عالم یہ ہے کہ تاجروں کی ہڑتال ہوئی تو وزیر اعلیٰ کے مشیر جاوید انصاری کو اپنی دکان بھی بند رکھنا پڑی، کیونکہ وہ اپنے ساتھ ایک دکاندار کو بھی دکان کھولنے پر آمادہ نہیں کر سکے تھے۔

اب تو صورت حال یہ ہے کہ جب کبھی شاہ محمود قریشی ملتان آئیں تو ایک دو پریس کانفرنسیں کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں، تاہم جنوبی صوبے یا علیحدہ سیکرٹریٹ کے ذکر سے وہ بھی کنی کترانے لگے ہیں۔ ایک کہانی یہ بھی چل رہی ہے کہ الگ سیکرٹریٹ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی رسہ کشی کا شکار ہو گیا ہے۔ ایک عرصے تک یہ لڑائی تو چلتی ہی رہی ہے کہ جنوبی پنجاب کا سیکرٹریٹ کہاں قائم کیا جائے۔ شاہ محمود قریشی ملتان،جبکہ جہانگیر ترین اسے لودھراں کے قریب بنوانا چاہتے تھے تاکہ بہاولپور اور ملتان کے درمیان واقع ہو۔ یہ معاملہ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے نوٹس میں بھی لایا گیا تھا اور انہوں نے ملتان کے حق میں فیصلہ دیا تا۔

ظاہر ہے اس سے جہانگیر ترین خوش نہیں تھے، اب جو پارٹی اس معمولی سے مسئلے کو حل نہ کر سکے وہ ملکی مسائل کیسے حل کرے گی؟ اگر واقعی الگ سیکرٹریٹ کا قیام جہانگیر ترین بمقابلہ شاہ محمود قریشی کے دنگل کی نذر ہوا ہے تو یہ بڑی شرمناک بات ہے، اس سے پارٹی کو کتنا نقصان پہنچا ہے، شاید اس کا انہیں اندازہ نہیں، اسے کپتان کا ایک بڑا یوٹرن کہا جا رہا ہے۔ اس فیصلے سے جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کو جو یکدم مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں نہ آنے سے نفرت میں بدلتی جا رہی ہے،رہی بات عثمان بزدار کی تو وہ غالباً بڑوں کی لڑائی میں پڑنا نہیں چاہتے، وہ تو اس وجہ سے ملتان بھی نہیں آتے کہ کہیں ان کی کسی بات سے دو بڑوں میں سے کوئی ایک ناراض نہ ہو جائے۔ شاخِ نازک پر آشیانہ ہو تو اتنی احتیاط کرنا ہی پڑتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -