بارش سے متاثرہ جنوبی ایشیائی ممالک کی انتظامیہ کیساتھ ملکر کام کرنے کو تیار ہیں: اقوام متحد ہ

بارش سے متاثرہ جنوبی ایشیائی ممالک کی انتظامیہ کیساتھ ملکر کام کرنے کو تیار ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)جنوبی ایشیا ء کے مختلف ممالک میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی جبکہ گھروں کے بہنے اور مٹی کے تودے گرنے سے 180افراد ہلاک جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوگئے۔ خطے میں آبپاشی اور زمینی پانی کی فراہمی کیلئے مون سون سیزن اہم ہے اور یہ گرمیوں کے بعد ریلیف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔تاہم جون سے ستمبر تک وقفے وقفے سے جاری رہنے والی یہ بارشیں ایک مرتبہ پھر بھارت، نیپال، بنگلہ دیش اور آزاد جموں اور کشمیر کے علاقوں میں تباہی کا باعث بن گئی ہیں اور نشیبی علاقوں میں لوگ، مکانات بہہ گئے ہیں۔بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی بات کی جائے تو پیر کو بنگلہ دیش میں 5 بچوں کے ڈوبنے کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 34 ہوگئی، ان میں 18 افراد وہ ہیں جو بجلی سے ہلاک ہوئے جبکہ 7 افراد خلیج بنگال میں کشتی الٹنے کے بعد بہہ گئے۔ادھر نیپال میں سیلابی پانی کے پیچھے ہونے کے باوجود کم از کم 67 افراد ہلاک ہوگئے، اس حوالے سے سامنے آنے والی تصاویر میں ریسکیو اہلکاروں کو سیلاب میں پھنسے افراد کو باہر نکالتے ہوئے دیکھا گیا۔دوسری جانب ماہرین صحت نے پانی سے ہونے والی ممکنہ بیماریوں پر خبردار کرتے ہوئے بین الاقوامی مدد کا مطالبہ کردیا۔مون سون بارشوں نے جہاں بنگلہ دیش اور نیپال میں تباہی مچائی وہیں بھارت میں تقریبا 50 افراد ہلاک ہوئے اور بارش نے نیپال کی سرحد سے متصل مشرقی ریاستوں آسام اور بہار کو متاثر کیا۔آسام کی انتظامیہ نے سیلابی صورتحال سنگین ہونے پر ریڈ الرٹ جاری کردی کیونکہ پانی بھرنے سے گاں سے رابطہ کٹ گیا جبکہ بڑے ہائی ویز بھی ڈوب گئے۔سیلاب سے اب تک اس ریاست میں 11 افراد ہلاک اور تقریبا 83 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔بھارتی ریاست بہار میں سیلاب کے باعث 24 ہلاکتیں رپورٹ کی جبکہ 25 لاکھ افراد متاثر ہوئے، مرنے والے ان افراد میں 3 بچے بھی شامل ہیں جو کینال میں پانی کی سطح دیکھنے گئے تھے کہ وہ ڈوب گئے۔اس کے علاوہ دیگر 2 افراد سیلابی پانی سے بھرے گڑھے کے قریب کھیلنے کے دوران ہلاک ہوئے۔قبل ازیں آزاد جموں اینڈ کشمیر میں طوفانی بارش اور سیلاب کے باعث 23 افراد جاں بحق ہوئے اور 120 گھروں کو نقصان پہنچا جبکہ علاقے میں پانی اور بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس جاری مون سون سیزن کے نتیجے میں انسانی ضروریات کو دیکھتے ہوئے وہ متاثرہ ممالک کی انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں۔

اقوام متحدہ 

مزید :

صفحہ اول -