شرح سود میں اضافہ، 13.25فیصد مقرر، مہنگائی میں اضافہ ہو گا: گورنر سٹیٹ بینک

شرح سود میں اضافہ، 13.25فیصد مقرر، مہنگائی میں اضافہ ہو گا: گورنر سٹیٹ بینک

  

کراچی (اکنامک رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) گورنر سٹیٹ بنک رضا باقر نے آئندہ  دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کردیا اور کہا ہے کہ شرح سود میں اضافے کی وجہ سے آئندہ دو ماہ کے دوران مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے، رواں مالی سال مہنگائی کی شرح11سے 12فیصد رہنے کا امکان ہے جو کہ توقعات سے کچھ زیادہ ہے۔ منگل کو گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کا اجلاس ہوا جس کے بعد آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود میں مزید 100 بیسز پوائنٹس یعنی ایک فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 13.25 فیصد کر دیا گیا۔کراچی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگومیں گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر نے کہا کا شرح سود میں 100بیسز پوائنٹ اضافے کا فیصلہ کیا گیاہے جس سے شرح سود 13.25فیصد ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی اوسط شرح کچھ بڑھنے کا امکان ہے جو ہمارے اندازے سے بھی زیادہ ہے، تاہم رواں سال مہنگائی کی شرح 11سے 12فیصد رہنے کا امکان ہے۔اس وقت بنیادی شرح سود 12.25 فیصد ہے اور مئی 2018 سے اب تک شرح سود میں 5.75 فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ دوسری جانب جون 2019 میں مہنگائی کی شرح 8.9 فیصد رہی۔رضا باقر نے کہا کہ مہنگائی کی شرح ہمارے اندازے سے کچھ زیادہ ہے اور اوسط مہنگائی بھی کچھ بڑھنے کا امکان ہے، لیکن آئندہ مالی سال میں مہنگائی کافی حد تک نیچے آجائے گی، رواں مالی سال اوسط مہنگائی 11 سے 12 فیصد رہ سکتی ہے۔ اس فیصلے میں 20مئی 2019 کے زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد سے شرح مبادلہ میں کمی کی بنا پر مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دبا اور یوٹیلٹی کی قیمتوں میں حالیہ ردوبدل کے  اثر اور مالی سال 20 کے بجٹ کے دیگر اقدامات کے نتیجے میں مختصر مدت میں ہونے والی مہنگائی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔اس فیصلے میں طلب کے مدھم پڑتے ہوئے اظہاریوں کی بنا پر مہنگائی کے دبا میں کمی کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔ ان عوامل کے پیش نظر زری پالیسی کمیٹی کو توقع  ہے کہ مالی سال 20 میں اوسط مہنگائی 11-12 فیصد رہے گی جو پہلے کی پیش گوئی سے زیادہ ہے۔ تاہم مالی سال 21 میں جب حالیہ اضافے کے بعض اسباب کا ایک بار کا اثر گھٹے گا تو مہنگائی میں خاصی  کمی آنے  کی  توقع ہے۔ شرح سود کے بارے میں اس فیصلے کے حوالے سے زری پالیسی کمیٹی اس نقطہ نظر کی حامل ہے کہ ماضی کے عدم توازن کی وجہ سے شرح سود اور شرح مبادلہ میں تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ آگے چل کر زری پالیسی کمیٹی آئندہ کے معاشی حالات اور اعدادوشمار کے مطابق اقدامات کرنے کے لیے بھی تیار رہے گی۔ مہنگائی میں غیرمتوقع اضافے جو اس کے منظر نامے پر منفی اثر ڈالیں مزید معتدل سختی کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ دوسری طرف ملکی طلب میں توقع سے زیادہ نرمی اور مہنگائی میں کمی زری حالات میں نرمی کی بنیاد فراہم کرے گی۔ اس فیصلے پر پہنچنے کے لیے زری پالیسی کمیٹی نے 20مئی 2019 کو منعقدہ زری پالیسی کمیٹی اجلاس سے لے کر اب تک معاشی حالات، حقیقی بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں زری حالات اور مہنگائی کے منظرنامے پر غورو خوض کیا تھا۔ گذشتہ زری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد تین کلیدی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، حکومت پاکستان نے مالی سال 2020 کا بجٹ منظور کیا ہے جس میں محاصل کو بڑھانے کے اقدامات کے ذریعے ٹیکس بیس کو وسیع کرتے ہوئے مالیاتی پائیداری کو معتبر انداز میں بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ یوٹیلٹی کی قیمتوں اور بجٹ کے دیگر اقدامات سے مالی سال 20 کی پہلی ششماہی میں قیمتوں میں ایک بار خاصا اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کا سلسلہ بھی ختم کرنے کا عزم کیا ہے جس سے مہنگائی کے منظرنامے میں معیاری  بہتری آئے گی۔ آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پہلی قسط کی موصولی، تیل کی سعودی سہولت  کے بروئے کار آنے اور کثیر طرفہ و دوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے  امداد کے دیگر وعدوں کے نتیجے میں بیرونی مالکاری کا منظر نامہ مزید مضبوط ہوا ہے۔ جاری کھاتے کا خسارہ مسلسل گھٹ رہاہے  جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی دبا میں کمی آتی جارہی ہے۔ دوسری جانب پچھلے زری پالیسی کمیٹی اجلاس  کے بعد سے شرح مبادلہ میں کمی  سے مہنگائی کا دبا بڑھا ہے۔ آخرا، بین الاقوامی محاذ پر ابھرتی ہوئی منڈیوں کی جانب احساسات بہتر ہوئے ہیں اور امریکہ میں پالیسی ریٹ میں کٹوتی کی زیادہ توقعات ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 19 میں ملکی طلب کے کم ہوکر تقریبا 3 فیصد اور جی ڈی پی نمو کے 3.3 فیصد ہوجانے کا امکان ہے۔ اگرچہ موجودہ بلند تعدد اظہاریے معاشی سرگرمی میں سست رفتاری کی نشاندہی کرتے ہیں تاہم آئی ایم ایف کی مدد سے چلنے والے پروگرام، شعبہ زراعت کی بحالی اور برآمدی صنعتوں کے لیے حکومتی ترغیبات کے بتدریج اثر سے پیدا ہونے والے مارکیٹ کے بہتر احساسات کے نتیجے میں سال کے دوران یہ صورت ِحال تبدیل ہونے کی توقع ہے۔اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مالی سال 20 میں حقیقی جی ڈی پی نمو لگ بھگ 3.5 فیصد رہے گی  مگر یہ تازہ ترین دستیاب معلومات سے مشروط ہے۔رضا باقر نے کہا کہ  بیرونی حالات میں مسلسل بہتری دکھائی دے رہی ہے اور جولائی تا مئی مالی سال 19 میں جاری کھاتے کا خسارہ 29.3 فیصد کم ہوکر 12.7 ارب ڈالر ہوگیا  ہے جبکہ یہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 17.9 ارب ڈالر تھا۔اس بہتری کی بنیادی وجہ درآمدی سکڑا اور کارکنوں کی ترسیلات ِزر کی بھرپور نمو ہے۔ برآمدی حجم بڑھتا رہا ہے حالانکہ اکائی قیمتوں میں کمی کے باعث برآمدی قدریں پست رہی ہیں جیسا کہ حریف برآمدی ممالک کو بھی تجربہ ہوا ہے۔ برآمدی کارکردگی میں آئندہ  تبدیلیوں کا انحصار بھی ہمارے تجارتی شراکت داروں کی شرح نمو اور ملکی ساختی رکاوٹیں دور کرنے میں پیش رفت پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کی پہلی قسط کی موصولی کے بعد 12 جولائی 2019 کو اسٹیٹ بینک کے زر ِمبادلہ کے ذخائر بڑھ کرتقریبا  8 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔ سعودی تیل کی سہولت سمیت دیگر عالمی قرض دہندگان کی جانب سے مزید رقوم کی آمد اور جاری کھاتے کے خسارے میں مسلسل بہتری کے نتیجے میں توقع ہے کہ ذخائر مالی سال 20 کے دوران مزید بڑھیں گے دوسری طرف سٹیٹ بینک آف پاکستان  نے کہا  ہے کہ حکومت کو پاور سیکٹر کے اخراجات اور سبسڈیز میں کمی کرنا ہوگی، حکومت کو پورے پاور سیکٹر میں اصلاحات لانا ہوں گی، اس  سے گھریلو اور برآمدی سیکٹر کو سستی بجلی ملے گی حکومت کو پاور سیکٹر کے اخراجات اور سبسڈیز میں کمی کرنا ہوگی، پاور سیکٹر کو ادائیگوں میں زیادہ تر کپیسٹی پے منٹس ہوتی ہیں۔ کپیسٹی پے منٹس میں اضافے نے سستے ایندھن کے فائدے کو زائل کر دیا۔اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ٹرانس میشن، ڈسٹری بیوشن کی بہتری کے لیے سرمایہ کاری درکار ہے، جنریشن کپیسٹی میں اضافے سے بجلی نرخوں میں اضافہ ہوا۔ حکومت کو پورے پاور سیکٹر میں اصلاحات لانا ہوں گی۔سٹیٹ بینک کے مطابق اصلاحات سے گھریلو اور برآمدی سیکٹر کو سستی بجلی ملے گی، پورے توانائی سیکٹر کو ایفیشنٹ اور مالی طور پر مستحکم ہونا ہوگا۔ آئی پی پیز کے بیشتر معاہدے 4 سے 5 سال میں مکمل ہو رہے ہیں۔ آئندہ معاہدوں میں حکومت کو طویل مدتی پالیسی کو مدنظر رکھنا ہوگا۔اس سے قبل ایک رپورٹ میں اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہونے لگی ہے، رواں مالی سال کے دوران 59 فیصد کی کمی نوٹ کی گئی۔اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی 50 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران 1 ارب 73 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔

مانیٹری پالیسی

مزید :

صفحہ اول -