داؤد یونیورسٹی سیپا کو تکنیکی سہولتیں فراہم کریگی، مفاہمتی یادداشت پر دستخط

  داؤد یونیورسٹی سیپا کو تکنیکی سہولتیں فراہم کریگی، مفاہمتی یادداشت پر ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ انرجی اینڈ انوائرمنٹ انجینئرنگ اور سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کے درمیان ماحولیات کی بہتری، مشترکہ ریسرچ سمیت دیگر امور سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے۔ مفاہمتی یادداشت کی سادہ اور پروقار تقریب داؤد یونیورسٹی کے کانفرنس روم میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی نوابزادہ محمد تیمور تالپور تھے۔ معزز مہمان خصوصی اور داؤد یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی کی موجودگی میں ڈائریکٹر جنرل سیپا انجینئر نعیم احمد مغل اور رجسٹرار داؤد یونیورسٹی ڈاکٹر سید آصف علی شاہ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے۔ مفاہمتی یادداشت کے تحت داؤد یونیورسٹی سیپا کو مواد کی ٹیسٹنگ کیلئے تکنیکی سہولتیں فراہم کرے گی جبکہ دونوں ادارے ایک دوسرے کی لیبارٹریز، آلات، مواد اور مہارت سے مستفید ہوسکیں گے، داؤد یونیورسٹی کا شعبہ انوائرمنٹ سیپا کے افسران اور اہلکاروں کو تربیت فراہم کرے گا جبکہ سیپا شعبہ انوائرمنٹ کے طلباء، ریسرچ فیلوز اور اساتذہ کو مواد اور سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔ داؤد یونیورسٹی اور سیپا ایک دوسرے کو انوائرمنٹ امپکٹ اسسمنٹ (ای آئی اے) میں بھی مدد کریں گے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نوابزادہ محمد تیمور تالپور نے کہا کہ ہم کراچی سمیت سندھ کے تمام علاقوں کو آلودگی سے پاک ماحول دینا چاہتے ہیں، اس مفاہمتی یادداشت سے سیپا کو یہ فائدہ ہوگا کہ وہ شہر بھر سے پینے کے پانی اور آلودہ پانی کے جو نمونے اکھٹے کئے جائیں گے اسے داؤد یونیورسٹی کی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروایا جائے گا، اس سے بہتر نتائج ملیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ شہر کو صاف رکھنے اور یہاں ماحولیات کو بہتر بنانے کیلئے جس حد تک ممکن ہے اپنے محدود وسائل میں کام کررہی ہے کیونکہ پہلے ہی وفاق نے ہمارے فنڈز روک رکھے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام خصوصاً نوجوانوں کو بھی چاہئے کہ وہ آگے آئیں اور شہر کی ماحولیات کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، کچرا جلانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے انتہائی خطرناک گیسیں نکلتی ہیں جو شہریوں کو مختلف بیماریوں خاص طورپر سانس کے عارضے میں  مبتلا کردیتی ہے، اس لئے تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ نہ صرف کچرا جلانے سے گریز کریں بلکہ دوسرے شہریوں میں بھی اس سے متعلق شعور اور آگاہی پھیلائیں تاکہ ہم شہر کو آلودگی اور خطرناک گیسوں سے پاک ماحول دے سکیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -