سلیکشن بورڈ ہائی کورٹ ڈیرہ بینچ کے احکامات کی روشنی میں کروایا جا رہا ہے:ترجمان گومل یونیورسٹی

سلیکشن بورڈ ہائی کورٹ ڈیرہ بینچ کے احکامات کی روشنی میں کروایا جا رہا ...

  

ڈیرہ اسماعیل خان ( بیورورپورٹ)گومل یونیورسٹی کے ترجمان نے سوشل میڈیا اور بعض اخبارات میں غیر قانونی طریقے سے سلیکشن بورڈ کرانے کی بات اور یونیورسٹی میں گورنرخیبرپختونخوا کی طرف سے پابندیوں کے باوجود سلیکشن بورڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سلیکشن بورڈ ہائی کورٹ ڈیرہ بینچ کے احکامات کی روشنی میں کروایا جا رہا ہے جوکہ گواسا کے صدر ڈاکٹر بدر اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شکیب اللہ نے دائر کی تھی۔ جس میں بعد میں باقی اساتذہ کرام اور ایڈمن کے افسران نے بھی رٹ پٹیشن جمع کی۔ فاضل عدالت نے فرداً فرداً تمام رٹ پٹیشنوں میں یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن کو فوراً سلیکشن بورڈ کی ہدایات کیں اور مزید احکامات میں یہ شرط ضرور لگائی کہ جن کی سکروٹنی مکمل ہے انکا فوراً سلیکشن بورڈ کیا جائے۔ ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے نوکریوں کیلئے بھرتیوں پر اپنی لگائی گئی پابندیوں کو23ویں سینٹ اجلاس میں ختم کر دیا ہے۔ جس کے منٹس منظوری کے بعد یونیورسٹی کو مل چکے ہیں۔ لہٰذا اب نوکری پر کوئی پابندی نہیں رہی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی میں اس وقت45فی صد فیکلٹی کی پوزیشنیں خالی ہیں۔ جن کو فکس پے اور نیڈ بیسڈ پرلوگوں کو بھرتی کرکے نظام چلایا جا رہاہے واضح رہے کہ طلباءکی تعداد ساڑھے چار ہزار سے 12ہزار ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا کر رہی ہے۔ ہونیوالے سلیکشن بورڈ کسی ایک ڈیپارٹمنٹ، فیکلٹی یا شخص کے لئے نہیں بلکہ یونیورسٹی کے بہترین مفاد میں منعقد کیا جا رہاہے اور سلیکشن بورڈ میں جتنے بھی ایکسپرٹ کوبلایا جارہاہے وہ پہلے سے مختلف ڈیپارٹمنٹس کے بورڈ آف سٹڈیز، اکیڈمک کونسل اور سنڈیکیٹ لسٹ میں موجود ہیں جو کہ منظور شدہ ہے تمام سوشل میڈیا اور اخباری نمائندگان سے درخواست کی جاتی ہے کہ بغیر تصدیق کے کوئی خبر آگے نہ بڑھائیں کیونکہ اس سے اس مادر علمی کی بدنامی اور اس علاقے کو نقصان کی طرف دھکیلا جا تا ہے۔ اس طرح کی خبریں وہ لوگ پھیلا رہے ہیں جو کہ 2008اور 2014میں انڈ انکوائری ہیں یا نوکری سے کرپشن اور دیگر الزامات پر نکالے گئے ہیں۔جبکہ گومل یونیورسٹی میں یونیورسٹی ڈسپلنری کمیٹی کا انعقاد ہوا۔جس میں ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن الحاج دلنواز خان ، تمام شعبہ جات کے ڈین ،پرووسٹ، چیف پراکٹر سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ میٹنگ میں یونیورسٹی سے نکالے گئے 5طلباءکی اپیل سمیت یونیورسٹی ہاسٹلز کی موجودہ صورتحال اور بقایا جات کی مد میں ہونیوالی ریکوری پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ میٹنگ میں ممبران نے فیصلہ کیا کہ یونیورسٹی فیسوں کی مد میں بقایاجات کی ادائیگی 'یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن کوبند کرنے اور غیر قانونی طور پر ہاسٹل میں رہنے پر ان 5طلباءکو یونیورسٹی سے نکالا گیا تھاجس پر ان طلباءنے یونیورسٹی ڈسپلنری کمیٹی کو ذاتی شنوائی کیلئے اپیل کی جو کہ قانونی طورپر غلط ہے ان طلبائ کو ایپلٹ کمیٹی کو اپنی ذاتی شنوائی کیلئے درخواست دینی چاہئے تھی کیونکہ کسی بھی غیر قانونی وجہ پر یونیورسٹی سے نکالے گئے طلباءاپنی ذاتی شنوائی کے لئے ایپلٹ کمیٹی کو درخواست دیتے ہیں۔ اس لئے یونیورسٹی ڈسپلنری کمیٹی ان کی ذاتی شنوائی سننے کی قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس موقع پر پرووسٹ نے ممبران کو بتایا کہ یونیورسٹی میں ہاسٹل کے بقایا جات کی میں ابھی تک ہمیں 20لاکھ 50ہزارایک سو69 روپے کی رقم موصول ہو چکی ہے اور باقی طلباءبھی اپنے بقایاجات کی رقم کی ادائیگی شروع کئے ہوئے ہیں۔ ہاسٹل طلباءکو بقایا جات کی ادائیگی کے بعد یونیورسٹی میں داخل ہونے اور ہاسٹل میں رہنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ کوئی بھی طلبائ اب غیر قانونی طور پر ہاسٹل میں نہیں رہ سکتا۔جلد ہی تمام وہ طلبائ جن کے ذمہ یونیورسٹی کی فیسوں یاپھر ہاسٹل کی مد میں بقایا جات ہیں ادائیگی کر دیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -