حویلیاں میں ناقابل فروخت رقبہ بھاری نذرانوں کے بعد فروخت کردیا گیا

حویلیاں میں ناقابل فروخت رقبہ بھاری نذرانوں کے بعد فروخت کردیا گیا

  

حویلیاں ( رپورٹنگ ٹےم ) محکمہ مال حویلیاں کی ملی بھگت درےائے دوڑ پر واقع ناقابل فروخت رقبہ بھاری نذرانوں کے بعد فروخت کر دےا گےا رےکارڈ کے مطابق فروخت کنندہ افراد کی لسٹ مےں محکمہ مال حوےلےاں کے متعدد پٹوارےوں کے نام بھی شامل ہےں جبکہ محکمہ مال کی قانونی کتاب واجب الارض اور بورڈ آف رےونےو کے آرڈرنمبر 140-146 کےمطابق آبی گزر گاہ کے قرےب تعمےرات پر مکمل پابندی ہے جسکے تحت شاملاتی رقبہ ناتو فروخت ہو سکتاہے اور نا ہی وہاں کسی قسم کی تعمےرات ہو سکتی ہے تفصےلات کے مطابق لنگرہ پل حوےلےاں کی حدود سے بےگہ ،حوےلےاں گاو¿ںتک درےائے دوڑ کے دائےں طرف شاملاتی رقبہ مےں رہائشی مکانات کےلئے خرےدوفروخت کا سلسلہ کافی عرصہ سے جاری ہے جو کہ کسی بھی وقت پانی کے بڑے رےلے کی صورت مےں خطرے کا باعث بن سکتا ہے عوام کے مطابق سن 1992 کے ان ہی دنوں مےں درےائے دوڑ مےں طغےانی کے باعث درجنوں گھرانے اجڑ گے تھے اور درےائے دوڑ کے دونوں اطراف مکمل طور پر پانی پھےل چکا تھا حتی کہ لنگرہ پل کے اوپر سے پانی گزر رہا تھا جس نے گردونواح مےں بنائے گے باغات و دےگر تعمےرات کو اپنی لپےٹ مےں لے لےا تھا لےکن اسکے بعد محکمہ مال کے افسران کی لالچ ،حوس اور انکے مردہ ضمےروں کے تحت آج بھی وہ ہی پرانا سلسلہ دوبارہ شروع ہے جسکی وجہ سے آج جو درےائے دوڑ کی چوڑائی تقرےبا 500فٹ تھی وہ سکڑ کر 20,30فٹ تک محدود ہو چکی ہے جسکے تحت مذکورہ مقامات پر رہائشی تعمےرات کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہے ابتدائی معلومات کے مطابق درےائے دوڑ کے گردونواح کا رقبہ قانونی طور پر ناقابل فروخت ہے محکمہ مال حوےلےاں کے عملہ کی ملی بھگت کے تحت ناصرف رقبہ کی فروخت جاری ہے بلکہ خرےدوفروخت کے عمل مےں محکمہ مال حوےلےاں کے پٹوارےوں کے نام بھی شامل ہےں شاملات دےہہ کے مالکان نے متعدد مرتبہ ڈپٹی کمشنر اےبٹ آباد اور اسسٹنٹ کمشنر کو تحرےری درخواستےں حتیٰ کہ مالکان ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کو ان کے دفاتر مےں کر اس معاملہ سے آگاہ کر چکے ہےں مگر تاحال کوئی عملدرآمد نہ ہو سکا ےہ لمحہ فکرےہ ہے ان کو عملدرآمدپر کو ن سے عوامل ہےں جو انکی راہ مےں رکاوٹ ہےں ےہ اےسی جگہ ہے جو برساتی نالہ ہے جسکی زندہ مثال کشمےر ،چترال ،سوات اور پنجاب ہے جہاں ہر سال سےلابی رےلے بہتے ہےں اور جس سے بستےوں کی بستےاں صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہےں اگر ےہاں کا بھی ےہی حال ہوا تو زمہ دار کون ہو گا شاملات دےہہ کے مالکان ارباب اختےار سے مطالبہ کرتے ہےں کہ ملک کے دےگر اضلاع کی طرح حوےلےاں مےں بھی دفعہ 144کا نفاذ کرکے غےر قانونی تعمےرات کو بند کروانے کے ساتھ سابقہ و موجودہ ادوار مےں ہونے والے بوگس انتقالات کا خاتمہ کر کے انکی مکمل انکوائری سمےت محکمہ مال کے قانون واجب الارض کے مطابق متعلقہ زمےن کو اصلی مالکان تک سونپ کر ناجائز قبضوں کو ختم کروائے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -