ملک کے وسائل لوٹنے والوں سے پائی پائی وصول کریں گے ، شوکت علی یوسفزئی

ملک کے وسائل لوٹنے والوں سے پائی پائی وصول کریں گے ، شوکت علی یوسفزئی

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ ملک میں وسائل بے تحاشہ ہےں لیکن بدقسمتی سے ہمیں گزشتہ چھیالیس سالوں کے دوران مخلص اور درست لیڈر شپ نہیں ملے جو پچھلے 35 سالوں سے کے دوران بجلی کی ٹرانسلیشن لائن بدل سکتے ۔ پاکستان کے وسائل کرپٹ حکمرانوں نے لوٹے ےڈومور کا مطالبہ کرنے والے وزیراعظم عمران خان سے سے ملنے کے لئے بے چین ہےں انہوں نے کہا کہ ملک سے غربت کے خاتمے اور ترقی کے لئے تعلیم کا حصول ناگزیر ہے۔ سیاست یا عہدے پر فائز ہونا کسی کی جاگیر نہیں ۔ مسلسل محنت اور لگن سے کامیابی ضرور ملتی ہے قانون کے دائرے میں رہ کر کرپٹ حکمرانوں اور لوگوں سے لوٹی ہوئی رقم واپس لیں گے وہ نشتر حال پشاور میں الخدمت فاو¿نڈیشن کے زیر اہتمام اسکولوں میں میٹرک کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن لینے والے طلبا کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ملک میں گیس پانی سمیت تمام وسائل موجود ہےں لیکن سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور کرپشن سے ملک معاشی مشکلات کا شکار ہوا غلط پالیسیوں کی وجہ سے آئی پی پیز اِس سے مہنگے داموں بجلی پیدا کر رہے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں صحیح فیصلوں کی وجہ سے تمام مشکلات پر جلد قابو پا لیں گے پوری قوم جانتی ہے اور مطمئن ہے کہ وزیراعظم عمران خان چور نہیں ہے۔ الخدمت فاو¿نڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے، صوبائی وزیر نے کہا کہ اتنی مشکلات کے باوجود خود پورے ملک میں 12,650 طالب علموں کی دیکھ بالکل قابل ستائش ہے اتنی سہولیات کی فراہمی کے بعد طلباءکی ذمہ داری ہے کہ وہ محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کریں اور ملک کی خدمت کرےں آج کے طلباءہمارے روشن کل کی ضمانت ہے۔ غریب ہونے کے باوجود اپنی محنت اور جدوجہد کی وجہ سے صوبے کا دو بار وزیر بنا کر صحافت اور سیاست سمیت جو بھی کام کیا پوری دیانتداری اور اہداف کو نظر میں رکھ کر پوری کوشش کی، کامیابی اللہ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے چار سے پانچ کلومیٹر پیدل سفر کرتا تھا کیونکہ علاقے میں اسکول نہیں تھا آج اپنے علاقے شانگلہ میں 77 سڑکوں کی تعمیر اور 28 سکولوں کے منصوبہ پر کام شروع ہو چکا ہے

پشاور(سٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ مردان میں محکمہ اوقاف کی 3300 کنال زمین قبضہ سے واگزار کرا لی گئی ہے صوبے میں محکمہ اوقاف کی 1450کنال زمین پر سرکاری دفتر قائم کیے گئے ہیں جن کو محکمے کی طرف سے نوٹس جاری کردیے گئے ہیں محکمہ اوقاف کا کرسچن میرج اور طلاق ترمیمی بل تکمیل کے آخری مراحل میںہے جس میں شادی کی عمر 18سال اور الزام لگانے کے بعد طلاق دینے کے لیے ثبوت بھی پیش کرنا ہوںگے۔ صوبے اور ضلغی سطح پر علمائ اور مشائخ کونسل محکمہ اوقاف کی طرف سے بنائے جارہے ہیں تاکہ بین المذاھب ہم آہنگی پیدا ہو انہوں نے کہا کہ آئندہ ADP میں اقلیت اور مذہبی مدارس کے طلبہ کو فنی ہنر سکھانے کے لیے فنڈز مختص کر دیئے گئے ہیں جبکہ اقلیتی گرانٹ میں بیوہ کے لیے 10,000 جہیز گرانٹ 30,000 اور میڈیکل کے لیے20,000 ہزار روپےررکھے گئے ہیں جبکہ طالبعلموں کے لیے سکالر شپ کی مد میں2500 روپے ملیںگے وہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی ہدایت پر محکمہ اوقاف کی کارکردگی کے حوالے سے منقعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے محکمہ اوقاف کے ایڈیشنل سیکرٹری جہانزیب خان محکمہ اوقاف کے ڈپٹی ایڈمنسٹرٹر ارشد کمال او ر پلاننگ افیسر سجاد علی سمیت محکمہ کے دیگر اعلٰی افسران بھی موجود تھے صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ محکمہ اوقاف کے پاس 65 ہزار کنال زمین ہونے کے باوجود ایک غریب محکمہ ہیں کیو نکہ محکمہ کے زیادہ تر زمینوں پر قبضہ ہوگیا ہوا محکمہ اوقاف کی زمین واگزار کرانے کے لیے سخت سے سخت قوانین بنائے جا رہی ہیں صوبے میں قبرستانوں کے لیے زمین کی موجودگی یقینی بنانے کے لیے نئی ہاو¿سنگ سکیموں میں پارک اور اور قبرستان کی موجودگی کو محکمے کی طرف سے لازمی قرار دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ اوقاف اقلیتی امور کی طرف سے بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے پشاور میں سکھ کمیونٹی کے لیے 0.5ملین روپے سے سکول بنایا جائے گا جبکہ اقلیتوں کو مختلف قسم کے ہنر سکھانے کے منصوبے کیلئے 40 ملین روپے مختص کردیئے گئے ہیں جبکہ اقلیتوں کے مختلف قسم کے تہواروں کو بھی سرکاری سطح پر منانے کے لئے انتظامات کیے جائیں گے شوکت یوسفزئی نے مذہبی امور کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اوقاف کے20 ترقیاتی منصوبے ہیں جن کیلئے ٹوٹل چار سو ملین روپے مختص کئے گئے مذہبی امور کیلئے 234.271 ملین روپے اور اقلیتوں امور کے لیے 165.729 ملین روپے شامل ہیں دارالعلوم حقانیہ کی تعمیر و بحالی کے لیے 25.736ملین روپے مختص کیے ہیں مدرسہ جامعہ کریمیہ غفوریہ چراٹ روڈ کے لئے 10 ملین روپے رکھے گئے تھے جبکہ بونیر میں ماڈل دینی مدرسے کے قیام اور زمین کی خریداری کے لیے پانچ ملین روپے مختص کیے ہیں ۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کو وظائف دینے کے لئے محکمہ اوقاف نے منصوبے کے تحت 15 ملین روپے مختص کئے ہیں وظیفے دینے کے طریقہ کار کو پی سی -ون( PC1) میںوضع کیا جا ئیگا۔جبکہ مساجد ،دارالعلوم اور دینی مدارس کی مرمت اور تعمیر کے لیے بھی 15 ملین روپے مختص کیے گیئے ہیں۔جبکہ مساجد کو سولر انرجی سسٹم پر بھی منتقل کیا جائیگا۔

مزید :

صفحہ اول -