پائیدارترقی کاخواب کلین گرین پاکستان کے بغیرممکن نہیں:ملک امین اسلم

پائیدارترقی کاخواب کلین گرین پاکستان کے بغیرممکن نہیں:ملک امین اسلم

  

اسلام آباد(پ ر)وزیراعظم کے مشیربرائے ماحولیاتی تبدیلی امین اسلم نے کہاہے کہ پائیدارترقی کاخواب کلین گرین پاکستان کے بغیرممکن نہیں۔پاکستان میں پلاسٹک یگ کوبندکرنے سے متعلق ماضی کی تمام قانون سازیاں بے اثرثابت ہوئیں۔موجودہ حکومت نے دیگر ممالک کے قوانین کامطالعہ کرکے ان کی روشنی میں ایک مربوط قانون مرتب کیاہے جس کی منظوری کابینہ نے د ے دی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک پریس بریفنگ میں کیاملک امین اسلم کی بات کوسراہتے ہوئے کہاکہ صاف شفاف پاکستان ہماری آئندہ نسلوں کے لیے بے حد ضروری ہے جبکہ بدعنوانی کاخاٹمہ ملک معیشت کے لیے ناگزیرہے۔مشیربرائے موسمیاتی تبدیلی نے کہ رواں سال مون سون کی شجرکاری مہم کاآغاز جولائی کے اواخرمیں ہوگا۔اس مہم کے تحت پورے ملک میں 14کروڑپودے لگائے جائیں گے جبکہ اس ضمن میں 400تقاریب کا انعقاد عمل میں لایاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ 1990ء میں پاکستان میں سالانہ ایک کروڑپلاسٹک کی تھیلیاں زیراستعمال تھیں جبکہ آج کل یہ تعداد 55ارب سے تجاوز کرگئی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2050 ء تک عالمی سمندروں میں پلاسٹک کی تھیلیوں کی تعداد آبی حیات سے تجاوز کرجائے گی۔یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنی ذمہ داریوں کااحساس کرتے ہوئے ایک موثرقانون سازی کی منظوری دی۔مزید تفصیلات بتاتے ہوئے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی نے کہاکہ مجوزہ قانون کے تحت اسلام آباد میں پلاسٹک تھیلی استعمال کرنے،بیچنے خریدنے اور بنانے والوں پربھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایاکہ ان کی حکومت متبادل بیگ فراہم کرے گی جو ابتدائی طورپرمفت تقسیم کیے جائیں گے

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -